بائیڈن کا افغانستان | دستک | DW | 28.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

بائیڈن کا افغانستان

افغانستان میں جنگ ہو یا امن اس کی قسمت کا فیصلہ بدقسمتی سے سپر پاورز کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ سابقہ سوویت یونین یہاں کمیونزم کی طاقت سے حکمرانی کا خواہشمند تھا، جس کا مقابلہ ریگن کے امریکا نے مجاہدین اور ڈالرز کی تلوار سے کیا۔

ان دنوں دہائیوں سے جنگ کی آگ میں لپٹی اس سرزمین پر امن قائم کرنے کا چرچا ہے۔ سب کی نگاہیں امریکا کے نئے صدر جو بائیڈن پر لگی ہوئی ہیں کہ کیا وہ ٹرمپ اور طالبان کے مابین امن معاہدے کی پاسداری کریں گے یا پھر ایک نئی پالیسی کے تحت اس پر نظر ثانی کی جائے گی۔

ٹرمپ، بائیڈن کے لیے مسائل کا ایک انبار چھوڑ کر گئے ہیں۔ امریکا کا جمہوری تشخص ہو یا معاشرے میں نسلی امتیاز کی تقسیم سے پریشان کن انتشار، اندرونی مسائل کا ڈھیر ہے، نمٹنے کے لیے۔ لیکن غیر ملکی محاذ پر بڑا مسئلہ افغانستان کا ہے، جو امریکا کی تاریخ کا ویتنام سے بھی زیادہ طویل ترین جنگی تنازعہ ہے۔ ٹرمپ جاتے ہوئے طالبان سے ایک امن معاہدہ کر گئے ہیں، جس کی رو سے مئی کے مہینہ تک افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلاء ہونا ہے۔ نیٹوکی دس ہزار افواج جس میں ڈھائی ہزار امریکی فوجی شامل ہیں، اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔ 

ٹرمپ جن کی شناخت ایک غیر روایتی لیڈر کی رہی ہے، وہ افغانستان سے امریکی افواج کی وطن واپسی اور امن معاہدے کو اپنے الیکشن میں ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ یہ معاہدہ اٹھارہ ماہ کی طویل ڈپلومیسی کے بعد امریکا اور طالبان کے مابین قطر میں طے پایا تھا۔ طالبان نے القاعدہ اور دوسرے دہشت گرد گروہوں سے اپنے ناطے توڑنے اور افغانستان کی سر زمین کو کسی بھی دہشت گردی کے لیے نہیں استعمال نہ ہونے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تنازعے کے حل کے لیے انٹرا افغان مذاکرات سے پائے دار امن قائم کیا جائے گا۔

امریکا اور افغانستان میں اس معاہدے کے ناقدین اسے جلد بازی میں کیا گیا ایک معاہدہ گردانتے ہیں۔ ان کے مطابق طالبان کو مکمل جنگ بندی پر پابند کرانے کے بجائے غیر ملکی افواج کے انخلاء کا اعلان طالبان کے لیے'اخلاقی‘ فتح کے مترادف ہے۔ طالبان کے پانچ ہزار قیدی بھی جیلوں سے رہا کرائے گئے ہیں۔

ٹرمپ افغانستان کے معاملات سے واقف نہ ہوں لیکن بائیڈن تو افغانستان کے حالات اپنے ہاتھ کی لکیروں کی طرح پڑھ سکتے ہیں۔ اوباما کے ساتھ بطور نائب صدر بائیڈن نے آٹھ برس تک القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ وہ افغانستان میں کسی حد تک غیر ''ملکی بیساکھیوں‘‘ کے سہارے کھڑے انتظامی اور سیاسی ڈھانچہ سے واقف ہیں۔ 

بائیڈن افغانستان کی بدلتی ہوئی ہیئت کے پس منظر میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی اہمیت سے نا صرف واقف ہیں بلکہ اپنے ماضی کے تجربات کی روشنی میں ڈیل کرنا بھی جانتے ہیں۔ 

گزشتہ برس جب ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کیا تھا تو اس کے چند ہفتوں بعد ہی بائیڈن نے اپنی پالیسی فارن آفیئرز میگیزین کے مضمون میں بیان کردی تھی،''ہمیں افغانستان اور مشرق وسطی سے اپنی افواج کی بھاری اکثریت کو واپس بلانا چاہیےاور اپنے مشن کو القاعدہ اور داعش کی شکست پر مرکوز رکھنا چاہیے۔‘‘یعنی بائیڈن افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء کے حق میں نہیں ہیں۔ وہ اس پالیسی کو احتیاط سے لاگو کرنا چاہتے ہیں نا کہ ٹرمپ کی جلد بازی میں کی جانے والی پالیسی کی طرح۔ اس طویل تنازعے میں امریکا اندازا ایک کھرب یا ٹریلین ڈالر جھونک چکا ہے۔ لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں، جس میں چوبیس سو امریکی فوجیوں کی جانیں بھی شامل ہیں۔ 

لیکن بائیڈن کو وائٹ ہاؤس میں آئے ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا کہ افغانستان کو تشدد کی تازہ لہر نے لپیٹ میں لے لیا اور ذمہ داری کی ساری انگلیوں کا رخ طالبان کی طرف اور امن دور دور تک نظر نہیں آرہا۔

 اس صورتحال کے تناظر میں بائیڈن کا بین السطور پیغام کچھ یوں نظر آتا ہے۔ امریکا افغانستان کو طالبان کی گرفت میں جانے نہیں دے گا، طالبان کو مکمل آزادی یا من مانی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور افغانستان میں امریکی افواج محدود تعداد میں موجودگی رہیں گی۔ 

