برطانیہ اگلے برس یورپی یونین کی ششماہی صدارت سے دستبردار | حالات حاضرہ | DW | 20.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ اگلے برس یورپی یونین کی ششماہی صدارت سے دستبردار

برطانیہ کو اگلے برس چھ ماہ کے لیے یورپی یونین کی صدارت کرنا تھی لیکن اب برطانیہ اس سے دستبردار ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم ٹریزا مے کے دفتر کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یورپی حکام کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد اب برطانیہ نے باقاعدہ طور پر یورپی یونین کی ششماہی صدارت سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ لندن کو یہ فرائض سن دو ہزار سترہ کی دوسری ششماہی میں انجام دینا تھے۔ اطلاعات کے مطابق برطانیہ کی نئی خاتون وزیر اعظم ٹریزا مے نے منگل انیس جولائی کی شام پورپی کونسل کے سربراہ ڈونلڈ ٹُسک کو فون کرتے ہوئے انہیں اپنے اس فیصلے سے آگاہ کیا۔ گزشتہ ہفتے ڈیوڈ کیمرون کے بعد وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے والی اس خاتون کا یورپی یونین کے اعلیٰ حکام سے یہ پہلا باضابطہ رابطہ تھا۔

برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’وزیر اعظم نے یہ تجویز دی تھی کہ برطانیہ کو کونسل کی صدارت سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یورپی یونین کو چھوڑنے سے متعلق مذاکرات کو ترجیح دینا چاہیے۔‘‘

Großbritannien Theresa May

وزیر اعظم ٹریزا مے کے دفتر کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یورپی حکام کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے

دوسری جانب ڈونلڈ ٹُسک نے برطانیہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح انہیں مناسب منصوبہ بندی کرنے میں مدد ملے گی اور اب برطانیہ کی جگہ یہ ششماہی صدارت کسی دوسری یورپی ریاست کو سونپ دی جائے گی۔

یورپی یونین کی صدارت اس کے اب تک اٹھائیس رکن ممالک کے مابین تبدیل ہوتی رہتی ہے اور ہر چھ ماہ بعد یہ قیادت کسی نئے ملک کے حوالے کر دی جاتی ہے تاکہ تمام رکن ملکوں کا یورپی یونین کے اقتدار میں حصہ رہے۔ دوسری جانب یورپی یونین ممکنہ طور پر بدھ کی شام یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ اب برطانیہ کی جگہ یہ صدارت کس ملک کے حوالے کی جائے گی۔

فی الحال یہ صدارت سلوواکیہ کے پاس ہے اور اکتیس دسمبر کے بعد اگلے برس کے آغاز پر اسے مالٹا کے حوالے کر دیا جائے گا۔ برطانیہ نے یہ صدارت یکم جولائی سے اکتیس دسمبر دو ہزار سترہ تک سنبھالنا تھی۔ دریں اثناء برطانوی وزیر اعظم مے نے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین کو چھوڑنے کے حوالے سے ’تعمیری اور قابل عمل مذاکرات‘ چاہتی ہیں اور اس مکالمت کی تیاری میں انہیں ابھی کچھ وقت لگے لگا۔

ڈونلڈ ٹُسک نے بھی یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ لندن کی یورپی یونین سے علیحدگی کے عمل کو ہر ممکن حد تک آسان بنانے میں برطانوی وزیر اعظم کی مدد کریں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور دونوں رہنما جلد ہی لندن یا برسلز میں آپس میں ملاقات بھی کریں گے۔‘‘

اشتہار