ایڈز: مزید آگاہی کی اشد ضرورت | معاشرہ | DW | 31.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ایڈز: مزید آگاہی کی اشد ضرورت

زرینہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار کر اس کی لاش کو ایک درخت کے ساتھ لٹکا دیا گیا۔ محض اس لیے کہ اس دیہاتی خاتون میں ایچ آئی وی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

یہ اندوہناک واقعہ پاکستانی صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کی ایک چھوٹی سی تحصیل رتوڈیرو کے ایک گاؤں میں رواں ہفتے ہی پیش آیا۔ مقامی پولیس نے 29 مئی کو میڈیا کو بتایا کہ پانچ بچوں کی ماں زرینہ خاتون کے شوہر نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس قتل کی وجہ ایک ایسی غیر حقیقی غلط فہمی کو قرار دیا، جو ایچ آئی وی / ایڈز کے حوالے سے پاکستانی معاشرے میں عام پایا جاتا ہے۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ چونکہ ایڈز جنسی تعلق کے ذریعے ایک سے دوسرے شخص کو منتقل ہوتی ہے اس لیے اس کی بیوی نے یقیناﹰ کسی کے ساتھ یہ تعلق قائم کیا ہو گا اور اس لیے اس نے زرینہ کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا۔ خیال رہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب رتوڈیرو کے علاقے میں سینکڑوں دیہاتیوں میں ایچ آئی وی وائرس کی موجودگی کی تشخیص ہوئی ہے۔


ایچ آئی وی / ایڈز اور اس کے پھیلاؤ سے متعلق آگاہی

پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد ایچ آئی وی سے متاثر ہے۔ تاہم یہاں اب بھی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی وجوہات اور اس حوالے سے آگاہی کی کمی ہے۔ اس بیماری پر بات کرنا اب بھی معیوب خیال کیا جاتا ہے کیونکہ عوام کی ایک بڑی تعداد اس معتدی مرض کی مکمل وجوہات کے متعلق آگاہی نہیں رکھتی۔

 ان ہی میں سے ایک کراچی سے تعلق رکھنے والی خالدہ بھی ہیں جو اپنا مکمل نام بتانا نہیں چاہتی تھیں۔ کراچی کے سول ہسپتال میں ایچ آئی وی کے تشخیصی مرکز کے باہر بیٹھی خالدہ میں گزشتہ برس ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی تاہم اپنی بیماری کے حوالے سے انہوں نے اب تک اپنے اہل خانہ کو نہیں بتایا ہے۔

ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ انہیں اس بیماری سے منسلک بدنامی کا خوف ہے، "میں ایچ آئی وی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی تھی۔ اسکول کے ایک سیمینار میں اس بارے میں سنا تھا لیکن بات بہت پرانی ہے اس لیے زیادہ یاد نہیں۔ بس یہ خیال ذہن میں رہ گیا تھا کہ یہ بے پرواہ جنسی رویوں یا ایک سے زیادہ جنسی پارٹنر رکھنے کی وجہ سے پھیلتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا،’’جب مجھ میں اس مرض کی تشخیص ہوئی تو مجھے لگا میری زندگی ابھی سے ختم ہو گئی۔ مجھے ڈاکٹر ز نے سمجھا تو دیا ہے کہ صرف ایک یہ ہی وجہ نہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ اگر گھر والوں کو بتایا تو وہ میری بے گناہی کا اعتبار نہیں کریں گے۔ ان کے خیال سے یہ صرف غیر اخلاقی عمل کی وجہ سے خدا کا عذاب ہوتا ہے۔ میں لوگوں کو اس بارے میں بتا کر بدنامی کا داغ برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘

عوام کے ذہنوں میں ایڈز سے متعلق غلط فہمیاں

عوام کی بڑی تعداد میں اس حوالے سے نا مکمل آگاہی پر بات کرتے ہوئے ایڈز کی آگاہی فراہم کرنے والی ایک تنظیم ،پاکستان ایڈز کنٹرول فیڈریشن کے چیف ایگزیکیٹو راجا خالد محمود کہتے ہیں،’’ملک میں ہمارے سامنے جو کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، ان کی تعداد زیادہ نہیں ہے کیونکہ لوگ اپنا ٹیسٹ کروانے سے گھبراتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اگر ایچ آئی وی کسی کو لاحق ہوتا ہے اور ٹیسٹ میں یہ مرض ثابت ہو جاتا ہے تو ان کے ساتھ ملک میں ایک بدنامی جڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مریضوں کی جب کم تعداد سامنے آتی ہے تو یہ خیال کیا جانے لگتا ہے کہ یہ مسئلہ اتنا سنگین نہیں ہے جبکہ حقیقت میں یہ ایک بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔‘‘

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے کو آرڈینٹر ڈاکٹر سکندر اقبال بھی اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں،’’جب سے ہمارے ملک میں ایچ آئی وی وائرس آیا ہے، اس وقت سے لوگوں کے ذہن میں یہ بات نقش ہے کہ یہ بیماری مغرب سے آئی ہے۔ چونکہ وہاں کے کلچر اور رہن سہن میں جنسی آزادی شامل ہے اس لیے لوگوں کے خیال میں یہ بیماری صرف جنسی بےراہ روی کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ یہ ہی خیال دیگر مشرقی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی رائج ہے کہ اس کی وجہ غیر اخلاقی سرگرمیاں اور بے راہ روی ہے۔ پھر اگر خواتین کے حوالے سے دیکھیں تو ان کے لیے یہ بیماری ایک اسٹیگما یا بدنامی کا داغ رہی ہے۔ عموماً اس بیماری سے متاثرہ خاتون پر ان کے اہل خانہ یا شوہر یہ ہی الزام لگاتے ہیں کہ کسی سے تعلقات کے باعث وہ اس مرض میں مبتلا ہوئی ہو گی۔‘‘

ڈاکٹر سکندر اقبال کے مطابق یہ بات عوام کے لیے جاننا نہایت ضروری ہے کہ ایڈز کی وجہ صرف جسمانی یا جنسی تعلقات نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں،’’ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے دنیا میں تین ہی طریقے ہیں۔ ایک تو یہ کہ یا تو خون سے متاثرہ اوزار ہوں یا آلات ہوں مثلاً آپریشن کے آلات یا دندان سازی کے آلات و اوزار ہوں یا پھرسرنج ہو مثلاً استعمال شدہ انجیکشن کا دوبارہ استعمال یا ٹیٹو کی سوئی وغیرہ۔ تو ایسے اوزار، آلات جو ایچ آئی وی سے متاثر کسی شخص پر پہلے سے استعمال کیے گئے ہوں اگر انہیں کسی دوسرے پر استعمال کیا جائے تو ایچ آئی وی کا وائرس خون کے ذریعے منتقل ہوجاتا ہے۔ دوسرا طریقہ جنسی عمل  ہے۔ خواہ عورت اور مرد کا تعلق ہو یا پھر ہم جنسی رجحان ہو، اگر دونوں پارٹنر میں سے ایک میں ایچ آئی وی موجود ہے تو اس سے دوسرا انسان ضرور متاثر ہوگا۔ جبکہ تیسری وجہ ایچ آئی وہ سے متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والی اولاد ہے۔ یعِنی اگر ماں کو یہ مرض ہے تو بچے میں دوران حمل، یا ڈیلیوری کے دوران یا پھر اگر ماں بچے کو اپنا دودھ پلا رہی ہے تو اس کے ذریعے یہ وائرس بچے میں منتقل ہو گا۔‘‘

ایچ آئی وی / ایڈز سے متعلق مصدقہ اعداو شمار

پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے کتنے متاثرین ہیں اس حوالے سے حتمی اعداد و شمار تو نہیں دیے جا سکتے تاہم محکمہ صحت کے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے کو آرڈینٹر ڈاکٹر سکندر اقبال کے مطابق ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ پینسٹھ ہزار کے قریب ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد موجود ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’صرف سندھ میں ہی ایک اندازے کے مطابق ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد ساٹھ ہزار سے زائد ہے۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت ہم مارچ دو ہزار انیس تک سولہ ہزار سے زائد افراد میں تشخیص کر چکے ہیں۔ ان میں اٹہتر فیصد افراد کی تشخیص کراچی سے ہوئی۔‘‘

دوسری جانب سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے تشخیصی مراکز پر ایچ آئی وی سے متاثر مریضوں کی اس ماہ غیر معمولی تعداد سامنے آئی ہے۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے منیجر ڈاکٹر سکندر میمن کے مطابق لاڑکانہ کے تشخیصی مراکز پر چند دنوں کے اندر اب تک سات سو بارہ افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوچکی ہے، جن میں پانچ سو تراسی بچے شامل ہیں۔ ڈاکٹر سکندر میمن بتاتے ہیں کہ اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین صحت اور ماہرین وبائی امراض پر مشتمل عالمی ادارہ صحت کی ٹیم پاکستان پہنچی ہے اور وہ علاقے کا جائزہ اور مریضوں سے مل کر ایڈز پھیلنے کے اسباب کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ تیار کرے گی جبکہ ان کی معاونت کے لیے سندھ ایڈز کنٹرول کے علاوہ صوبائی اور قومی سطح کی ایڈز کی روک تھام کرنے والے ادارے بھی موجود ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 02:39

بھٹو کے شہر لاڑکانہ میں بچے بھی ایچ آئی وی کے شکار

DW.COM

Audios and videos on the topic