برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی، ایرانی پارلیمان میں بل منظور | حالات حاضرہ | DW | 27.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی، ایرانی پارلیمان میں بل منظور

ایرانی پارلیمان میں برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کو کم ترین سطح پر لے جانے کے لیے ایک قانونی مسودے کو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔

default

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر علی لاریجانی

ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث برطانیہ کی طرف سے حال ہی میں عائد کی گئی نئی پابندیوں کے بعد ایرانی پارلیمان نے اس قانونی بل کو منظور کیا ہے۔ ایرانی ریڈیو کے مطابق اتوار کو ہوئی ووٹنگ میں اس مسودے کے حق میں 87 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ اس مسودے کو قانونی شکل ملنے سے قبل ایران کی شورائی نگہبان کی طرف سے اس کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پارلیمان کے 179ممبران نے اس مسودے کے حق میں ووٹ ڈالا، گیارہ غیر حاضر رہے جبکہ چار نے اس کی مخالفت کی۔ جن چار ممبران نے اس بل کی مخالفت کی، ان کا مؤقف تھا کہ برطانیہ کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات سخت نہیں ہیں۔

اگر یہ قانون ایران کی گارڈین کونسل یعنی شورائی نگہبان سے منظور کر لیا جاتا ہے تو اس کے تحت ایران میں تعینات برطانوی سفیر کو بے دخل کر دیا جائے گا اور دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کم ترین درجے پر پہنچ جائیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی پارلیمان کے اسپیکر علی لاریجانی کے حوالے سے بتایا، ’ایران کا قانون ساز ادارہ برطانیہ کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا بغور مشاہدہ کر رہا ہے۔ ایرانی پارلیمان کی طرف سے یہ نیا قدم ابھی صرف ایک شروعات ہے‘۔

ایرانی ریڈیو پر براہ راست نشر کی جانے والی پارلیمانی کارروائی کے دوران ممبران نے برطانیہ کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔

ادھر برطانوی وزارت خارجہ نے ایران کی طرف سے سفارتی تعلقات میں کمی کے عمل کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے باعث تہران حکومت اور مغربی ممالک کے مابین تعلقات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ مغربی ممالک کو خدشات لاحق ہیں کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام سے جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ تہران حکومت ایسے الزامات کو ہمیشہ ہی مسترد کرتی رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: حماد کیانی

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار