برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے مستعفی ہو جائیں گی | حالات حاضرہ | DW | 24.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے مستعفی ہو جائیں گی

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے کہا ہے کہ وہ سات جون کو اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گی۔ ان کا دور حکومت بریگزٹ کی وجہ سے کافی مشکلات سے دوچار رہا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے جمعے کے دن ایک جذباتی خطاب میں اعلان کیا کہ وہ اپنے عہدے کو خیرباد کہہ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ سات جون کو مستعفی ہو جائیں گی۔ تاہم اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کے دوران وہ بطور وزیر اعظم ان کا استقبال کریں گی۔

 مے نے کہا ہے کہ وہ قدامت پسند پارٹی کی سربراہی کو بھی خیرباد کہہ دیں گی۔ اس خطاب کے دوران مے نے بریگزٹ ڈیلیور نہ کر سکنے کے حوالے سے افسوس کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بہترین کوششوں کے باوجود برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کو عملی جامہ نہ پہنا سکیں۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق پارٹی کے نئے سربراہ کے چناؤ تک وہ وزیر اعظم کے عہدے پر ہی فائز رہیں گی۔ تاہم سات جون کے بعد وہ نگران وزیر اعظم کے طور پر ذمہ داریاں نبھائیں گی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیر اعظم کے انتخاب کا مرحلہ صدر ٹرمپ کے دورے کے بعد ہی شروع ہو گا۔

دوسری طرف اس پیش رفت کے بعد لیبر پارٹی کے سربراہ جریمی کوربن اور اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا اسٹروجن نے نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ کوربن نے کہا کہ موجودہ حالات میں برطانیہ ایک مرتبہ پھر قدامت پسندوں کے غیر منتخب وزیر اعظم کا متحjل نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح خاتون سیاستدان اسٹروجن نے کہا کہ مے کے استعفے سے بریگزٹ کا معاملہ حل نہیں ہو سکتا۔

یہ امر اہم ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران مے کو شدید دباؤ کا سامنا تھا کہ وہ اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیں۔ اپنی بریگزٹ ڈیل پر ممبران پارلیمان کو اعتماد میں نہ لے سکنے پر مے کو اس سیاسی دباؤ کا سامنا تھا۔

قدامت پسندوں کے نئے رہنما کے طور پر سابق وزیر خارجہ بورس جانسن کا نام فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پارٹی اپنے نئے سربراہ کے چناؤ کا عمل دس جون سے شروع کر دے گی۔ اس کے علاوہ نئے پارٹی رہنما کے طور پر سابق وزیر برائے بریگزٹ ڈومینک راب کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔

ع ب / ک م / خبر رساں ادارے

DW.COM