بالی وڈ کی سنٹنٹ کوئن، بے خوف نادیہ | فن و ثقافت | DW | 08.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بالی وڈ کی سنٹنٹ کوئن، بے خوف نادیہ

ممبئی فلموں کی ایک اس اداکارہ نے اپنی فنکاری اور جانبازی کا ایسا مظاہرہ کیا تھا کہ راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں۔ سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والی، بے خوف اور نڈر اداکارہ نادیہ کون تھیں؟

سن انیس سو تیس اور چالیس کے عشرے میں نادیہ وہ پہلی خاتون تھیں، جنہوں نے ہندوستانی فلموں میں سٹنٹ کے کردار کا آغاز کیا تھا اور وہ یہ کردار خود کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے بھاگتے ہوئےگھوڑے کی پیٹھ پر سواری کی، تیز رفتار ٹرین پر فائٹنگ کے سین کیے، تیز دھار بہتے ہوئے پانی اور جھرنوں میں چھلانگ لگائی، شیروں کے ساتھ وقت گزارا، گھوڑے سے سیڑھیوں پر کود گئيں، شمشیر زنی کی اور فضا میں ہوائی جہاز سے لٹکنے والے بہت سے جانبازی کے سین کیے۔ وہ کہتی تھیں، ’’میں ہر چیز ایک بار کرنے کی کوشش کروں گی۔ یہی وجہ ہے کہ  انہیں ہندوستانی فلموں کی ’سنٹنٹ کوئن‘ کا خطاب ملا تھا۔ آج آٹھ جنوری کا ان کا ایک سو دسواں جنم دن ہے اور اس موقع پرگوگل نے انہیں اپنے ڈوڈل کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

کچھ برس پہلے تک ان کے کارناموں کا ذکر تک نہیں ہوتا تھا اور فلمی دنیا بھی تقریبا انہیں بھول چکی تھی تاہم بعض فلمی مبصرین نے ان پر خاص توجہ کی اور ان کے کارناموں کو اجاگر  کر کے نئی نسل کو یہ بتانے کی کوشش کی کیسے نادیہ نے فلموں میں خواتین کی شبیہہ کو تبدیل کرنے کا نمایاں کام کیا تھا۔

نادیہ کا جنم آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں سن 1908 میں ہوا تھا۔ ان کا اصل نام میری این ایوانز تھا۔ ان کے والد برطانوی اور ماں یونان  نسل کی تھیں۔ اپنے والد کے ساتھ وہ ہندوستان پانچ برس کی عمر میں آئی تھیں لیکن پہلی عالمی جنگ میں والد کے انتقال کے بعد وہ پاکستان کے صوبے خیبر پختون خواہ منتقل ہوگئيں اور پشاور میں اپنے قیام کے دوران انہوں نےگھوڑ سواری، ٹینس اور رقص جیسے فنون میں مہارت حاصل کی۔ کچھ عرصہ  کراچی میں بھی گزارا لیکن سن انیس سو اٹھائیس میں وہ پھر ممبئی واپس آئیں اور یہیں کی ہوکر رہ گئیں۔ ابتدا میں انہوں نے سرکس میں کام کیا اور میری کے بجائے اپنا نام نادیہ کر لیا، جس سے ان کو شہرت ملی۔

یہی وہ زمانہ تھا جب ان پر فلمساز جمشید بومنا ہومی واڈیا (جے بی ایچ) کی نظر پڑی۔ وہ ان کی جسمانی طاقت سے بہت متاثر تھے۔ ان کی پہلی فلم ’دیش دیپک‘ سن 1933 میں آئی تھی، جس میں ان کا کردار چھوٹا تھا لیکن لوگوں کو بہت پسند آيا تھا۔ اس کے بعد ہی مسٹر واڈیا نے ان کی شخصیت کے مطابق فلم ’ہنٹر والی‘ بنائی، جس میں ان کا  کردار مرکزی تھا۔ اس فلم میں نادیہ نے ایک شہزادی کا کردار ادا کیا، جو اپنے والد کی سلطنت میں ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف لڑتی ہے۔ یہ اس زمانے کی مقبول ترین  اور ہٹ فلموں میں سے ایک تھی۔ انہوں نے اپنے فلمی کریئر کے دوران کل 38 فلموں میں کام کیا، جس کے لیے انہیں بہترین اداکارہ کے خطاب سے نوازا گيا۔ بیشتر فلموں میں انہوں نے ایک ہندوستانی خاتون کا کردار کر کے عوام کو با شعور بنانے کا کام کیا ہے۔

