ایر فرٹ شہر تباہی کے بعد بحال | معلوماتِ جرمنی | DW | 22.05.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معلوماتِ جرمنی

ایر فرٹ شہر تباہی کے بعد بحال

1989ء میں جرمنی کے متحد ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس شہر کی مکمل تعمیرنو کے بجائے پرانے شہر کی مرمت اور تزئین وآرائش اس طرح کی جائے کہ یہ اپنی اصل حالت برقرار رکھے۔

چنانچہ معماروں،رنگسازو اور بڑھئیوں کو یہاں لایا گیا جنہوں نے مرکزی کلیسا کے اطراف کی عمارتوں سمیت شہر بھر کونشاة ثانیہ کےدور کی شکل میں بحال کر دیا۔ عشروں تک نظرانداز رہنے والے اس شہر کوایک بار پھر لوگوں کی  بھر پورتوجہ حاصل ہے۔

دریائے گیرا(River Gera)کے کنارے کسی ریستوران کے گوشے میں بیٹھ کر یہاں کی پرسکون اور رنگوں سے بھری زندگی  سے بخوبی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ دھیمے سروں میں بہتا دریا کا پانی اور ہاتھوں میں مختلف انواع کے مشروب لئےخوش باش لوگوں کی ایک کثیر تعداد دریا کے کنارے تفریح کرتی نظر آتی ہے۔ سیاحوں اور غیرملکیوں کا یہاں گرمجوشی اور کھلے دل سے استقبال کیا جاتا ہے اور یہاں کے باشندے جلد ہی ان سے گھل مل جاتے ہیں۔

Deutschland Vogtland Blick von Weida auf die Osterburg

یہ شہر صوبہ تھیورنگیا میں سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہے

 جرمنی کے صوبے تھیورنگیا(Thüringia) کا سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں کا یہ مرکز ہمیشہ سے عظیم شخصیات کےلئے کشش رکھتا ہے۔ شہر کی تاریخی یونیورسٹی چودہویں صدی کے اوائل میں قائم کی گئی تھی۔ اس یونیورسٹی میں گوئتھے(Goethe)،شِلر(Schiller) اور باخ جیسے نامور شاعروں اور دانشوروں نےتعیلم حاصل کی۔ ان کے علاوہ مارٹن لوتھر(Martin Luther) بھی کچھ عرصے کے لئے یہاں زیرتعلیم رہے۔

اس شہر کی ایک اور وجہ ء شہرت یہاں پر چہل قدمی کے خوبصورت راستے ہیں۔ یہاں کی خاموش و پرسکون شاہراوں کے کنارے خصوصی راستوں پر ہزاروں لوگ چہل قدمی کرتے نظر آتے ہیں۔ اکثر ایک چھوٹی سی خوبصورت "ٹرالی کار" گھر گھر کی آواز ساتھ کسی سڑک کے کونے سے نمودار ہوتی ہے اور خراماں خراماں آگے نکل جاتی ہے۔ یہ ٹرالی کار سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہےاور شہر کی سیر کا نہایت سستا ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے پورے شہر کا ایک چکر صرف ایک یورو تیس سینٹ میں لگایا جا سکتا ہے۔

Bildergalerie Deutschland Martin Luther in Wittenberg Sachsen-Anhalt

مارٹر لوتھر کا ایک مجسمہ

اس میں کوئی شک نہیں کہ شہر کی خوبصورتی اور دلکشی کو قریب سے دیکھنے کا سب سے بہترین ذریعہ پیدل ہی شہر گھومنا ہے۔ قرون وسطٰی کے زمانے کا تاریخی پل جو کہ "پیادوں کا پل"(Krämerbrücke) کہلاتا ہے اس پر دونوں اطراف میں مکانوں کی قطاریں ہیں جن کے درمیان میں ایک شاہراہ بھی ہے اوران مکانات کے مکین اپنے کمروں سے باآسانی مچھلی کا شکار کرسکتے ہیں۔

ستر قدم بلس تک

جغرافیائی طور پر تقریباﹰ پورا شہر ایک بڑے میدانی علاقے میں واقع ہے ماسوائے ایک چھوٹی پہاڑی کے۔ اس پہاڑی کی چوٹی پر مارٹن ڈوم چرچ اور سینٹ سیورین چرچ واقع ہیں، جن تک پہنچنے کے لئےراستہ "ستر قدم بلس تک" کہلاتا ہے۔ ہر سال موسم گرما میں بلس پر قرون وسطٰی اور جدید موسیقی کے اوپن ائیرشوز منعقد کئے جاتے ہیں۔ ان میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں۔

DW.COM