برطانيہ: روزگار کی جگہوں پر خطرات، تارکین وطن کو سب سے زیادہ | معاشرہ | DW | 24.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

برطانيہ: روزگار کی جگہوں پر خطرات، تارکین وطن کو سب سے زیادہ

ماہرین کے مطابق صحت اور سلامتی کے برطانوی محکمے کے بجٹ ميں کمی خصوصاﹰ تارکين وطن کے پس منظر والے ایسے کارکنوں کو زیادہ متاثر کرے گی، جو کم اجرتوں والی ملازمتيں کرتے ہيں، وہ بھی ايسی صنعتوں میں جہاں خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔

برطانيہ ميں روزگار کی جگہوں پر کارکنوں کی صحت اور حفاظت کے لیے انتظامات اعلیٰ معيار کے ہوتے ہيں اور حکام اس بات پر فخر بھی کرتے ہيں۔ البتہ نيشنل ہيلتھ اينڈ سيفٹی ايگزيکيٹو (HSE) کے بجٹ ميں کٹوتی اور نئی قانون سازی کے نتيجے ميں کئی ماہرين کو خدشہ ہے کہ یہ صورت حال اب تبديل ہو سکتی ہے۔ اس سے سب سے زيادہ متاثر وہ کارکن ہوں گے، جو کم اجرتوں والی ملازمتيں کرتے ہيں يا جو روزانہ کی بنياد پر ادھر ادھر کام کر کے اپنے لیے کچھ نہ کچھ آمدنی کو یقینی بناتے ہيں۔ عموماً تارکين وطن کے پس منظر والے افراد ہی ايسی ملازمتيں کرتے ہيں۔

برطانيہ ميں دفاتر اور کمپنيوں ميں حفاظتی انتظامات پر نگاہ رکھنے والی ايک تنظيم 'ہيزرڈز کيمپين‘ سے وابستہ ہِلڈا پامر نے بتايا کہ ماضی ميں برطانيہ ميں ملازمت کے دوران زخمی يا ہلاک ہو جانے والوں ميں سب سے زيادہ تعداد مشرقی يورپی ممالک کے باشندوں کی ہوتی تھی۔ پامر کے مطابق مہاجرين یا تارکین وطن خاص طور پر نازک صورت حال سے دوچار ہيں کيونکہ وہ عموماً ايسی صنعتوں ميں کام کرتے ہيں، جن ميں سلامتی سے متعلق پیشہ ورانہ خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔ پامر نے تعميرات، زراعت، ری سائيکلنگ وغيرہ جيسی چند صنعتوں کی مثال دی، جن ميں نيشنل ہيلتھ اينڈ سيفٹی ايگزيکيٹو کے اعداد و شمار کے مطابق کام کے دوران پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں زخمی يا ہلاک ہونے والوں کی تعداد سب سے زيادہ ہوتی ہے۔

ايچ ايس ای کے ريکارڈ کے مطابق مالی سال 2018 اور 2019ء ميں جائے روزگار پر زخمی ہو جانے اور پھر انتقال کر جانے والے کارکنوں کی تعداد 147 رہی۔ برطانيہ ميں قريب بتيس ملين افراد روزگار کی ملکی منڈی کا حصہ ہيں اور اس لحاظ سے ايک سال ميں تقریباﹰ ڈيڑھ سو کارکنوں کی موت کم از کم شماریاتی حوالے سے کوئی بہت غیر معمولی بات نہیں ہے۔ ليکن اگر روزگار ہی سے جڑے ہوئے ذہنی دباؤ، گاڑی چلا کر کام پر جانے کے دوران ہلاکتوں، ناقص ہوا ميں سانس لينے سے موت وغيرہ جيسے عوامل پر نظر ڈالی جائے، تو ايک دن ميں برطانیہ میں اوسطاً 140 افراد کی ہلاکت ہوتی ہے۔

ہِلڈا پامر کے بقول 'ہيزرڈز کيمپين‘ کے اندازوں کے مطابق برطانيہ ميں سالانہ بنيادوں پر جائے روزگار پر ڈيڑھ ہزار کارکن ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ روزگار سے منسلک وجوہات کی بنا پر اموات کی سالانہ تعداد 50 ہزار کے قریب ہوتی ہے۔ ايچ ايس ای کے مطابق 'ويسٹ اينڈ ری سائیکلنگ‘ کی صنعت ميں ایسے حادثات اور اموات کا تناسب سب سے زيادہ ہوتا ہے۔

'ہيزرڈز کيمپين‘ سے وابستہ ہِلڈا پامر نے مزید کہا کہ برطانيہ ميں ہر کاروباری اور پیداواری ادارے کے ليے لازمی ہے کہ اس کے ہاں ہر قسم کی جائے روزگار کسی بھی قسم کے خطرات سے پاک ہو۔ البتہ جب کارکنوں کی خدمات مختلف لیبر ايجنسيوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہیں، تو يہ تقاضے ہمیشہ پورے نہيں ہو پاتے۔ پامر کے مطابق ايچ ايس ای کے بجٹ ميں کٹوتی کے ساتھ ساتھ کارکنوں کی سلامتی سے متعلق ملکی قوانين ميں تراميم اور ٹریڈ يونينوں کے اختيارات ميں کمی جيسے عوامل بھی اس صورت حال کے ذمہ دار ہيں۔

ع س، ايما والس / م م