باکسر محمد علی اور فیس بُک کے بانی بھی مسلمانوں کے ساتھ | حالات حاضرہ | DW | 10.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باکسر محمد علی اور فیس بُک کے بانی بھی مسلمانوں کے ساتھ

حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد ایک طرف اسلام مخالف بیانات ہیں تو دوسری طرف کئی اہم شخصیات مسلمانوں کے حق میں بھی آواز بلند کر رہی ہیں۔ کچھ ماہرین کے مطابق مغربی دنیا میں مسلم مخالف جذبات کو کم کرنا کافی مشکل ہو گا۔

عالمی سطح پر مسلمانوں کے خلاف جذبات کے اظہار کا حالیہ سلسلہ پیرس، سین برناڈینو اور دیگر مقامات پر ہونے والی دہشت گردی کے بعد شروع ہوا ہے۔ ایسے میں کئی اہم شخصیات نے مسلمانوں کے حق میں بھی آواز اٹھائی ہے۔ ان میں مایہ ناز امریکی باکسر محمد علی اور دنیا کی سب سے بڑی سوشل نیٹ ورک ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک سوکربرگ بھی شامل ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے ان بیانات کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے تاہم کینیڈا کی اوٹووا یونیورسٹی میں پُر تشدد انتہا پسندی کے انسداد کے ماہر کامران بخاری کی رائے میں مغربی اقوام کے ذہنوں سے مسلمان مخالف جذبات کو کم کرنا اب انتہائی مشکل عمل ہو گا۔

امریکا کے شہرہٴ آفاق 72 سالہ باکسر محمد علی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے:’’پیرس، سین برناڈینو اور دنیا کے کسی بھی علاقے میں معصوم لوگوں کا قتل اسلام سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ ایک سچا مسلمان یہ جانتا ہے کہ اپنے آپ کو جہادی کہنے والوں کی طرف سے کیا جانے والا بہیمانہ تشدد مذ ہب اسلام کی بنیاد کے منافی ہے۔‘‘ باکسر محمد علی کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ سیاسی قیادت کو واضح کرنا چاہیے کہ بے راہروی کے شکار چند افراد نے دنیا کے سامنے اسلام کا ایک غلط تاثر قائم کر دیا ہے۔

امریکی باکسر کے علاوہ فیس بک کے بانی مارک سوکر برگ نے بھی مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ فیس بک پر جاری کردہ ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے:’’شدت پسندوں کی جانب سے پیرس اور دیگر علاقوں میں حملوں کے بعد مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے مسلمانوں کے اس خوف کا اندازہ ہے کہ کسی دوسرے کے اعمال کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔‘‘

مارک سوکر برگ نے کہا کہ بطور ایک یہودی ہونے کے ان کے والدین نے انہیں ہر برادری کے لیے آواز اٹھانا سکھایا ہے۔ مارک سوکر برگ نے فیس بک کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے تمام مسلمانوں کو ان کے حقوق کے تحفط اور ان کے لیے ایک پر امن ماحول تشکیل دینے کی یقین دہانی بھی کرائی۔

ان اہم شخصیات کے بیانات سے اسلام مخالف جذبات کو کم کیا جا سکے گا

اوٹووا یونیورسٹی میں پُر تشدد انتہا پسندی کے انسداد کے ماہر کامران بخاری نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا:’’باکسر محمد علی تو خود ہی مسلمان ہیں، ان سے زیادہ اہمیت کی حامل رائے مارک سوکربرگ کی ہے، وہ دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی کے مالک ہیں، مسلمانوں کے حق میں ان کے بیان کی باز گشت زیادہ ہو گی۔‘‘

کامران بخاری کہتے ہیں کہ مستقبل قریب میں دنیا میں بڑھتی مسلمان مخالف لہر میں خاطر خواہ کمی نہیں آئے گی:’’نائن الیون حملوں کے بعد سے اب تک دہشت گردی کے بے پناہ واقعات ہوئے ہیں اور اُن کے گہرے اثرات لوگوں کے ذہنوں پر ہیں، جس کے باعث مسلمان مخالف جذبات بڑھے ہیں اور ان جذبات میں کمی پیدا کرنا بہت مشکل ہو گا۔‘‘ کامران بخاری کے مطابق القاعدہ، داعش اور دیگر شدت پسند گروہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اور کامیابی کے ساتھ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی تفریق کو بڑھا رہے ہیں۔

اشتہار