باجوڑ ایجنسی میں طالبان کے خلاف کارروائی جاری | حالات حاضرہ | DW | 27.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

باجوڑ ایجنسی میں طالبان کے خلاف کارروائی جاری

پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں طالبان باغیوں کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں تین فوجیوں سمیت چھتیس افراد مارے گئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں اسلام آباد کی طرف سے تشکیل دی گئی امن کمیٹی کے دو ارکان بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پاکستانی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ باجوڑ ایجنسی کے بٹوار نامی گاؤں کے علاوہ دیگر علاقوں میں فوج نے مقامی طالبان کے خلاف ایک نیا آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

پاکستانی نیم فوجی دستوں کے ایک ترجمان نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا: ’’اس آپریشن کے دوران اکتیس طالبان مارے گئے جبکہ تین فوجیوں کو شہادت نصیب ہوئی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’امن کمیٹی کے دو ممبران بھی شہید ہوئے جبکہ شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں پانچ فوجی زخمی بھی ہوئے۔‘‘

پاکستان کے سات قبائلی علاقوں میں سے باجوڑ وہ ایجنسی ہے، جہاں افغان صوبے کنڑ سے طالبان کے داخلے کو رپورٹ کیا گیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایسی اطلاعات کے بعد گزشتہ ہفتے نیم فوجی دستوں نے باجوڑ کے کئی علاقوں میں عسکری کارروائی شروع کی تھی تاکہ اس علاقے کو جنگجوؤں سے پاک بنایا جا سکے۔

Mullah Dadullah

ملا داد اللہ افغانستان میں مارا گیا

پاکستانی فوج کے ایک اور اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایاکہ باجوڑ ایجنسی کے زیادہ تر علاقوں سے جنگجوؤں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے تاہم یہ آپریشن ابھی جاری ہے تاکہ علاقے میں موجود ماندہ جنگجوؤں کو بھی وہاں سے نکال باہر کیا جائے۔

مقامی ذارئع ابلاغ کےمطابق اس فوجی کارروائی کی وجہ سے باجوڑ کے متعددباشندوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور وہ اپنے اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کے ذرائع کے حوالے سے روئٹرز نے بتایا تھا کہ فوج اور باجوڑ ایجنسی میں موجود حکومت نواز ملیشیا نے باہمی طور پر وہاں عسکری کارروائی شروع کی تھی۔ اس دن بھی اٹھائیس جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔تاہم ان ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں آزاد ذارائع سے معلومات حاصل نہیں ہو سکیں ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں پاکستانی فوج کی طرف سے یہ کارروائی ایسے وقت میں شروع کی گئی تھی جب باجوڑ میں تحریک طالبان پاکستان کا رہنما ملا داد اللہ اپنے بارہ ساتھیوں کے ہمراہ افغانستان میں امریکی اتحادی افواج کی ایک فضائی کارروائی میں مارا گیا تھا۔

ab/ng (AFP, Reuters)