ایغور پروفیسر رہا، چین ’وفاداری‘ مسلط کیسے کرتا ہے؟ | معاشرہ | DW | 22.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ایغور پروفیسر رہا، چین ’وفاداری‘ مسلط کیسے کرتا ہے؟

تین برس تک چینی صوبے سینکیانگ کی جیل میں قید رہنے والے ایک ایغور پروفیسر کو اچانک رہا کر دیا گیا ہے، مگر اب وہ اپنی ہی بیٹی کی جدوجہد کو 'چین دشمن‘ قرار دے رہے ہیں۔

ایغور پروفیسر امین جان سیدن کو چینی حکومت نے 'ڈی ریڈیکلائزیشن‘ پروگرام کے تحت تین برس تک پابند رکھا۔ ان کی بیٹی سمیرا امین اور ان دیگر رشتہ دار اس گرفتاری کی اصل وجوہ کی تلاش  کی کوشش میں ہیں۔

سینکیانگ اسلامک انسٹیٹیوٹ میں چینی تاریخ کے سابقہ پروفیسر کو 'شدت پسندہ نظریات کے فروغ‘ کے جرم میں پندرہ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تیس برس تک چینی تاریخ کے پروفیسر رہنے کے ساتھ ساتھ امین سیدن نے سن 2012 میں ایک پبلیکیشن ہاؤس شروع کیا تھا، جس کے ذریعے انہوں نے ٹیکنالوجی، تعلیم، نفسیات اور خواتین کے امور سے متعلق پچاس کتابیں بھی شائع کیں۔

ان کی بیٹی سمیرامین کے مطابق ان کے والد کوئی مذہبی شخصیت بھی نہیں تھے اور عموماً وہ مذہبی امور سے متعلق چینی حکومت کی ہدایات پر عمل پیرا بھی رہتے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: چین ایغوروں کو بلا وجہ گرفتار کر رہا ہے، خفیہ دستاویز

سمیرا امین امریکا میں ایک ہسپتال میں کام کرتی ہیں اور اپنے والد کی قید کے حوالے سے آن لائن آواز اٹھاتی رہی تھیں۔

یہ بات اہم ہے کہ چین میں گزشتہ تین برسوں سے ہزاروں ایغوروں کو سینکیانگ میں 'تعلیمِ نو‘ پروگرام کے تحت حراستی کیمپوں میں رکھا جا رہا ہے اور ان قیدیوں میں ایغور دانش ور بھی شامل ہیں۔

2017 میں سیدن کو سینکیانگ کے ہوتان کے علاقے میں مذہبی امور کے محمکے کی جانب سے منعقدہ ورک گروپ میں شرکت کے لیے جانا تھا۔ وہ علاقائی دارالحکومت اُرمچی سے واپسی پر مئی 2017 میں گرفتار کر لیے گئے اور ان کے اہل خانہ کو ان کے کسی بھی جرم سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

امین کے مطابق ان کے والد پر خفیہ طور پر مقدمہ چلایا گیا، جس میں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سینکیانگ اسلامک سینٹر میں اپنے ساتھیوں کے لیے عربی گرامر سے متعلق ایک کتاب شائع کی۔ اس کتاب میں چند اسلامی حوالے بھی موجود تھے۔ اس کے بعد فروری 2019 میں پروفیسر امین سیدن کو 'شدت پسندانہ نظریات کے فروغ‘ کے جرم میں 15 برس قید کی سزا سنا دی گئی۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں سمیرا امین نے کہا، ''وہ (میرے والد) ہمیشہ سے ایک کھلے ذہن کے انسان ہیں اور گھر پر سیاست سے متعلق بات نہیں کرتے۔ جب مجھے ان کی سزا کا پتا چلا، تو مجھے نہایت افسوس ہوا اور غصہ آیا، کیوں کہ میں میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ چینی حکومت معصوم شہریوں کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیے: ’کیمپوں سے فارغ التحصیل ایغور خوشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں‘

بیجنگ کے ساتھ جبری 'وفاداری‘

رواں برس مئی کی چار تاریخ کو سمیرا امین کو کچھ دوستوں نے بتایا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی نواز چائنی ڈیلی نے ایک ویڈیو شائع کی ہے اور اس میں ممکنہ طور پر ان کے والد دکھائی دیتے ہیں۔ ''مجھے یہ خبر سن کر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ مجھے رونا چاہیے کہ خوش ہونا چاہیے۔ کیوں کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس میں میرے والد مجھے کیا بتا رہے ہوں گے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 03:08

