ایک چوتھائی جرمنوں کی جیبیں مہینے کے آخر میں خالی | معاشرہ | DW | 10.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ایک چوتھائی جرمنوں کی جیبیں مہینے کے آخر میں خالی

ایک تحقیقی جائزے کے مطابق جرمنی میں ایک چوتھائی شہریوں کی جیب مہینے کے آخر میں خالی ہو جاتی ہے۔ اٹھائیس فیصد عوام ایک مہینے میں پچاس یورو سے زیادہ نہیں بچا پاتے جس کی وجہ سے وہ بڑھاپے میں غربت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

جرمن عوام کی ایک بڑی تعداد بڑھاپے کے لیے بچت نہیں کر پاتی۔ 'یو گوو‘ اور 'سوئس لائف‘ کے تیار کردہ ایک تازہ تحقیقی جائزے کے مطابق ایک چوتھائی جرمن شہریوں کی جیب اختتام ماہ پر بالکل خالی رہ جاتی ہے۔ ہفتے کے روز جاری کردہ اس سروے کے نتائج میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اٹھائیس فیصد جرمن شہری ایک مہینے میں زیادہ سے زیادہ پچاس یورو ہی بچا پاتے ہیں۔

رواں برس جون میں کیے گئے اس جائزے میں دو ہزار سے زائد جرمن شہریوں سے ان کے اخراجات کے بارے میں سوالات پوچھے گئے۔ جائزے کے مطابق 36 فیصد جرمن شہری ریٹائر ہونے کے بعد غربت کا شکار ہو جانے کے خوف میں مبتلا ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ بڑھاپے میں وہ اپنا خرچہ نہیں اٹھا پائیں گے۔

بچت نہ کر سکنے کی کئی وجوہات بھی بتائی گئی ہیں۔ جرمن شہریوں کی اکثریت کا سب سے زیادہ خرچہ رہائش پر اٹھتا ہے اور قریب ہر تیسرا شہری اپنی ماہانہ آمدن کا 30 فیصد کرائے اور رہائش پر اٹھنے والے دیگر اضافی اخراجات پر صرف کر دیتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ خرچہ اشیائے خورد و نوش پر اٹھتا ہے جو اوسط آمدنی کا 19 فیصد ہے جب کہ ہر مہینے نو فیصد آمدن ٹرانسپورٹ پر خرچ ہو جاتی ہے۔

زندگی بھر کام پھر بھی بڑھاپا غربت میں

جرمن حکومت کم آمدنی والے ایسے ہی شہریوں کی پنشن بڑھانے کے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے اور اس ضمن میں آج دس نومبر بروز اتوار تک قانونی مسودہ تیار کر لیا جائے گا۔

ڈی ڈبلیو نے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے والے ایسے ہی ایک ریٹائرڈ شہری سے گفتگو کی اور ان سے پوچھا کہ آیا مجوزہ حکومتی منصوبوں سے ان کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔

بون کے رہائشی 77 سالہ ہانس روڈولف اپنی بیوی کے ہمراہ ایک کمرے کے فلیٹ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ریٹائر ہونے سے قبل انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن کسی کیفے میں بیٹھ کر کافی پینا بھی ایک 'لگژری‘ عمل بن جائے گا۔

روڈولف کے مطابق انہوں نے اسکول کے فوری بعد کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ بینک ملازم اور بعد ازاں ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر مسلسل کام کرنے کے بعد عمر کی ساٹھویں دھائی میں وہ ریٹائر ہو گئے۔

پچانوے سالہ خاتون، جرمنی کی معمر ترین کتب فروش

تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ان کی پنشن محض 335 یورو ماہانہ بنتی ہے جو کہ خط غربت کی طے شدہ لکیر سے بھی کافی کم ہے۔ انہوں نے حکومت سے مالی معاونت کی درخواست کی تو انہیں گھر کے گھر کا نصف کرایہ (300 یورو) دیا گیا جب کہ دیگر نصف ان کی بیوی کو ملنے والی امداد سے پورا ہو جاتا ہے۔

لیکن دنوں بزرگ شہریوں کی مجموعی آمدن سے وہ بمشکل خوراک، انشورنش اور دیگر ضروری بل ہی ادا کر پاتے ہیں۔ ہانس روڈولف کا کہنا تھا، ''دماغ کی سرجری کے بعد میری بیوی بہت کم کھانا کھاتی ہے، میں بھی زیادہ نہیں کھا سکتا۔ تو یوں ہم اپنا باقی خرچہ پورا کر لیتے ہیں۔‘‘

پنشن بڑھانے کا حکومتی منصوبہ

روڈولف اکیلے نہیں بلکہ ایک جائزے کے مطابق قریب 17 فیصد ریٹائرڈ جرمن شہری کم و بیش ایسی ہی صورت حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے اخراجات کے سبب یہ خدشہ بھی ہے کہ مزید شہری ریٹائر ہونے کے بعد خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔

آج اتوار کے روز اسی حوالے سے حکمران جماعتوں کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں معمر افراد کا بوجھ کم کرنے کے لیے ایک حکومتی منصوبے کو حتمی شکل دی جائے گی۔ مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں اس بات پر اتفاق کر چکی ہیں کہ 35 برس پنشن فنڈ دینے والے افراد کے لیے پنشن کی رقم کی کم از کم حد مقرر کی جائے گی۔ یہ مجوزہ منصوبہ سن 2021 سے نافذ العمل ہو گا۔

ریٹائرڈ افراد کو مہاجرین کی مدد کرنا ہو گی

تاہم چانسلر میرکل کی جماعت سی ڈی یو اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے مابین اب بھی کچھ بنیادی نکات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ سی ڈی یو چاہتی ہے کہ ریٹائر افراد کو امداد فراہم کرنے سے قبل ایک ٹیسٹ کے ذریعے یقینی بنایا جائے کہ وہ اضافی حکومتی معاونت کے حق دار ہیں۔ تاہم ایس پی ڈی اس تجویز کی مخالف ہے۔

ہانس روڈولف سے اس بارے میں پوچھا گیا تو وہ بھی ایسے کسی ٹیسٹ کے خلاف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ حکومت پنشن کی ایسی کم از کم حد مقرر کرے جس کے بعد ریٹائر افراد کو حکومت سے سماجی امداد نہ مانگنا پڑے۔

ش ح / ع ا (ڈی پی اے، کرستوفارو)

DW.COM