بحیرہء شمالی: گیس کے خطرناک بادل | سائنس اور ماحول | DW | 29.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بحیرہء شمالی: گیس کے خطرناک بادل

گزشتہ اتوار سے بحیرہ شمالی میں معدنی گیس کے ایک پلیٹ فارم سے گیس کی بھاری مقدار خارج ہو رہی ہے۔ ابھی اس زہریلی گیس کی اصل نوعیت معلوم نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی یہ پتہ چل رہا ہے کہ اس سے ماحول کو کس قدر نقصان پہنچے گا۔

سکاٹ لینڈ کے ساحلوں سے 240 کلومیٹر دور سمندر کے بیچوں بیچ واقع Elgin نامی یہ پلیٹ فارم فرانسیسی کمپنی ٹوٹل کی ملکیت ہے۔ گیس کا اخراج شروع ہونے پر یہ پلیٹ فارم بند کیا جا چکا ہے۔

چونکہ اس پلیٹ فارم سے تیزابی گیس کے ساتھ ساتھ مائع شکل میں معدنی گیس بھی نکالی جاتی ہے، اس لیے ماہرین کے خیال میں زیادہ امکان یہی ہے کہ اخراج بھی انہی گیسوں کا ہو رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے اردگرد 4.8 مربع کلومیٹر کے علاقے میں تیل کی پتلی سی تہہ پانی کی سطح پر نظر آ رہی ہے، جو غالباً مائع معدنی گیس کے مرکب ہی کا نتیجہ ہے۔

تیزابی گیس میں زیادہ مقدار معدنی گیس کی ہوتی ہے جبکہ اس میں کچھ فیصد ہائیڈروجن سلفائیڈ نامی مادہ بھی شامل ہوتا ہے، جس کی بُو خراب انڈوں کی سی ہوتی ہے اور جو بہت زیادہ زہریلا ہوتا ہے۔ یہ گیس انسانی خون میں موجود اُس سرخ مادے کو تباہ کرتی ہے، جو جسم میں آکسیجن کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم مقدار میں بھی یہ گیس انسانوں اور دیگر جانداروں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔

گیس کے اخراج کے واقعے کی وجہ سے ٹوٹل کمپنی کے شیئرز کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی ہے

گیس کے اخراج کے واقعے کی وجہ سے ٹوٹل کمپنی کے شیئرز کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی ہے

تحفظ ماحول کے علمبردار حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ فضا اور پانی میں اس گیس کی زیادہ مقدار میں آمیزش کے نتیجے میں اردگرد کے علاقے کا پورا ماحولیاتی نظام تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے۔

آکسیجن کی مخصوص مقدار کے ساتھ مل کر یہ گیس بہت تیزی سے آگ پکڑ سکتی ہے اور یوں گیس کے دھماکے سے پورا پلیٹ فارم تباہ بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح کے خطرات کی وجہ سے اس پلیٹ فارم کی مالک کمپنی Total نے اپنے عملے کے تمام 238 ارکان کو وہاں سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نکال کر خشکی پر پہنچا دیا ہے۔ معدنی تیل اور گیس نکالنے والے دو قریبی پلیٹ فارم بھی، جو Shell کمپنی کی ملکیت ہیں، خالی کروا لیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ساحلی پولیس نے اس پلیٹ فارم کے اردگرد تین میل کے علاقے میں طیاروں کے اور دو میل کے علاقے میں بحری جہازوں کے داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

معدنی گیس کے کاروبار پر نظر رکھنے والے ایک ماہر اسٹوآرٹ جوائنر نے، جن کا تعلق Investec-Bank سے ہے، بتایا:’’خراب ترین صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پائپ لائن میں گیس کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک اضافی کنواں کھودا جانا پڑے۔ تاہم ابھی یہ بہت دور کی بات لگتی ہے۔ اگر اضافی کنواں کھودنا پڑ گیا تو اس میں چھ مہینے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔‘‘

دریں اثناء یہ پتہ چلا لیا گیا ہے کہ یہ گیس چار ہزار میٹر کی گہرائی میں بچھائی گئی ایک پائپ لائن سے خارج ہو رہی ہے۔ ٹوٹل کمپنی نے شگاف کا سراغ لگانے اور حالات کو قابو میں لانے کے لیے ایک آبدوز اور آگ بجھانے والے دو بحری جہاز اس پلیٹ فارم کی جانب روانہ کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے نتیجے میں بازارِ حصص میں ٹوٹل کے شیئرز کی قدر و قیمت میں بڑے پیمانے پر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

رپورٹ: بریگٹے اوسٹیراتھ / امجد علی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

اشتہار