برلن، جہاں لوگ ہجوم میں بھی ’تنہا‘ ہیں | معاشرہ | DW | 18.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

برلن، جہاں لوگ ہجوم میں بھی ’تنہا‘ ہیں

جرمن دارالحکومت برلن کو تنہا لوگوں کا شہر قرار دیا جا رہا ہے۔ ہر دوسرے گھر میں فرد واحد مقیم ہے۔ اس شہر میں تنہائی ایک وبا کی طرح پھیل چکی ہے۔ تنہا ہونے کو ایک عالمی وبا کے طور پر بھی لیا جا رہا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کی برلن برانچ نے اپنی لیڈر سے درخواست کی ہے کہ ملکی دارالحکومت میں تنہائی کے روگ کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا منصب تخلیق کیا جائے اور اِسے کمشنر برائے انسدادِ تنہائی کہا جائے۔ اس وقت خاص طور پر بڑی عمر کے افراد زیادہ تنہائی کا شکار ہیں۔

اس مطالبے کے جواب میں حکمران سیاسی جماعت کے ترجمان مائیک پین نے کہا ہے کہ یہ ایک وقت طلب معاملہ ہے لہذا رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے ورکرز آگے بڑھیں اور اس مسئلے کو پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کریں تو صورت حال بہتر ہو سکتی ہے۔ مائیک پین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت رضاکارانہ طور پر برلن شہر میں پھیلی تنہائی کا تدارک نہیں کیا جا رہا۔

Symbolbild Senioren Einsamkeit (picture-alliance/chromorange/Media for Medical)

برلن میں سن 2018 میں اپارٹمنٹ پر تنہا رہنے والے تین سو انسان اپنی زندگی یاسیت کی فضا میں ہار گئے تھے

برلن میں کئی ایسی تنظیمیں ہیں جنہوں نے عمر رسیدہ افراد کی دل بستگی کے لیے ایسی ویب سائٹ بنا رکھی ہیں، جن پر وہ ہلکی پھلکی گپ شپ یا پرلطف پیغام رسانی یا مختلف موضوعات پر خیالات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یک طرفہ طور پر گپ شپ کسی فرد واحد کی تنہائی کو ختم  نہیں کرتی بلکہ آن لائن گپ شپ کے بعد یہ کیفیت بڑھ جاتی ہے۔

برلن شہر کے ایک نشریاتی ادارے کے مطابق جرمن دارالحکومت میں لاکھوں افراد شدید تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں اور اس صورت حال کو تبدیل کرنے یا اس کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات حکومتی اور معاشرتی ذمہ داری کے زمرے میں آتے ہیں۔ برلن کی آبادی تقریباً چھتیس لاکھ ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ تنہائی کا حجم بھی بڑھ رہا ہے۔

Symbolbild Depression (Colourbox)

یہ امر اہم ہے کہ تنہائی کو جدید ترقی یافتہ دور میں ایک عالمی وبا قرار دیا جا رہا ہے

سن 2018 میں برلن کے اخبار ٹاگس اشپیگل میں ایک رپورٹ  شائع ہوئی تھی اور اُس کے مطابق لاکھوں تنہائی کے شکار لوگوں کے لیے ایک ہزار تین سو رضاکار دستیاب ہیں۔ اسی رپورٹ میں بیان کیا گیا تھا کہ سن 2018 کے دوران اپنے اپارٹمنٹ یا مکان پر تنہا رہنے والے تین سو انسان اپنی زندگی یاسیت کی فضا میں ہار گئے تھے۔

سن 2017 میں مکمل کیے گئے جرمن حکومت کی سروے رپورٹ کے مطابق 45 سے 84 برس کے عمر  کے لوگوں کو بعض اوقات شدید تنہائی کی کیفیت لاحق ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگوں میں یہ کیفیت 15 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 59 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح جرمن ٹین ایجرز میں ہر چار میں ایک کو بھی تنہا ہونے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ تنہائی کو جدید ترقی یافتہ دور میں ایک عالمی وبا قرار دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں سن 2018 میں تنہائی کی وزارت قائم کر دی گئی۔ برطانیہ میں ایک ریسرچ رپورٹ نے واضح کیا کہ وہاں نوے لاکھ افراد کو تنہائی کا سامنا ہے۔ ایک برطانوی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق تنہائی کی وجہ سے نوجوان یا بڑی عمر کے لوگوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یہی تنہائی ڈپرشن کا بھی ایک بڑا سبب خیال کی جاتی ہے۔ ایک امریکی ریسرچ ادارے کے مطابق امریکا میں سن 1990 اور سن 2000 میں پیدا ہونے والی نسل میں تنہائی کا مسئلہ بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔

ایلزبتھ شوماخر (عابد حسین)

ویڈیو دیکھیے 02:02

سویڈن میں عمر رسیدہ افراد کے لیے اسپیڈ ڈیٹنگ کا منفرد طریقہ

DW.COM

Audios and videos on the topic