ایک تھی قندیل بلوچ | دستک | DW | 15.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

ایک تھی قندیل بلوچ

وہ کہتی تھی اگر میں چلی گئی تو آپ مجھے بہت ياد کریں گے۔ کیا قندیل اس راز سے آشنا تھی کہ وہ جس چھوٹے سے گھر سے بڑے خواب لے کر نکلی تھی اسی علاقے کی پسماندہ روایات حوا کی اسی بیٹی کو بھی نگل لیں گی۔ عالیہ شاہ کا بلاگ۔

قندیل بلوچ کا قتل اس پدر شاہی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جہاں دس سال کا بچہ اپنی پندرہ سالہ بہن کی رکھوالی کرتا ہوا بازار خریداری کے لیے لے کر جاتا ہے۔ پاکستان اور بھارت جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں عام طور پر عورت یا لڑکی کا بھائی شوہر یا باپ کے بغیر گھر سے باہر نکلنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس پدر شاہی معاشرے میں کاش قندیل بلوچ ایک مرد ہوتا اور داڑھی رکھ سکتا۔ معروف ایرانی مفکر علی شریعتی نے کہا تھا "مجھے انتہائی دکھ ہوتا ہے ان عورتوں کو دیکھ کر جو اپنے اوپر لگا بدنامی کا دھبہ مٹانے کے لیے داڑھی نہیں رکھ سکتیں"۔

قندیل کے خواب بہت بڑے تھے لیکن اسکے گھر کے دروازے بہت چھوٹے۔ وہ اپنے بہت بڑے خوابوں کو پورا کرنے اپنے چھوٹے سے گھر سے نکل آئی۔ لیکن یہ بہت بڑی دنیا اس کے لیے بہت چھوٹی پڑ گئی۔ بڑے بڑے گھروں میں رہنے والوں کے دل بہت چھوٹے نکلے۔ اس نے گلوکاری کی کوشش کی لیکن اس پر سخت تنقید کر کے مقابلے سے نکال دیا گیا اس نے فلموں میں کام کرنا چاہا لیکن اس کی خوبصورت شکل کے باوجود کسی نے اسے فلم میں لینا گوارا نہ کیا۔ کیونکہ اس کی جان پہچان نہیں تھی۔ اس کے پاس پیسہ نہیں تھا۔ پھر آخر اس کو شہرت کا راستہ مل گیا۔ ''سوشل میڈیا‘‘۔

قندیل بلوچ نے سوشل میڈیا کی دنیا میں قدم کیا رکھا کہ اس کی ہر ویڈیو نے خوب پسند کی گئی۔ وہ جان گئی تھی کہ منافق انسانوں کے جذبات سے کیسے کھیلا جاتا ہے۔ لاکھوں لوگ اس کی ویڈیوز کو لائک اور شیئر کرتے لیکن اس پر تنقید سے بھی باز نہ آتے۔ تماش بینوں کے مطابق اس کا لباس اور حرکات نامناسب تھیں۔ اس کی زبان بھی بیہودہ تصور کی جاتی لیکن پھر بھی ویڈیوز کو لازمی دیکھا جاتا۔

جوں جوں اس کی شہرت بڑھتی گئی توں توں ٹی وی پر اس کی مانگ میں اضافہ ہوتا گیا۔ اس کو بھی اپنی مقبولیت سے فائدہ اٹھانا  آ گیا تھا۔ وہ لوگوں کو متوجہ کرنے کے نئے نئے طریقے ڈھونڈتی کبھی عمران خان کے گھر کے باہر پہنچ جاتی تو کبھی جلسے میں اپنی محبت کا پیغام دیتی۔ شاہد آفریدی اور کرکٹ ٹیم کے لیے ویڈیو سے اس نے بے پناہ شہرت حاصل کی۔ پھر مفتی قوی کے ساتھ اس کی ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا۔  اس نے اپنا ایک گانا بھی بنایا جس پر طوفان برپا ہوا کہ یہ لڑکی تو بہت بے حیا اور آزاد خیال ہے، یہ الگ بات کہ اس گانے پر ویوز اور پسندیدگی ملینز میں آئی۔ پاکستان کے ہر بڑے اخبار میں اس پر بلا گز لکھے گئے۔

اس کے فولوورز اور فینز کی بڑی تعداد مرد حضرات پر مشتمل تھی لیکن اس کے مرنے پر سب سے زیادہ آنسو خواتین نے بہائے۔ قندیل بلوچ کے قتل نے اس معاشرے کے سامنے بہت سے سوال کھڑے کر دیے۔

وہ لڑکی جس کو یہ معاشرہ قبول نہ کر پایا اسی معاشرے کی مقننہ کو قندیل بلوچ نے مرنے کے بعد مجبور کر دیا کہ عورتوں کے لیے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون بنایا جائے۔ سن 2016 میں پنجاب میں خواتین کے خلاف تشدد سے تحفظ کا بل منظور کیا گیا۔ اکتوبر سن 2016 میں پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں غیرت کے نام پر قتل اور جنسی زیادتی کے خلاف بل متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

قندیل بلوچ کو کس نے مارا اس معاشرے کی فرسودہ سوچ نے، اس کے بھائی نے یا فتوی لگانے والے مذہبی پنڈتوں اور مفتیوں نے۔ یہ سوال بہت گھمبیر ہے۔ پاکستان میں  چودہ سال کے بچے اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے ہزاروں واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔ سینکڑوں خواتین  جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ سینکڑوں عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں جبکہ انہیں تیزاب پھینک کر جلانا ایک معمو ل کی بات ہے۔ درجنوں بچیاں اغوا ہوتی ہیں۔

عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں تیس خواتین اور 19 مردوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ ہیومن رائٹس کی اس رپورٹ کے باوجود پاکستانیوں کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ عورتوں پر ظلم و ستم، تیزاب پھینکے جانے، انتہائی قریبی یا محرم رشتے داروں کے ہاتھوں ریپ ہونے، جلا کر مار دینے یا ونی کیے جانے کے واقعات من گھڑت اور پروپیگنڈا ہیں۔ اس ذہنیت کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ذہن سازی کرنے کے لیے تعلیم کا فروغ ضروری ہے۔ صرف قانون بنا دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو جاتا بلکہ قانون پر عملدرآمد کرانا سب سے اہم کام ہے۔

نوٹڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