ایشیا:جام سے جام ٹکرانے کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟ | صحت | DW | 09.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

ایشیا:جام سے جام ٹکرانے کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟

زیادہ آمدنی، زیادہ شراب نوشی؟ جہاں جرمنی میں شراب نوشی کی بلند شرح برقرار ہے وہاں ترقی کی دہلیز پر کھڑے ممالک میں جام نوشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ بھارت اور ویتنام میں الکوحل کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

دی لینسٹ کے ایک تازہ جائزے کے مطابق  1990ء کے مقابلے میں 2017ء کے دوران دنیا بھر کے بالغوں میں شراب  کے استعمال میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح 1990ء میں ایک بالغ سالانہ 5.9 لیٹر الکوحل پیتا تھا جو 2017ء میں بڑھ کر 6.5 لیٹر ہو گئی ہے۔

اس رجحان کو دیکھتے ہوئے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو اگلی دہائی میں الکوحل کا استعمال مزید سترہ فیصد تک بڑھ جائے گا اور 2030ء تک دنیا کے نصف بالغ شہری شراب پی رہے ہوں گے۔

اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے،’’دنیا عالمی سطح پر نقصان دہ الکوحل کے استعمال کو کم کرنے کے ہدف کے راستے پر گامزن نہیں ہے‘‘۔ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے خطرناک حد تک شراب کے استعمال میں 2025ء تک دس فیصد کی کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔

ماہرین نے اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ چین اور بھارت میں شراب نوشی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 2017ء کے دوران چین کی ستتر فیصد آبادی نے کم از کم ایک مرتبہ شراب پی۔ ایک عام چینی شہری سال میں اوسطاً سات لیٹر تک شراب پیتا ہے، جو 1990ء کے مقابلے میں ستر فیصد زیادہ ہے۔ اگر چین سے موازنہ کیا جائے تو ایک بھارتی شہری سال میں چھ لیٹر الکوحل پیتا ہے، جو 1990ء کے اعداد و شمار کے مقابلے میں پچاس فیصد زیادہ ہے۔

وسطی اور مشرقی یورپی ممالک میں یہ تناسب بارہ لیٹر فی کس ہے۔ شمالی افریقہ اور مشرقی وسطی میں یہ شرح انتہائی نچلی سطح پر ہے، یعنی ایک لیٹر سالانہ۔

عالمی ادارہ صحت چاہتا ہے کہ 2018ء سے 2025ء کے دوران الکوحل کے استعمال میں دس فیصد تک کی کمی آئی۔  طبی شعبے کے جریدے دی لینسٹ نے اس جائزے کی تیاری کے لیے دنیا کے 189 ممالک میں 15 سے 99 سال کی درمیانی عمر کے لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے اعداد و شمار اکھٹے کیے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 03:41

شراب صحت کے لیے بہتر ہے یا مضر، سچ کیا ہے؟

DW.COM

Audios and videos on the topic