ایک منٹ کی خاموشی، ہماری کشمیر پالیسی ؟ | دستک | DW | 05.08.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

ایک منٹ کی خاموشی، ہماری کشمیر پالیسی ؟

پاکستانی حکومت نے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پر ایک منٹ کی خاموشی کا اعلان کیا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ کی خصوصی حیثیت پچھلے سال ختم ہوئی، اگلا ممکنہ پلان ان علاقوں میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہو سکتا ہے۔ بھارتی سرکار نے ایک آئینی ترمیم کر کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینکا تو ارتعاش تو ہوئی ہی لیکن ساتھ ہی بے چینی کی لہریں بھی اٹھیں۔

کشمیری ایک طویل عرصے سے آزادی حاصل کرنے یا پھر اسی حال میں ایڈجسٹ ہونے کا ہنر سیکھ رہے تھے۔ کچھ بھی ٹھیک نہ تھا مگر یہ معاملہ جہاں ہے، جیسا ہے کہ بنیاد پر چل ہی رہا تھا۔ سیانے کہتے ہیں یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو محض سرحدی اور علاقائی تنازعہ نہیں بلکہ اب مذہب اور انا کی جنگ بن چکا ہے۔

کبھی نقاب پوش کشمیری لڑکیاں پاکستانی ترانہ گا دیتیں اور ان کی ویڈیو وائرل ہو جاتی تو ہم بھی خوش ہو لیتے کہ دیکھو بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ہوتے ہوئے بھی ان کے دل ہیں پاکستانی۔ کوئی برہان وانی نامی نوجوان آزادی کے خاطر جان کھو دیتا تو ہمیں پوسٹر ہیرو مل جاتا کہ دیکھو لوگو! 'شوق شہادت ابھی زندہ ہے‘۔

کشمیر میں دفعہ 370 کے خاتمے کی برسی پر سخت ترین کرفیو

کشمیری رہنما سیف الدین سوز کی نظر بندی: جھوٹ کون بول رہا ہے؟

پانچ اگست دو ہزار انیس سے پہلے ادھر پاکستان میں بھی یہ کیفیت تھی کہ حالات چل سو چل ہی تھے۔ ہم پانچ فروری کو یوم کشمیر منا لیتے تھے، کیونکہ 'مظلوم‘ کا ساتھ نبھانا اچھا لگتا ہے۔ پاکستانی ستائیسں اکتوبر کو کشمیر پر 'قبضے کی برسی‘ بھی منا لیتے تو ولولے گرم رہتے۔ چھبیس جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ منا لیتے تو گویا بھارت کے خلاف احتجاج کی آخری حجت بھی تمام ہو جاتی ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر کچھ دہائی قبل سارا سال کشمیر کے حوالے سے کوئی نہ کوئی نشریاتی گھنٹہ مقرر ہوتا تھا، پھر یہ گھنٹہ سمٹ کر ایک ترانے تک آیا، یہاں تک کہ پچھلے سال پانچ اگست سے پہلے یہ ترانے بھی شاذ و نادر ہی سنائی دیے۔

قومی اسمبلی سے کشمیر کو 'شہہ رگ‘  کہہ دینے والی ایک قرار داد، 'دشمن‘ کے دانت کھٹے کرنے والا ایک ملٹری بیان، اپوزیشن کا یہ کہنا کہ کشمیر کے معاملے پر حکومت سنجیدہ نہیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تقریر میں وزیر اعظم کے خطاب میں دس منٹ، کسی تُرک رہنما کے دو چار بیانات۔ یوں کشمیر پر روایتی جوش و جذبے کے ساتھ ہماری اللہ اللہ خیر صلا ہو جاتی۔

اچھا خاصا سناٹا چل رہا تھا، یہ تو برا ہو مودی سرکار کا کہ جس نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے سارے خطے میں سکون و تسلسل کی ایسی تیسی کر دی۔ اب نہ کسی ولولہ انگیز ترانے میں وہ سواد رہا نہ کشمیر کی جلتی وادی جیسے نام کے ڈرامے کوئی تشفی دے سکتے ہیں، نیویارک کے ٹائم اسکوائر سے لے کر لندن کے ٹریفلگر اسکوائر تک لگے فری کشمیر کے بینر بھی بس خانہ پُری لگتے ہیں۔

پانچ اگست دو ہزار انیس کے بعد اب پاکستانی دنیا کے منصفوں سے نہیں اپنے ملک کے حکمرانوں سے جواب طلب کرتے ہیں کہ جناب ہم ہر جمعے کو کشمیر کے نام پہ کیوں کھڑے ہوں؟ کشمیر ہائی وے کو نام بدل کر سری نگر ہائی وے کہہ لینے سے مظلوم کشمیری بھائی بہنوں کی امداد کیونکر ہوسکے گی ؟

آخر کب تک سُروں کے سہارے بھارت کو یہ کہتے رہیں گے کہ جا جا نکل جا؟ کیا واقعی لائن آف کنٹرول پر اظہار یکجہتی کے دورے 'بھارتی جبر‘ میں پسے کشمیریوں کے لیے کوئی معنی رکھتے ہیں؟

ایسا نہیں کہ پاکستان کشمیر کو بھول گیا، کشمیر ہمیں یاد رہا لیکن خاص دنوں کے لیے، کشمیر ہماری پالیسی ہے مگر ایک منٹ کی خاموشی کی حد تک۔ ایسا کیسے ؟ آپ خود ہی جانچ لیجیے۔