اس دور میں ہندوستان میں جنگ آزادی اپنے عروج پر تھی اور انگریزوں کے خلاف زبردست مہم چل رہی تھی، ایسے میں ایک گوری خاتون کا ہندوستانی فلموں میں کامیاب ہونا اور پسند کیا جانا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ اس کے لیے واڈیا بھائيوں نے کافی محنت کی تھی اور ان کے لیے وہی کردار اور شکل و صورت پیش کی جاتی تھی، جو ہندوستانیوں کو پسند ہو اور جو یہاں کی عوام کو انصاف دلانے کے لیے جد و جہد کرتی ہو۔ ان کی اکثر فلمیں فیمنزم پر مبنی یعنی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تھیں۔ سماج میں خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم کے ہولناک پہلوؤں کو انہوں نے اپنے کرداروں سے اجاگر کیا۔ فلموں میں ایک گوری میم کو رضیہ سلطانہ اور رانی لکشمی بائی کی شبیہہ میں پیش کیا گیا، جسے لوگوں نے پسند کیا۔

فلم مبصر اور بالی وڈ فلموں کے ماہر بی کے کرانجیا لکھتے ہیں کہ نادیہ کی ہندوستانی زبان بہت کمزور تھی اس لیے ان کے کردار میں ڈائیلاگ کم اور اداکاری پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی،  ’’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نادیہ کے اسٹنٹ خطرناک ہوتے جا رہے تھے۔ وہ ایک مرد کو اٹھا کر آسانی سے پھینک دیتی تھیں۔‘‘

فلموں پر اپنی تحریروں کے لیے معروف امرت گانگر نے نادیہ سے متعلق اپنے ایک انٹرویو میں کہا، ’’ہندوستانی زبان کی کمزوری کی وجہ سے ان کے ڈائیلاگ دانستہ طور پر کم رکھے جاتے تھے اور ان کی جسمانی طاقت کے لحاظ سے رول ہوتے تھے اور بتدریج یہی ان کی شناخت بھی بن گئے۔‘‘

فلموں میں انصاف، خاص طور پر خواتین، کے لیے لڑنے والے یہ کردار ہی جب نادیہ کی پہچان بن گئے تو وقت کے ساتھ وہ صرف اداکارہ ہی نہیں بلکہ ایک سیاسی  اور سماجی کارکن کی شخصیت بھی بن کر ابھریں، جو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے لگیں اور بائیں بازو کے خیالات والے لوگوں کی ایک طاقتور آواز بن کر سامنے آئیں۔

اس کے بعد تو ان کی فلموں میں بھی اس کی ایک جھلک دکھتی تھی۔ ایک فلم ’ڈائمنڈ کوئن‘ میں تعلیم، حقوق نسواں اور انسانی حقوق پر بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آزادی انہی راستوں سے ہوکر گزرتی ہے۔ یہ وہی سب چيزيں ہیں، جن پر آج بھی بات کی جاتی ہے۔

نادیہ نے فلم ساز ہومی واڈیا سے شادی کی تھی اور نو جنوری 1996 میں ممبئی میں ان کا انتقال ہوا تھا۔ ہدایت کار  وشال بھاردواج کی فلم ’رنگون‘ میں ’جانباز جولیا‘ کا جو کردار اداکارہ  کنگنا رناؤت نے کیا تھا، وہ در اصل نادیہ کے کردار سے ہی ماخوذ تھا۔ اس فلم کے ذریعے وشال نے نادیہ کی جواں مردی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔

اشتہار