برطانوی اخبار کے خلاف ’جھوٹی‘ خبر پر دعویٰ کروں گا، شہباز شریف | حالات حاضرہ | DW | 15.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

برطانوی اخبار کے خلاف ’جھوٹی‘ خبر پر دعویٰ کروں گا، شہباز شریف

پاکستانی ایوان زیریں میں اپوزیشن رہنما اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ برطانوی اخبار ’میل‘ میں ان کے حوالے سے شائع ہونے والی ’جھوٹی اور من گھڑت‘ خبر پر قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

برطانوی اخبار روزنامہ میل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے دی جانے والی رقم میں خردبرد کی اور پھر منی لانڈرنگ کے ذریعے اس پیسے کو برطانیہ بھجوایا۔ اس رپورٹ کے بعد پاکستانی سیاست میں ایک ہلچل مچ گئی ہے، جہاں حکومتی جماعت پی ٹی آئی اسے ن لیگ کے خلاف ایک 'عالمی گواہی‘ کے طور پر پیش کر رہی ہے، تو دوسری جانب مسلم لیگ نواز اس رپورٹ کے صحافی ڈیوڈ روز کی صحافت اور اعتبار پر سوالات اٹھا رہی ہے۔

کیا مریم نواز شریف کے بیانیے کو آگے بڑھا پائیں گی؟

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی: شہباز شریف پیچھے کیوں ہٹے؟ افواہیں گرم

اتوار کے روز اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں شہباز شریف نے لکھا، ''من گھڑت اور گم راہ کن رپورٹ عمران خان اور شہباز اکبر کی ایما پر شائع کی گئی۔ ہم اس حوالے سے قانونی چارہ جوئی کریں گے۔‘‘

واضح رہے کہ اس رپورٹ میں وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے اثاثہ جات کی ریکوری کے شعبے کے سربراہ شہباز اکبر کے حوالے سے بھی جملے تحریر ہیں۔

ڈیلی میل کی اس خبر کے فوراﹰ بعد برطانوی محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی DIFD نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت کسی بھی ملک میں امدادی رقم مہیا کرنے سے پہلے یہ تسلی کرتی ہے کہ وہ رقم کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوئی۔

اس محکمے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا، ''وہ پاکستان میں بدعنوانی کے ماحول سے اچھی طرح سے واقف ہے۔‘‘

اس حوالے سے مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک پریس کانفرنس میں نہ صرف برطانوی اخبار کی رپورٹ کی تردید کی بلکہ ڈیوڈ روز کی عمران خان سے ایک ملاقات کی تصویر بھی دکھائی۔ تاہم ڈیوڈ روز نے اس حوالے سے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ یہ تصویر انتخابات سے قبل کی ہے، جب انہوں نے عمران خان کا ایک اخبار کے لیے انٹرویو کیا تھا۔

ڈیوڈ روز کا موقف ہے کہ اس کی رپورٹ مختلف افراد کے انٹرویوز کی بنیاد پر تحریر کی گئی ہے۔

اس معاملے پر پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی زبردست گفت گو چل رہی ہے، جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کے حامی ن لیگ پر الزامات کی بوچھار کر رہے ہیں، تو دوسری جانب ن لیگ کے حامی اس رپورٹ کو بھی موجودہ حکومت کی جانب سے الزامات کی پالیسی کا ایک تسلسل قرار دے رہے ہیں۔

DW.COM