باجوڑ میں حملہ، داعش سے منسلک گروہ نے ذمہ داری قبول کر لی | حالات حاضرہ | DW | 13.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باجوڑ میں حملہ، داعش سے منسلک گروہ نے ذمہ داری قبول کر لی

داعش سے وفاداری کا اعلان کرنے والے پاکستانی جنگجوؤں کے ایک گروہ نے باجوڑ ایجنسی میں ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ان سابق طالبان کا یہ حملہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ان کی پہلی کارروائی ہے۔

default

پاکستانی فوج ضرب عضب نامی آپریشن کے تحت شمالی وزیرستان میں بھی کارروائی کر رہی ہے

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اتوار تیرہ ستمبر کو بتایا کہ افغان سرحد سے ملحق پاکستان قبائلی علاقے باجوڑ میں کیے گئے اس حملے میں سکیورٹی چیک پوسٹ تباہ ہو گئی۔ داما دولا نامی علاقے میں قائم پیرا ملٹری فورس کی جس چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا، وہاں ملکی فوج 2007ء سے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسلامک اسٹیٹ یا داعش سے وفاداری کا اعلان کرنے والے پاکستان کے سابق طالبان کے اس گروہ نے روئٹرز کو ارسال کردہ ایک پیغام میں دعویٰ کیا، ’’ہمارے ساتھیوں نے اس چیک پوسٹ کو تباہ کر دیا ہے۔ اس کو آگ لگانے کے بعد جب آپریشن مکمل ہوا، تو وہ واپس آ گئے۔‘‘ پاکستان کے دو مقامی خفیہ اداروں نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے لیکن ہلاکتوں کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں 2013ء میں فعال ہونے والے داعش نامی دہشت گرد گروہ کے پاکستان میں فعال ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔ کئی چھوٹے چھوٹے شدت پسند گروہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کچھ دھڑے داعش اور اس کے رہنما ابوبکر البغدادی سے وفاداری کے اعلان کر چکے ہیں۔

تاہم داعش (اسلامک اسٹیٹ) نے ابھی تک نہ تو باقاعدہ طور پر ان گروہوں کی نام نہاد ’بیعت‘ قبول کی ہے اور نہ ہی اب تک پاکستان میں ہونے والے کسی حملے کی ذمہ داری۔

Pakistanische Soldaten Offensive in Waziristan Archiv Juli 2014

شمال مغربی عاقوں میں ملکی فوج 2007ء سے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے

اتوار تیرہ ستمبر ہی کے روز پاکستانی فضائیہ کی کارروائی مییں بارہ جنگجوؤں کے ہلاک ہونے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔ پاکستانی فوجی حکام نے بتایا کہ وادیء شوال میں کیے گئے فضائی حملوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

طالبان کا گڑھ ہونے کے علاوہ یہ مقام افغانستان میں اسمگلنگ کا ایک اہم راستہ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستانی فوج اپنی ایک سال سے جاری مسلح کارروائی کے باوجود شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں طالبان جنگجوؤں کو ابھی تک پوری طرح پسپا نہیں کر پائی۔