پینٹاگون نے گزشتہ ماہ بیان دیا ہے کہ مئی کے مہینہ میں فوجیوں کا انخلاء ممکن نہیں کیونکہ طالبان نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ نیٹو ذرائع نے بھی اس بیان کو دہرایا۔ بائیڈن کی خارجہ پالیسی کے خطوط کی رکھوالی کے ذمہ دار اور سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے اپنے رابطے میں امریکا۔ طالبان معاہدے میں ممکنہ نظر ثانی کا اظہار بھی کیا۔

واشنگٹن کے بدلتے اشاروں کو اشرف غنی اور ان کے ساتھیوں نے بھانپ لیا اور وہ طالبان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی کھلی مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں۔ خیر وہ تو پہلے صرف ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کی وجہ سے ساتھ تھے۔

اشرف غنی نے بی بی سی کو کچھ دن قبل دیے گئے انٹرویو میں اس کا واضح اظہار بھی کیا ہے،''افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ میز کے پیچھے بیٹھ کر کوئی خواب دیکھنے والا نہیں بلکہ عوام کریں گے۔ یہ ویتنام نہیں، حکومت نہیں گر رہی۔‘‘

امریکا کی بدلتی ہواؤں کے جھونکوں نے افغانستان کی صورتحال میں اظطراب کی لہریں پیدا کر دی ہیں۔ طالبان جو معاہدے کو''اسلام کی فتح " اور ''قابض افواج کی شکست‘‘ کہہ کر اس کا پرچار کر رہے تھے، کنفیوژن کا شکار ہو گئے۔ پاکستان جس کا افغان امن عمل میں کردار ایک اہم سہولت کارکا رہا ہے اس کے لیے بھی مشکل لمحات ہیں اور اس معاہدے کے کرتا دھرتا افغان نژاد امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد مشکلات کے گرداب میں پھنسے نظر آتے ہیں۔ 

ظاہر یوں ہوتا ہے کہ بائیڈن نظر ثانی کے بعد اس معاہدے میں ردو بدل چاہیں گے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ اور بائیڈن دونوں ہی افغانستان میں افواج کی محدود تعداد کے ساتھ چند فوجی اڈے رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں تاکہ اپنے حریف ملکوں ایران، روس اور چین پر نظر رکھ سکیں۔ پاکستان کا اثر رسوخ استعمال کر کے مستقبل میں امریکی افواج کی افغانستان میں موجودگی پر طالبان کی آمادگی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ 

ادھر طالبان کے لیے معاہدے میں ردوبدل اور مستقل بنیادوں پر جنگ جاری رکھنا دونوں اتنا آسان نہیں۔ طالبان کی تنگ نظری پر مبنی دور کی واپسی بھی ممکن نہیں اور اسے کچھ حاصل کرنے کے لیے اپنے کردار میں تبدیلی اور ماضی کے بیشتر رویوں کو ترک کرنا پڑے گا۔ 

پاکستان بظاہر طالبان کا مستقبل میں ماضی کے ساتھی کا کردار ادا کر کے ’’پچھتاوا‘‘حاصل کرنا نہیں چاہتا۔ پاکستان بائیڈن انتظامیہ سے معاشی فوائد کے بجائے مستحکم تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے واشنگٹن کے''عزت اور وقار‘‘والے آشیرباد سے عالمی دنیا میں اعتماد حاصل ہو۔ پاکستان کے معاشی مفادات واشنگٹن سے زیادہ بیجنگ اور سی پیک منصوبے کی کامیابی سے جڑے ہیں۔ 

پاکستان ایران اور افغانستان کے ساتھ محفوظ بارڈرز اور کابل میں ایسی حکومت کا خواہشمند ہوگا، جو مثالی طور پر اگر دوست نہ ہو تو بھارت کی طرف جھکاؤ بھی نہ رکھتی ہو۔ اسی وجہ سے پاکستان امن عمل میں کلیدی کردار ادا کر کے عالمی خیر سگالی جھولی میں اکٹھا کرنا چاہتا ہے۔

 چند ہفتوں کے تعطل کے بعد دوحہ میں انٹرا افغان مذاکرات کی بحالی تو ہوگئی لیکن گلے شکوؤں اور اعتماد کے فقدان اور مفادات کے تصادم کی رکاوٹیں امن کی راہ میں حائل ہیں۔ طالبان اشرف غنی حکومت اور اس کے مغربی اتحادیوں سے نالاں ہے کہ انہوں نے معاہدے کی مکمل پاسداری نہیں کی۔ وہ امریکا سے افواج کا مکمل انخلاء چاہتے ہیں۔ 

ادھر بائیڈن کو دوہرے چیلنج کا سامنا ہے کہ کیا وہ طالبان کو اپنی ممکنہ نئی شرائط پر افغان امن معاہدے کے ساتھ جوڑ کر رکھ سکیں گے؟ اور اس دوران افغانستان میں تشدد کا خطرناک راج بھی نہ لوٹے۔

امریکا افغانستان جسے''سلطنتوں کا قبرستان‘‘ بھی کہا جاتا ہے، یہاں فوجی تنازعے کے چنگل میں دوبارہ پھنسنا نہیں چاہتا۔ لیکن افغانستان میں کہاوت ہے کہ امن کے دوست کم اور دشمن زیادہ ہیں۔