برازیل میں کووڈ 19 سے اموات 30 ہزار سے متجاوز | حالات حاضرہ | DW | 03.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

برازیل میں کووڈ 19 سے اموات 30 ہزار سے متجاوز

لاطینی امریکی ملک برازیل میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی ہے اور میکسیکو میں متاثر ہونے والوں کی تعداد میں پہلی بار ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔

عالمی سطح پر کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد  63 لاکھ سے بھی زیادہ ہے جبکہ تین لاکھ 80 ہزار سے بھی زیادہ افراد اب تک ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکا دنیا کا سب سے متاثرہ ملک ہے جہاں 18 لاکھ سے بھی زیادہ افراد متاثر اور ایک لاکھ پانچ ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔

برازیل میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید ایک ہزار 262  افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں اس وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 40 ہزار کے قریب پہنچ رہی ہے۔

چین میں محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ دن صرف ایک کیس سامنے آیا۔

جرمنی کے رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے 342 مزید مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں اور 29 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔جرمنی میں متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 82 ہزار 370 ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب تک اس وبا سے آٹھ ہزار 551 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیوایچ او کا کہنا ہے کہ یورپ کے بیشتر حصوں میں کورونا وائرس سے متاثرین کی اوسطاً تعداد میں بتدریج کمی آرہی ہے لیکن مشرقی یورپ اور روس میں اس میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ادھر ایک نئی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں اس وبا سے سب سے زیادہ خطرہ سیاہ فاموں اور ایشیائی نزاد افراد کو لاحق ہے۔

 

لاطینی امریکا میں برازیل اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں پانچ لاکھ سے زیادہ متاثرین ہیں اور تیس ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ میکسکیو میں اس وقت یہ وبا اپنے عروج پر ہے جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں تین ہزا 891 کیسز سامنے آئے ہیں اور 470 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ میکسیکو میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 97 ہزار 326 ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک دس ہزار 637  افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔  حکام کا کہنا ہے کہ متاثرین کی تعداد اس کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ یمن میں تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ بچوں دوہری مار جھیلنی پڑ سکتی ہے۔ وہاں پہلے سے جاری جنگ کے سبب بچوں کو خاصی مشکلات کا سامنا ہے اور اب کورونا وائرس کی وبا کا خطرہ بھی ان پر منڈلا رہا ہے۔ یونیسف نے عالمی برادری سے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ اور مدد کی اپیل کی ہے۔

اس سے قبل قوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل اینٹونیو گوٹیرس نے عالمی برادری کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ زدہ یمن میں حالات پہلے سے بحران کا شکار ہیں اور کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے وقت بہت کم بچا ہے۔ انہوں نے ایک کانفرنس میں بتایا کہ یمن کے شہر عدن میں کووڈ 19 سے مرنے والوں کی شرح دنیا کے دیگر ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔

 عراق کی وزارت صحت نے کورونا وائرس کے 519 مزید متاثرین کی یہ کہہ کر تصدیق کی ہے کہ یہ اب تک کی ایک دن میں متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ عراق میں اب تک متاثرین کی تعداد سات ہزار تین سو بتائی جارہی ہے اور کم سے کم 235 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 

 دبئی میں حکام نے گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن اور بندشوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بدھ تین جون سے کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم محکمہ صحت کے حکام نے سوشل ڈسٹینسنگ کے اصول و ضوابط پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ہدایت کی ہے۔

خلیجی ممالک میں کورونا وائرس کی وبا مہاجر مزدروں کے کیمپوں سے پھیلنی شروع ہوئی تھی اور بعض ممالک نے ایسے متاثرین کی امداد کے ساتھ ساتھ طبی سہولیات مہیا کرائی جبکہ کئی ممالک نے مہاجر مزدروں کی مدد کے بجائے انہیں ان کے وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔   

ص ز/ ج ا (ایجنسیاں)

ویڈیو دیکھیے 02:06

عبادت گاہوں پر کووڈ انیس کے اثرات

DW.COM