بالی وُڈ اداکارہ دیپیکا پاڈوکون اچانک سرخیوں میں کیوں؟ | فن و ثقافت | DW | 08.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

بالی وُڈ اداکارہ دیپیکا پاڈوکون اچانک سرخیوں میں کیوں؟

بھارت کے بہت سے دانشوروں اور بالی وڈ کی اہم شخصیات نے اداکارہ دیپیکا پاڈوکون کے اقدام کو سراہا ہے جبکہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ان کی فلموں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔

بالی وُڈ کی معروف ادکارہ دیپیکا پاڈوکون

بالی وُڈ کی معروف ادکارہ دیپیکا پاڈوکون

بالی وُڈ کی معروف  اداکارہ دیپیکا پاڈوکون نے منگل سات جنوری کی شام کو طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا دورہ کیا تھا، جہاں نقاب پوش غنڈوں کے حملے میں درجنوں طلبہ زخمی ہوئے تھے۔ انھوں نے حملے میں زخمی ہونے والی طلبہ یونین کی صدر اویشی گھوش سے ملاقات کی تھی۔

یونیورسٹی کیمپس میں تشدد سے متعلق بھارتی میڈیا سے بات چیت میں دیپیکا نے تشویش کا اظہار کیا تھا: ''جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس سے میں بہت غصہ ہوں۔ لیکن فکر کی بات تو یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس پر حقیقتاﹰ کوئی کارروائی ہی نہیں ہو رہی ہے۔‘‘

دیپیکا کے جواہر لال نہرو یونیورسٹی یا جے این یو جانے پر اس قدر ہنگامہ برپا ہے کہ سوشل میڈیا پر جہاں ایک بڑا گروپ ان کی حمایت کر رہا تو دوسرا گروپ ان کا سخت مخالف ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی نے تو دیپیکا کی فلم کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کر دی ہے۔ پارٹی کے ترجمان تیجندر سنگھ بگّا نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ دیپیکا نے چونکہ ٹکر ٹکڑے گینگ (ملک مخالف گروہ) کی حمایت کی ہے اس لیے ان کی فلم کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

Deepika Padukone

بالی وُڈ کی معروف  اداکارہ دیپیکا پاڈوکون نے منگل سات جنوری کی شام کو طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا دورہ کیا تھا۔

لیکن اس اپیل کے فوری بعد سوشل میڈیا پر بالی وُڈ کی اہم شخصیات سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے دیپیکا کی حمایت میں آواز اٹھائی۔ فلمساز انوراگ کشیپ نے دیپیکا کے اس قدم کو جراٗت مندانہ بتاتے ہوئے لکھا کہ ایک ایسے وقت جب پہلی بار بطور پروڈیوسر انہیں ممبئی میں اپنی تعریفیں سننا چاہیے تھیں، انہوں نے جے این یو کے طلبہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا: ''یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ اس فلم کی پروڈیوسر بھی ہیں، ان کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ دیپیکا کے لیے بہت زیادہ احترام۔‘‘

سیمی گریوال نے لکھا، ''دیپیکا میں تمہارے عزم و حوصلے کی داد دیتی ہوں۔ آپ ایک ہیرو ہو۔‘‘ شبانہ اعظمی نے بھی جے این یو کے طلبہ کی حمایت کرنے پر دیپیکا پاڈو کون کی تعریف کی اور دعا کی کہ انہیں مزید ہمت و حوصلہ ملے۔  معروف صنعت کار کرن منجمدار نے لکھا کہ ان کے اس عمل سے ان کی نظر میں دیپیکا کی عزت و احترام  بڑھ گیا ہے: ''آپ کی دیانت داری ہی آپ کے کردار کی مظہر ہے۔‘‘

آج بدھ آٹھ جنوری کو بھارت میں سپورٹ دیپیکا، بائیکاٹ دیپیکا، ریسپیکٹ دیپیکا اور شیم آن بالی وڈ جیسے ٹرینڈز سوشل میڈیا پر مقبول ہیں۔ بہت سے لوگوں نے دیپیکا کے جے این یو جانے پر ان کی فلم کے بائیکاٹ کی حمایت کرتے ہوئے بالی وڈ پر بھی سخت نکتہ چینی کی ہے۔ سخت گیر نظریات کے حامل  بی جے پی کے رکن پارلیمان رکیش سنہا نے اپنے سخت رد عمل میں کہا: ''دیپیکا کے دورہ جے این یو میں داؤد ابرہیم کا ہاتھ ہے۔‘‘

 بھارت میں یہ بحث کئی دنوں سے جاری ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک حکومت کی بعض پالیسیوں کے سبب سرپا احتجاج ہے تو اس وقت بالی وڈ کے اسٹار کہاں ہیں؟  اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا، ''لگتا ہے کہ بھارت میں صرف خاتون سپر اسٹار میں ہی ہمت و حوصلہ رہ گيا ہے، ابھی نہیں توکبھی نہیں، مستقل خاموشی کوئی متبادل نہیں ہے۔‘‘

 معروف اداکارہ دیپیکا پاڈوکون کی فلم ''چھپاک‘‘ جمعہ 10 جنوری کو ریلیز ہو رہی ہے۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ وہ اس فلم کی پروڈیوسر بھی ہیں۔ بی جے پی کے ساتھ  دائیں بازو کے خیالات کے حامی تنظیموں نے بھی اس فلم کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔ 

خیال رہے کہ اتوار  پانچ جنوری کی شام درجنوں نقاب پوش حملہ آوروں نے جے این یو کیمپس میں گھس کر طلبہ اور اساتذہ کو بری طرح سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ اس میں طلبہ سمیت کئی پروفیسرز بھی بری طرح زخمی ہوئے تھے۔ اس کا الزام حکمراں جماعت بی جے پی سے وابستہ سخت گیر طلبہ تنظیم اے بی وی پی پر عائد کیا گیا تھا۔ لیکن پولیس نے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی ہے۔ پولیس کے اس رویے پر متعدد سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید نکتہ چینی ہو رہی ہے۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

DW.COM