پاکستانی لڑکیاں چین کیسے اسمگل کی جاتی ہیں؟

سمیرا امین نے بتایا کہ اس ویڈیو میں ان کے والد نہایت کمزور دکھائی دے رہے تھے اور ان کے بال منڈے ہوئے تھے،''ظاہر ہے میں اس بات پر خوش تھی کہ وہ زندہ ہیں مگر حیران تھی کہ تین برس میں ان کا وزن اتنا کم کیسے ہو گیا۔ ان کا وزن آدھا ہو چکا تھا اور ان کے اپنے کپڑے انہیں بہت بڑے لگ رہے تھے۔‘‘

اس ویڈیو میں بتایا گیا تھا کہ ان کے والد کو رہا کر دیا گیا ہے، مگر اس ویڈیو میں ان کے والد کا پیغام نہایت عجیب تھا۔ وہ کہہ رہے تھے، ''حال ہی میں کچھ چین دشمن قوتوں نے میری بیٹی کو ورغلایا کہ مجھے غیرقانونی قید میں رکھا گیا ہے۔ یہ خیال بکواس ہے، میں بالکل ٹھیک ہوں، صحت مند ہوں اور آزاد ہوں۔‘‘

اس ویڈیو میں انہوں نے اپنی بیٹی سے کہا، وہ 'افواہوں‘ میں نہ آئے اور ان کی حراست سے متعلق 'غلط اطلاعات‘ پھیلانے سے باز رہے۔

اس ویڈیو میں وہ اپنی بیٹی سے مزید کہتے ہیں، ''کمیونسٹ پارٹی اور حکومت کی مدد کے بغیر وہ پروفیسر نہ ہوتے۔ مجھے یہ جان کر بہت دکھ  ہوا ہے کہ میری بیٹی کیسے غیرملکی چین دشمن قوتوں کے جھانسے میں آ گئی۔‘‘

یہ بھی پڑھیے: ايغور کمیونٹی پر جاری ظلم و ستم: جرمنی کو بھی شدید تشویش

کیا پروفیسر کو واقعی آزادی مل گئی؟

سمیرا امین کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد وہ اپنے والد کی رہائی کی تصدیق چاہتی تھیں۔ انہوں نے اپنے والد کو وائس میسیج بھیجے، جن کا کوئی جواب نہ دیا گیا۔ پھر ان کی والدہ کی جانب سے انہیں ویڈیو کال کی گئی، جس میں ان کے والد بھی موجود تھے، ''اس کال میں میرے والد مجھے بار بار یہ بتاتے رہے کہ چین اور کمیونسٹ پارٹی کتنے عظیم ہیں۔‘‘

جب سمیرا مین نے اپنے والد کو بتایا کہ وہ امریکا میں کام کر رہی ہے، تو اس کے جواب میں انہیں والد نے کہا کہ وہ تعلیم مکمل کرکے چین واپس آجائیں اور شنگھائی یا بیجنگ میں نوکری کر لیں۔

''وہ مجھے بار بار کہتے رہے کہ مجھے ایکٹیوزم سے دور رہنا چاہے۔ وہ مجھے یہ بھی بتاتے رہے کہ مجھے 'خراب لوگوں‘  کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔‘‘

چین کی 'ہوسٹیج ڈیپلومیسی‘

یہ پہلا موقع نہیں کہ چینی حکومت نے کسی ایغور کو رہا کر کے بیرون ملک مقیم ایغوروں کے خلاف پروپیگنڈا ویڈیو بنائی۔ گزشتہ نومبر کو ریاستی سرپرستی میں چلنے والے گلوبل ٹائمز نامی اخبار نے بھی ایک چار منٹ کی ویڈیو نشر کی تھی، جس میں بیرون ممالک مقیم ایغوروں کے اہل خانہ کے انٹرویوز شامل تھے۔ اس ویڈیو میں بھی یہ ایغور چینی حکومت کی تعریفیں کر رہے تھے اور اپنے اہل خانہ سے کہہ رہے تھے کہ وہ چینی حکومت پر تنقید نہ کریں۔

ایغور ہیومن رائٹس پروجیکٹ کے سینیئر پروگرام آفیسر پیٹر اِرون نکے مطابق یہ واضح ہے کہ بیجنگ حکومت ویڈیو کے ذریعے سمیرا امین کو کھلے عام ایک پیغام دے رہے رہی ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں اَرون نے کہا، ''چینی حکومت سینکیانگ میں لوگوں سے کہہ رہی ہے کہ وہ بیرون ملک مقیم اپنے اہل خانہ سے کہیں کہ وہ چین واپس آجائیں۔ چین چاہتا ہے کہ اپنے اہل خانہ کے حقوق کے لیے ایغور کانگریس یا ایغور ہیومن رائٹس پراجیکٹ جیسی تنظمیوں سے بات کرنے والے تمام بیرون ممالک مقیم ایغوروں کو قابو کرے۔‘‘

ع ت، ع ب (ویلیم ینگ ، تائی پے)

DW.COM

Audios and videos on the topic