بالی وڈ: کیا ماہرہ اور فواد خان کے چہرے تبدیل کیے جا رہے ہیں؟ | فن و ثقافت | DW | 10.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

بالی وڈ: کیا ماہرہ اور فواد خان کے چہرے تبدیل کیے جا رہے ہیں؟

اطلاعات کے مطابق بھارتی ہدایتکار کرن جوہر اپنی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کی کاسٹ میں شامل پاکستانی اداکار فواد خان کے کردار کو بھارتی فنکار سیف خان سے تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

Pakistan Schauspieler Fawad Khan (STRDEL/AFP/Getty Images)

بھارتی فلم ’اے دل ہے مشکل ‘ میں پاکستانی اداکار فواد ‌خان کو کاسٹ کیا گیا تھا

پاکستانی اور بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق کرن جوہر اپنی فلم میں بھارتی اداکاراؤں انوشکا شرما اور ایشوریا رائے کی شہریت بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔ گزشتہ ماہ کی اٹھارہ تاریخ کو بھارت کی اُڑی فوجی چھاؤنی پر مشتبہ عسکریت پسندوں کے حملے کے ردّ عمل کے طور پر ایک انتہا پسند سیاسی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا’ ایم این ایس‘ نے پاکستانی فنکاروں کو اڑتالیس گھنٹے کے اندر بھارت چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔

ایم این ایس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ وہ ممتاز فلم ہدایتکار کرن جوہر کی پروڈیوس کی جانے والی فلم ’اے دل ہے مشکل ‘ اور ایک دوسری فلم ’رئیس‘ کو بھی ریلیز نہیں ہونے دیں گے کیوں کہ ان فلموں میں پاکستانی اداکار فواد خان اور اداکارہ ماہرہ خان کو کاسٹ کیا گیا ہے۔ یہ فلمیں اگلے کچھ دنوں میں ریلیز ہونے والی ہیں۔ بھارتی موشن پروڈیوسرز پکچرز ایسوسی ایشن ’امپا‘ نے بھی اس وقت تک بھارتی سنیما میں پاکستانی فنکاروں اور تکنیکی ماہرین پر پابندی عائد کر رکھی ہے جب تک دونوں ممالک کے درمیان موجود تناؤ کی صورتِ حال میں بہتری نہیں آجاتی۔ امپا نے تاہم اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ پاکستانی اداکاروں پر لگائے گئے بین سے فلم’ اے دل ہے مشکل‘ کی ریلیز متاثر نہیں ہو گی۔

یاد رہے کہ کرن جوہر، سلمان خان اور اوم پوری سمیت کئی بھارتی اداکاروں نے اس پابندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ آرٹ اور سیاست کو الگ الگ رکھنا چاہیے۔ تاہم ذرائع کے مطابق ہدایتکار کرن جوہر کی فلم’ اے دل ہے مشکل‘ میں چہروں کو تبدیل کرنے کے لیے اب دیر ہو چکی ہے۔ دوسری جانب معروف بھارتی اداکار اجے دیو گن نے فلم کے حوالے سے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے اس کی ریلیز کی حمایت کی ہے۔

بھارتی روز نامے ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق اجے دیو گن نے بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا،’’کبھی کبھی پہلے سے مکمل شدہ فلم سے کسی کو نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ میری رائے میں اگر کوئی فلم کسی واقعے سے پہلے مکمل کر لی گئی ہو تو اسے ریلیز کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔‘‘ دوسری جانب ماہرہ خان کو بھی فلم ’رئیس‘ سے باہر نکالے جانے کی خبر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ اس سے قبل پاکستانی فنکاروں ماہرہ خان اور فواد خان کو اُڑی فوجی چھاؤنی پر حملے کی مذمت نہ کرنے کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم ان دونوں فنکاروں نے دو روز قبل اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر دنیا میں کہیں بھی ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کی مذمت کی تھی۔

 

اشتہار