برطانوی پولیس اہلکارکے ہاتھوں خاتون کا قتل ملک بھر میں تشویش | حالات حاضرہ | DW | 13.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

برطانوی پولیس اہلکارکے ہاتھوں خاتون کا قتل ملک بھر میں تشویش

لندن کا ایک پولیس اہلکارخود پر لگے ایک خاتون کے اغوا اور پھر اُس کے قتل کے الزام کے بعد آج پہلی بارعدالت میں پیش ہوا۔ اس مجرمانہ واقعے سے برطانیہ میں خواتین کی سکیورٹی سے متعلق بہت زیادہ تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

لندن پولیس کا ایک اہلکار ہفتہ 13 مارچ کو خود پر لگے مجرمانہ الزامات کے سلسلے میں پہلی بار عدالت میں پیش ہوا۔ اس پر ایک خاتون کے اغوا اور قتل کا الزام عائد ہے۔ اس واقعے نے ملک بھر میں خواتین کے تحفظ کے بارے میں خوف و تشویش پھیلا دی ہے۔

48 سالہ وین کوزینس پر 33 سالہ خاتون سارہ ایورراڈ کے اغوا اور قتل کا الزام ہے۔ سارہ تین مارچ کی شب  جنوبی لندن میں ایک دوست سے ملاقات کے بعد اپنے گھر کی طرف جا رہی تھیں کہ رستے ہی سے وہ غائب ہو گئیں۔ گذشتہ بُدھ کو اُس کی باقیات جنوب مشرقی انگلینڈ سے 50 کلومیٹر دور جنگلوں سے برآمد ہوئیں۔ سارہ کے اس انتہائی پُراسرار اغوا اور قتل کے بعد سے پورے ملک میں شدید تشویش اور صدمہ پایا جاتا ہے۔ تمام خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ اپنے خوف اور تجربات شیئر کر رہی ہیں۔

دریں اثناء ملزم وین کوزینس ایک گرے ٹریک سوٹ میں ملبوس لندن کے ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ میں لایا گیا جہاں اُس نے صرف اپنی شناخت کی تصدیق کی اور پھر اُسے حراست میں لے لیا گیا۔ اُس کے وکیل نے تاہم کوئی عرضی دائر نہیں کروائی۔

برطانیہ: مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف جرائم میں اضافہ

منگل کو اس کیس کی سماعت ہو گی۔ کوزینس نے 2018 ء میں لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی تھی اور سارہا ایورراڈ کے قتل سے پہلے تک وہ غیر ملکی سفارتخانوں کی حفاظت پر مامور تھا۔

England I Leiche von Sarah Everard gefunden

سارہ ایورراڈ کی تلاش۔

اُدھر سارہ ایورراڈ کے قتل پر افسوس اور صدمے کا اظہار کر نے والے ایک مہم کے آرگنائزرز نے ’وجل‘ موم بتی کے ذریعے خراج عقیدت پیش کرنے کی تقریب کا اعلان کیا تھا۔ یہ تقریب عین اُسی جگہ پر منعقد ہونا تھی، جہاں سے سارہ غائب ہوئی تھی، تاہم ہفتے کی صبح اسے منسوخ کر دیا گیا۔ آر گنائزرز کو پولیس نے متنبہ کیا تھا کہ اس قسم کا کوئی بھی اجتماع کووڈ انیس کے سلسلے میں عائد پابندیوں کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔

بریگزٹ کے بعد برطانیہ میں نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ

سماجی کارکنوں کے اس گروپ Reclaim the Streets کے منتظمین نے اس بارے میں بیان دیتے ہوئے کہا،''یہاں کی میٹروپولیٹن پولیس کی کسی تعمیری مصروفیت کی کمی کی روشنی میں ہمیں آج رات کا یہ ایونٹ منسوخ  کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘

تاہم جائے وقوعہ پر عام شہریوں نے پھول رکھے، اسی مقام پر وجل کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اُدھر میٹروپولیٹن پولیس کی ایک کمانڈر کیتھرین روپر نے کہا،'' اس پروگرام کو منسوخ کر کے ہمیں کوئی خوشی نہیں ہو رہی۔ تاہم موجودہ دور کے کووڈ انیس کے خطرات کے پیش نظر یہ بروقت اور درست اقدام ہے۔‘‘

کورونا وبا کی موجودہ صورتحال میں انگلینڈ میں شہریوں کو اپنے گھروں سے باہر اپنی فیملی کے باہر کے کسی ایک شخص سے بھی ملنے کی اجازت نہیں ہے۔

33 سالہ خاتون سارہ ایورراڈ  مارکیٹنگ ایگزیکٹیو تھی۔ اس کی باقیات ملنے کے بعد پولیس کے ایک آزاد آفس برائے پولیس کنڈکٹ نے اس واقعے کی تفتیشی کارروائی شروع کر دی ہے۔

ک م/ ع ت/ رائٹرز، اے پی

  

DW.COM