حکومت پاکستان کی پارلیمانی کشمیر کمیٹی نے کشمیر کاز کے لیے اب تک کتنی بار بیٹھک لگا کر چائے پی، بسکٹ نمکو کھایا آپ کو اس کی تفصیلات تو پارلیمنٹ کے فنانس ریکارڈ سے مل جائیں گی لیکن بمشکل ہی ڈھونڈ پائیں گے کہ اس کمیٹی نے مسئلہ کشمیر کے حل کی خاطر کون سے ٹھوس اقدامات کیے۔

پاکستان میں پارلیمانی سیاست کی کوریج کرنے والے رپورٹرز خوب جانتے ہیں کہ کشمیر کمیٹی، کشمیر سے متعلق قراردادیں اور کشمیر کمیٹی کی چئیرمین شپ یہ غیر اہم موضوعات ہیں، جنہیں خود حکومتیں بھی ترجیح نہیں سمجھتیں۔

وزارت خارجہ کی سطح پر پاکستانی حکومتوں کی معاملہ فہمی اتنی ہے کہ ن لیگ دور حکومت میں یہ وزارت ایک کل وقتی وزیر سے محروم رہی، کشمیر پر کوئی عالمی پریشر تو خاک بننا تھا یہ حکومت اندرونی خلفشار سے الجھی رہی۔

آج کی طرح پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں بھی وزارت خارجہ کی پگڑی شاہ محمود قریشی کے سر پہ تھی، یہ تب بھی کشمیر معاملے میں اتنے ہی متحرک تھے جتنا کے آج ہیں یعنی بے حد مصروف لیکن بے سمت۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مستقل مندوب ملیحہ لودھی جب تک اس عہدے پر رہیں کہیں نا کہیں کشمیر خبروں میں آہی جاتا تھا، ان کے جانے کے بعد یہ فرنٹ بھی غیر فعال سا لگتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع ہو کر ختم بھی ہو گئی، ہم اس جنگ کے نام پر لٹ گئے، کٹ گئے لیکن کشمیر کے معاملے پر ہم کوئی نتیجہ خیز عالمی دباؤ نہیں بنا سکے۔ ہم اپنی اسلامی جمہوری شناخت کو بھی اسلامی ممالک کی لابی بنانے میں کام نہ لاسکے۔

راحیل شریف کا سعودی عرب میں خدمات دینا بھی کشمیر کے مسلمانوں کے لیے بے ثمر رہا۔ چین کے سامنے چوں چرا کی فی الحال گنجائش نہیں ورنہ چین کا کندھا ہی کسی کام آجاتا۔

پاکستانی عوام کشمیری بہن بھائیوں کا دکھ جانتے ہیں، یہ خود کو کشمیر کے لوگوں سے جذباتی اور مذہبی طور پر منسلک سمجھتے ہیں اور اسی ایک کمزوری کے نام پر پچھلے تہتر برسوں سے پاکستانی عوام کو کشمیر کی آزادی کا نعرہ بیچا جارہا ہے، حریت کشمیر کے نغمے بیچے گئے، جدوجہد آزادی کشمیر کے موضوع پر فلمیں ڈرامے بیچے گئے۔

کشمیر پاکستان کی ترجیح کن محاذوں پہ رہا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات تو نہیں۔ پاکستان پر الزام لگے کہ وہ لائن آف کنٹرول کے اُس پار کشمیر میں مسلح علیحدگی پسند تحریک کا معاون رہا، ہم نے حریت پسندی کے نام پر یہ تمغہ اپنے سینے پر سجایا، یہ مسئلہ دونوں ممالک کے بیچ جنگوں کی وجہ بنا یہاں تک کہ یہ ایک روش ہی بن گئی کہ بھارت الزام لگاتا ہے پاکستان تردید کردیتا ہے، نجانے کتنی بار یہ سب ہوا، کتنی بار پھر ہوگا لیکن کشمیر کو حل پھر بھی نہ ملا، کوئی منزل نظر آئی نہ راستہ۔

ویڈیو دیکھیے 08:00

کشمیر میں پچھلے ایک سال کے دوران کیا کچھ بدل گیا؟

ہم نے پاکستان کے نئے نقشے میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کو اپنا حصہ ظاہر کرکے بھارت کو ایک کڑا پیغام تو دے دیا مگر اللہ والیو! استصواب رائے والے مطالبے کا کیا ہوگا، کشمیری بھائی بہنوں کو کچھ تو بتائیں ان سے کوئی تو پوچھے. کوئی تو پوچھے کہ تہتر سال کی اس کشمکش کے بعد اب وہ چاہتے کیا ہیں.

یہ کہتے ہوئے اچھا نہیں لگتا لیکن سچ یہی ہے کہ کشمیریوں سے وفا ہم نے بھی نہیں نبھائی، کشمیر کے لیے ہماری کھوکھلی جدوجہد اس شک میں ڈال دیتی ہے کہ شاید یہ مسئلہ حل کرانا مقصود ہی نہیں، پاکستان بھارت کے اس ہاون دستے میں جو کوئی کچلا جارہا ہے تو وہ کشمیری ہیں.

عام پاکستانی کشمیر کے نام پر ہر چورن، ہر منجن خریدتے رہے ہیں، آگے بھی ہاتھوں ہاتھ لیں گے، لیکن بس اتنا بتا دیجیے کہ آج تک تو جو ہوا سو ہوا، آپ کی اب کشمیر پالیسی کیا ہے۔ کیا کہا؟ 'ایک منٹ کی خاموشی‘ ؟