’ایک در بند، سو در کھلے‘ | معاشرہ | DW | 12.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’ایک در بند، سو در کھلے‘

ہانگ کانگ میں بطور گھریلو ملازمہ کام کرنے والی فلپائن کی ایک خاتون کو رحم مادر کے سرطان کی تشخیص کے بعد اس کے آجر خاندان نے نوکری سے نکال دیا تھا۔ اب اس مریضہ کے علاج کے لیے قریب ساڑھے سات لاکھ ڈالر جمع ہو گئے ہیں۔

ملسل کم خوراکی کا شکار رہنے والی سابقہ گھریلو مازمہ اور سرطان کی مریضہ جین ایلس

ملسل کم خوراکی کا شکار رہنے والی سابقہ گھریلو مازمہ اور سرطان کی مریضہ جین ایلس

ہانگ کانگ سے منگل بارہ مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق اس خاتون کا نام جین ایلس ہے، جو فلپائن سے تعلق رکھتی ہے اور چین کے اس خصوصی انتظامی علاقے میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔

جین ایلس کے بارے میں فروری کے وسط میں ڈاکٹروں نے یہ تشخیص کی تھی کہ وہ رحم مادر کے تیسرے درجے کے سرطان کی مریضہ تھی۔ اس پر اس کے آجر خاندان نے اسے نوکری سے نکال دیا تھا۔

یہ فلپائنی خاتون بے روزگار ہو جانے کی بعد ہانک کانگ میں اپنے لیے میڈیکل انشورنس سے بھی محروم ہو گئی تھی اور اس بات کی حقدار نہیں تھی کہ اس کا علاج ہو سکتا۔ جین ایلس اس وقت اپنی ایک بہن کی آجر خاتون جیسیکا پاپاڈوپولوس کے پاس عارضی طور پر رہ رہی ہے۔ اس کی بہن بھی ایک گھریلو خادمہ ہے۔

کراؤڈ فنڈنگ کے ذریعے عطیات

اسی دوران اس کی مدد کے لیے سوشل میڈیا پر ایک کراؤڈ فنڈنگ مہم شروع کی گئی۔ اس مہم کے دوران کل پیر گیارہ مارچ کی صبح تک جین ایلس کے لیے عطیات کے طور پر قریب ساڑھے سات لاکھ ہانگ کانگ ڈالر جمع ہو چکے تھے۔ یہ رقم تقریباﹰ 95 ہزار امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ یہ گھریلو خادمہ 2017ء میں ملازمت کے لیے فلپائن سے ہانگ کانگ گئی تھی اور وہاں کام کے دوران اس کے آجر خاندان نے اسے کھانے کے لیے شروع سے ہی ناکافی خوراک دینے کا طرز عمل اپنا رکھا تھا۔ اسی دوران جین ایلس کا وزن 16 کلوگرام کم ہو گیا تھا۔

جین ایلس کے لیے مالی عطیات جمع کرنے کی مہم جیسیکا پاپاڈوپولوس نے شروع کی تھی اور وہی اب ہانگ کانگ میں اس خاتون کے علاج کے لیے تمام تر انتظامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے اب سرطان کی اس مریضہ کی طرف سے ہانگ کانگ کے محکمہ محنت کے ذریعے جین ایلس کے سابقہ آجر کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔

جین ایلس واحد مثال نہیں

جین ایلس کی کہانی ہانگ کانگ میں کسی ایک گھریلو ملازمہ کی کہانی نہیں ہے۔ ڈی پی اے نے لکھا ہے کہ فلپائن کی اس خاتون شہری کو درپش حالات اس درد ناک صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں، جن کا چین کے اس خصوصی خطے میں کام کرنے والے گھریلو ملازمین کی بہت بڑی اکثریت کو سامنا رہتا ہے۔

اس وقت ہانگ کانگ میں ایسے غیر ملکی کارکنوں کی تعداد تقریباﹰ تین لاکھ ستّر ہزار بنتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر خواتین ہیں، جو گھریلو خادماؤں کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان میڈز یا گھریلو ملازماؤں کا تعلق زیادہ تر فلپائن اور انڈونیشیا سے ہوتا ہے۔

ڈربوں جیسے حالات میں زندگی

ہانگ کانگ میں سرکاری دفتر شماریات کے مطابق یہ غیر ملکی زیادہ تر ’گھریلو معاونین‘ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا کام بچوں کی دیکھ بھال اور آجر خاندان کے بزرگ افراد کی نگہداشت بھی ہوتا ہے۔ ان غیر ملکی کارکنوں کو قانوناﹰ اپنے آجر خاندانوں کے ساتھ ہی رہنا ہوتا ہے اور اسی لیے ان کے شدید تر استحصال، مسلسل بھوکا رکھے جانے اور جسمانی مار پیٹ کے واقعات بھی اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ ہانگ کانگ میں مجموعی طور پر چونکہ رہنے کے لیے جگہ کی بہت قلت ہے اور گھروں کے کرائے بھی بہت زیادہ ہیں، اس لیے ایسی زیادہ تر گھریلو خادمائیں زمین پر یا الماری نما تنگ جگہوں پر سوتی ہیں اور ڈربوں جیسی صورت حال میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

م م / ع ح / ڈی پی اے

DW.COM