برازیل: ایک روز میں کورونا وائرس کے 26 ہزار سے زائد کیسز | حالات حاضرہ | DW | 29.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

برازیل: ایک روز میں کورونا وائرس کے 26 ہزار سے زائد کیسز

برازیل میں کورونا وائرس کے ایک دن میں 26 ہزار بھی زیادہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور اسکے ساتھ ہی ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد چار لاکھ 38 ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔

عالمی سطح پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 60 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ اب تک تین لاکھ 59 ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ 

چین میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

فرانس، برطانیہ اور بعض دیگر یورپی ممالک لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

جرمنی کے باوقار سائنسی ادارے رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 741 مزید مصدقہ کیسز کا پتہ چلا ہے اور اس طرح متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار 458 ہوگئی ہے۔ جرمنی میں گزشتہ ایک دن میں 39 مزید افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں اور اس طرح ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہزار چار سو 50 ہوگئی ہے۔

جرمنی میں حکام بندشوں میں بتدریج نرمی کا اعلان کر رہے ہیں اور کاروباری مراکز لاک ڈاؤن کے دوران ہونے والے نقصان کی بھرپائی کی تمام ممکنہ کوششوں میں لگے ہیں۔

امریکا میں گزشتہ ایک روز میں کورونا وائرس سے ایک ہزار 297 مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں،اس طرح ملک میں ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد ایک لاکھ ایک ہزار 573 تک پہنچ گئی ہے۔ اس وقت امریکا میں کووڈ 19 سے متاثرین کی تعداد 17 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ اثر امریکی شہر نیو یارک پر پڑا ہے جہاں حکام اب لوگوں کو کام پر دوبارہ لانے کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

دوسرے نمبر پر برازیل ہے جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 26 ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور اس طرح ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد چار لاکھ 38 ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ اس دوران ایک ہزار 156 متاثرین ہلاک ہوئے ہیں۔ برازیل میں اب تک کووڈ 19 کے  26 ہزار 754 مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادھر 29 مئی جمعے کو چین میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ چین کے شہر ووہان سے اس وبا کے پھیلنے کا آغاز ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق بیجنگ نے بین الاقوامی پروازوں پر پابندی میں آئندہ 30 جون تک توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ چین نے مارچ میں بیرونی اور اندرون ملک کی بیشتر پروازوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت امریکا اور چین کے درمیان کوئی فلائٹ نہیں چل رہی ہے۔       

  یمن میں حکومت سے برسرپیکار باغی حوثی گروپ نے پہلی بار اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس کے ماتحت کئی علاقوں میں کورونا وائرس کی وبا

 پھیل گئی ہے۔ گروپ نے عالمی ادارہ صحت پر جانچ کے لیے خامیوں والی کٹس دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے وہ اس کے پھیلاؤ کے روکنے کی تدبیریں کر رہا ہے۔ اس سے قبل یمن کی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے 278 کیسز اور 58 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

جنوبی کوریا میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 58 مزید نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان تمام کیسز کا تعلق دارالحکومت سیول سے ہے۔ جنوبی کوریا میں پہلے اس وبا پر موثر طریقے سے کنٹرول پالیا گیا تھا اور نئے کیسز کا تقریبا ًخاتمہ ہوگیا تھا، تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے مسلسل کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ تین دنوں میں 177 کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق ایک مقامی کارخانے میں کام کرنے والوں سے ہے۔حکام نے اس میں کام کرنے والے تمام چار ہزار افراد کو ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

ص ز/ ج ا (ایجنسیاں)

DW.COM