برلن کا مشہور نائٹ کلب، انتہائی مہلک بیکٹیریا کے باعث وارننگ | معاشرہ | DW | 03.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

برلن کا مشہور نائٹ کلب، انتہائی مہلک بیکٹیریا کے باعث وارننگ

جرمن دارالحکومت برلن میں حکام ایک بہت مشہور نائٹ کلب کا رخ کرنے والے مہمانوں کو وہاں پائے گئے ایک انتہائی مہلک بیکٹیریا کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔ حکام کے مطابق ممکن ہے کہ یہ مہمان اس بیکٹیریا سے متاثر ہو چکے ہوں۔

برلن کے اس معروف نائٹ کلب کا نام ’کِٹ کَیٹ کلب‘ ہے اور اس کے بارے میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ وہاں ’ہر چیز اور ہر کام ممکن‘ ہوتا ہے۔ یہی نائٹ کلب ایک ’سیکس کلب‘ کے طور پر بھی بہت زیادہ شہرت رکھتا ہے، جہاں صحت عامہ کے محکمے کے اہلکاروں کو ایک ایسے بیکٹیریا کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں، جو کسی بھی انسان کے لیے چند ہی گھنٹوں میں زندگی کے شدید خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔

طبی ماہرین نے اس بیکٹیریا کا نام ’نائسیریا مَینِنگی ٹِیڈِس‘ (Neisseria meningitidis) بتایا ہے اور خاص طور پر ویک اینڈ پر بہت زیادہ رش کے دنوں میں اس کلب کا رخ کرنے والے اور عیش و عشرت کے دلدادہ افراد کو یہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ اس بیکٹیریا سے متاثر ہو چکے ہوں۔ اسی لیے ایسے تمام افراد کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ طبی ماہرین سے مشورے کر کے اپنے طور پر یہ تسلی کر لیں کہ وہ اس بیکٹیریا کا شکار نہیں ہوئے۔

اپنی اس تنبیہ میں برلن شہر کے ’رائنِکّن ڈورف‘ (Reinickendorf) نامی حصے کے بلدیاتی حکام کی طرف سے کہا گیا ہے، ’’وہ تمام افراد جو انتیس ستمبر کو کسی بھی وقت اس کلب میں گئے تھے، انہیں اپنے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کر کے یہ پتہ چلا لینا چاہیے کہ وہ اس بیکٹیریا سے متاثر تو نہیں ہوئے۔ ’نائسیریا مَینِنگی ٹِیڈِس‘ نامی یہ بیکٹیریا meningitis کی بیماری کی وجہ بن سکتا ہے۔

اپنے ہاں بجائی جانے والی بہت اونچی موسیقی کی وجہ سے انتہائی معروف برلن کے اس کلب کے بارے میں یہ بھی ایک طے شدہ بات ہے کہ وہاں مہمانوں کے مابین کھلے عام جنسی رابطے بھی معمول کی بات ہیں۔ لیکن طبی حوالے سے تشویش کی بات یہ ہے کہ وہاں ماہرین کو جس بیکٹیریا کی اے، سی، وائی اور ڈبلیو ایک سو پینتیس نامی اقسام کی موجودگی کے ثبوت ملے ہیں، وہ جس بیماری کا سبب بنتا ہے، وہ دماغ کی اندرونی سطح کو سوزش کا شکار بنا دیتی ہے۔

یہ بیکٹیریا انسانی لعاب یا نظام تنفس کی کارکردگی کے دوران جسم سے خارج ہونے والی رطوبتوں سے پھیلتا ہے اور اسی لیے حکام کو خدشہ ہے کہ ممکنہ طور پر بہت سے افراد اس کا شکار ہو چکے ہوں گے۔ اس بیماری کی عمومی علامات میں سر درد، تیز بخار، سردی لگنا، غنودگی، گردن کا اکٹر جانا اور جسمانی طور پر شدید نقاہت شامل ہیں۔

یہ مہلک جرثومہ چند ہی گھنٹوں میں ایک ایسی انفیکشن کی وجہ بن سکتا ہے، جو انسانی زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر بروقت علم ہو جائے تو اس جرثومے سے متاثرہ افراد کا اینٹی بائیوٹکس کی مدد سے علاج ممکن ہوتا ہے۔

برلن کا یہ ’کِٹ کَیٹ کلب‘ جرمن دارالحکومت کے نائٹ کلبوں میں سے اپنے مہمانوں کو روایتی سے ہٹ کر ’متبادل امکانات‘ پیش کرنے والا ایسا مشہور ترین کلب ہے، جہاں بہت بڑی تعداد میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے مہمان آتے ہیں۔

چیز ونٹر / م م / ا ا

DW.COM