برطانیہ اور ایران: سفارتخانے دوبارہ کُھل گئے | حالات حاضرہ | DW | 23.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانیہ اور ایران: سفارتخانے دوبارہ کُھل گئے

برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ نے آج اتوار کو ایران میں برطانوی سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا ہے۔ چار سال قبل تہران میں برطانوی سفارت خانے پر پتھراؤ کے بعد اسے بند کر دیا گیا تھا۔

ایران اور مغربی دنیا کے مابین ایک عرصے سے چلے آ رہے کشیدہ تعلقات میں بہتری کی ایک اور علامت تہران میں برطانوی سفارت خانے کا دوبارہ کھلنا ہے۔ تہران میں چار سال تک بند رہنے والے برطانوی سفارت خانے میں اتوار کو برطانوی سیکرٹری خارجہ فلپ ہیمنڈ نے مقامی وقت کے مطابق گیارہ بجے دن قدم رکھا۔ بعد ازاں سفارت خانے کے گارڈن میں ایک مختصر سی تقریب کا انعقاد ہوا جس میں فلپ ہیمنڈ کے ساتھ نو منتخب برطانوی chargé d'affaires یا کاردار بھی شریک تھے۔ کاردار ہی تہران میں برطانیہ کے اعلیٰ سفارت کار کی حیثیت سے تعینات کیے گئے ہیں۔

اُدھر آج اتوار ہی کو لندن میں ایرانی سفارت خانہ بھی دوبارہ کھولا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے سفیروں کی تقرری آئندہ مہینوں کے دوران متوقع ہے۔ تہران میں سفارت خانے کی بحالی کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریب کے بعد فلپ ہیمنڈ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب بھی کرنے والے ہیں۔ جواد ظریف ہی ایران اور مغربی طاقتوں کے مابین ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے سلسلے میں گزشتہ دو برسوں کے دوران غیر معمولی کردار ادا کر تے رہے ہیں اور تہران حکومت کی عالمی سطح پر تنہائی کو ختم کرنے میں بھی ظریف نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

Iran Wiedereröffnung britische Botschaft Grafitti Death to England

ایران اور برطانیہ کے تعلقات ماضی میں کافی کشیدہ رہے ہیں

ہیمنڈ نے اتوار کو تہران پہنچنے پر اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا،’’ 2003 ء کے بعد بحیثیت برطانوی وزیر ایران کا دورہ برطانیہ اور ایران کے باہمی تعلقات میں تاریخی لمحات کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔

14 جولائی کو ایران اور برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا کے مابین یورپی شہر ویانا میں طے پانے والے تاریخی جوہری معاہدے کے بعد سے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کی نشاندہی کرتے ہوئے یورپی ممالک نے غیر معمولی تیزی کا مظاہرہ کیا ہے۔

مذکورہ ڈیل کے تحت ایران اپنی ایٹمی سرگرمیوں میں کمی لائے گا جس کے عوض تہران پر لگی اقتصادی پابندیوں میں نرمی کر دی جائے گی۔ اس معاہدے کے طے پانے کے بعد 78 ملین کی آبادی والی تیل سے مالا مال اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ خود کو مربوط کرنے کی کوششوں میں بہت سے ممالک اور ریاستیں نظر آ رہی ہیں۔ ایران تیل کے علاوہ بھی دیگر صنعتوں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ کی حیثیت سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

Iran Wiedereröffnung britische Botschaft

تہران میں ایرانی سفارتخانے کی عمارت

برطانیہ اور ایران کے تعلقات میں سرد مہری اُس وقت سے کم ہونا شروع ہو گئی تھی جب 2013 ء میں ایران کے صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کو فتح نصیب ہوئی تھی۔ حسن روحانی ایران کے ایک معتدل سیاستدان مانے جاتے ہیں جنہوں نے مغرب کی طرف رابطے کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ اتوار کو تہران پہنچنے سے قبل برطانوی سیکرٹری خارجہ فلپ ہیمنڈ نے ایک بیان میں کہا تھا،’’حسن روحانی کا انتخاب اور گزشتہ ماہ طے پانے والا ایٹمی معاہدہ اہم ترین سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم مزید کافی آگے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔

2011 ء میں تہران میں قائم برطانوی سفارت خانے پر ہونے والے حملے کے بارے میں لندن حکومت نے کہا تھا کہ یہ کارروائی ایرانی حکومت کی خاموش رضا مندی کے بغیر عمل میں نہیں لائی جا سکتی تھی۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات