ایچ آئی وی کی تشخیص خود کریں، کٹ جلد دستیاب | صحت | DW | 08.06.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ایچ آئی وی کی تشخیص خود کریں، کٹ جلد دستیاب

جرمنی کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والے ایچ آئی وی وائرس کو ٹیسٹ کرنے کے لیے خود تشخیصی کِٹ جلد ہی لوگوں کے لیے دستیاب ہو گی۔ 

جرمن وزارت صحت کے مطابق اس اقدام کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر کوئی آسانی اور اپنی پرائیوسی برقرار رکھتے ہوئے اس خود تشخیصی کٹ کے ذریعے جلد از جلد  یہ جان سکے کہ آیا وہ ایچ آئی وی سے متاثر ہے یا نہیں اور اسی کی بنیاد پر علاج کی جانب متوجہ ہوں۔

وزیر صحت ژینز شپان نے فنکے میڈیا گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ایچ آئی وی کی یہ خود تشخیصی کِٹ ایڈز کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔‘‘ یہ کٹ ان افراد کی دسترس میں بھی ہو گی جو نہیں چاہتے کہ کوئی دوسرا ان میں اس بیماری کی تشخیص کرے۔

ایڈز اپنے خاتمے سے کوسوں دور

ایڈز کے پھیلاؤ کا سبب، بد نامی کا خوف

شپان کے اندازہ ہے کہ جرمنی میں ایچ آئی وی سے متاثر  ایسے 13 ہزار کے قریب افراد موجود ہیں جو یہ جانتے ہی نہیں کہ انہیں مدافعتی نظام تباہ کرنے والی یہ بیماری لاحق ہے۔ جبکہ ایک اندازے کے مطابق جرمنی میں 88 ہزار افراد اس بیماری کے ساتھ جی رہے ہیں۔

اب تک جرمنی میں اس مرض کی تشخیص کے لیے جو طریقہ رائج ہے اس کے مطابق لوگوں کو اپنے خون کے نمونے ہسپتال، خون عطیہ کی سروس یا خصوصی مراکز کو دینا ہوتے ہیں۔ کئی لوگ اس بیماری کی چند وجوہات سے منسلک باتوں سے بچنے کے لیے اپنا ٹیسٹ نہیں کرواتے جس کے باعث یہ بیماری اکثر ایڈز کا روپ دھار لیتی ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ یہ خود تشخیصی کٹ اسی برس کے آخر تک تک فروخت کے لیے پیش کر دی جائے گی۔

ع ف/ ا ب ا (خبر رساں ادارے)

ویڈیو دیکھیے 02:23
Now live
02:23 منٹ

تارکین وطن کے لیے ایچ آئی وی سے بچاؤ کی خصوصی ورکشاپ

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار