’ایران کے ساتھ فوجی تنازعہ تباہ کن ہو گا‘: عمران خان کا ڈی ڈبلیو کے ساتھ خصوصی انٹرویو | حالات حاضرہ | DW | 16.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’ایران کے ساتھ فوجی تنازعہ تباہ کن ہو گا‘: عمران خان کا ڈی ڈبلیو کے ساتھ خصوصی انٹرویو

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ڈی ڈبلیو کی چیف ایڈیٹر اینس پوہل کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کشمیر کے تنازعے سے متعلق بین الاقوامی برادری کے ’قدرے سرد‘ ردعمل اور ایران کے حوالے سے موجودہ بحران پر تفصیلی بات چیت کی۔

اینس پوہل: مسٹر خان! آپ کا کام شاید دنیا کے مشکل ترین فرائض میں سے ایک ہے۔ پاکستان کو امریکا اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنا ہے۔ بیجنگ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے لیکن اس وجہ سے اسلام آباد کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات دباؤ میں ہیں۔ پاکستان کی سرحدیں افغانستان اور ایران جیسے ممالک سے بھی ملتی ہیں، جہاں تنازعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ آپ اس صورت حال کا سامنا کیسے کر رہے ہیں؟

عمران خان: میں سیاست میں اس لیے آیا تھا کہ میں نے محسوس کیا تھا کہ پاکستان کے پاس بہت زیادہ صلاحیتیں اور امکانات ہیں۔ جب میں بڑا ہو رہا تھا تو پاکستانی معیشت ایشیا میں سب سے زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کر رہی تھی اور یہی بات 1960ء کے عشرے میں ترقی کے لیے ایک ماڈل ثابت ہوئی تھی۔ پھر ہم راستے سے بھٹک گئے۔ میرا سیاست میں آنے کا مقصد پاکستان کی انہی صلاحیتوں کا دوبارہ حصول تھا۔

یہ درست ہے کہ ہم مشکل ہمسائیگی والے ماحول میں رہتے ہیں اور ہمیں اپنے اقدامات کو متوازن رکھنا ہی ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب پاکستان کے عظیم ترین دوستوں میں سے ایک ہے اور ہمیشہ ہمارے ساتھ رہا ہے۔ پھر ایران ہے، جس کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ان دونوں ممالک کے مابین تعلقات خراب نہ ہوں۔ یہ ایک ایسا خطہ ہے، جو ایک اور تنازعے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

پھر ہمارا ہمسایہ ملک افغانستان بھی ہے۔ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنی بہترین کوششیں کر رہا ہے، ایک ایسا ملک جس نے گزشتہ 40 برسوں میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ طالبان، امریکا اور افغان حکومت مل کر قیام امن کی منزل حاصل کر لیں۔

اینس پوہل: گزشتہ برس پاکستان اور بھارت ایک نئی جنگ کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔ اگست 2019ء میں جب بھارتی وزیر اعظم مودی نے نئی دہلی کے زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دینے کا اعلان کیا، تب سے صورت حال خراب تر ہو چکی ہے۔ اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے آپ کی حکومت کیا کر رہی ہے؟

عمران خان: میں وہ پہلا لیڈر تھا، جس نے دنیا کو اس بارے میں خبردار کیا تھا کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے۔ بھارت پر ایک ایسی خاص انتہا پسندانہ نظریاتی سوچ غالب آ چکی ہے، جو 'ہندتوا‘ کہلاتی ہے۔ یہ آر ایس ایس (راشٹریہ سوایم سویک سنگھ) کی نظریاتی سوچ ہے۔ آر ایس ایس ایک تنظیم کے طور پر 1925ء میں قائم کی گئی تھی، جرمن نازیوں سے متاثر ہو کر، اور اس کے بانی نسلی برتری پر یقین رکھتے تھے۔ اسی طرح جیسے نازی آئیڈیالوجی کی بنیاد اقلیتوں سے نفرت پر رکھی گئی تھی، آر ایس ایس کی بنیاد بھی مسلمانوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں سے نفرت ہی ہے۔

یہ بھارت کے لیے ایک المیہ ہے اور اس کے ہمسایوں کے لیے بھی، کہ اس ملک پر آر ایس ایس نے قبضہ کر لیا ہے، وہی آر ایس ایس جس نے عظیم مہاتما گاندھی کو قتل کروایا تھا۔ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ایک ایسا ملک ہے، جسے انتہا پسند چلا رہے ہیں۔ کشمیر گزشتہ پانچ ماہ سے مسلسل محاصرے کی حالت میں ہے۔

اینس پوہل: کیا آپ وزیر اعظم مودی کے ساتھ ان معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں؟

عمران خان: جب میں وزیر اعظم بنا تو میں نے بھارتی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مکالمت کی کوشش کی۔ میں نے اپنی پہلی ہی تقریر میں کہہ دیا تھا کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھے گا تو ہم اپنے باہمی اختلافات دور کرنے کے لیے دو قدم آگے بڑھیں گے۔ لیکن جلد ہی میں نے یہ دیکھ لیا کہ بھارت نے آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی کی وجہ سے اس پر کوئی بہت اچھا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ یہ بات اس وقت بھی پوری طرح ظاہر ہو گئی تھی، جب بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کو اپنے ریاستی علاقے میں ضم کر لیا، حالانکہ اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں کے مطابق بھی یہ خطہ پاکستان اور بھارت کے مابین ایک متنازعہ علاقہ ہے۔

اینس پوہل: لیکن وزیر اعظم خان! بہت سے لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی تو انسانی حقوق کے احترام کی صورت حال بہت اچھی نہیں ہے۔ اس پر آپ کیا کہیں گے؟

عمران خان: دیکھیے، اس کا پتہ چلانا بہت ہی آسان ہے۔ ہم دنیا کے کسی بھی حصے سے کسی کو بھی پاکستان آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ آئیے، پہلے اس طرف کے کشمیر کا دورہ کیجیے اور پھر بھارت کے زیر انتظام حصے کا۔ خود ہی فیصلہ کر لیجیے۔

اینس پوہل: مگر پھر بھی، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتظامیہ کے خلاف مظاہروں کی اجازت بھی تو نہیں دی جاتی۔ تو یہ بھی تو پھر اظہار رائے کی آزادی نہ ہوئی۔

عمران خان: آزاد کشمیر میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہوتے ہیں اور اس حصے کے عوام ہی وہاں کی حکومت منتخب کرتے ہیں۔ کسی بھی دوسری انتظامیہ کی طرح، ان کی بھی مشکلات ہیں۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا، ہماری طرف سے دنیا بھر سے مبصرین کو بلا لیجیے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ مبصرین کشمیر کے پاکستانی حصے میں جا سکتے ہیں مگر انہیں کشمیر کے بھارتی حصے میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اینس پوہل: آپ کشمیری عوام کی آزادی کی وکالت کرتے ہیں، جیسا کہ آپ نے گزشتہ برس اقوام متحدہ میں بھی کیا، تو کیا آپ یہ نہیں سوچتے کہ بین الاقوامی برادری اس وقت آپ کے مطالبات پر زیادہ توجہ دے گی، جب آپ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی عوام کو مظاہروں کی اجازت دے دیں گے؟

عمران خان: کشمیر کے لوگوں کو ہی یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ پاکستان کسی بھی ریفرنڈم یا استصواب رائے کے لیے تیار ہے۔ یہ فیصلہ کشمیریوں کو خود کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزادی۔

اینس پوہل: کیا آپ یہ سوچتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کشمیر کے تنازعے پر بہت کم توجہ دے رہی ہے؟

عمران خان: افسوس، لیکن ایسا ہی ہو رہا ہے۔ آپ ہی سوچیے کہ ہانگ کانگ میں احتجاجی مظاہروں کو میڈیا کتنی توجہ دے رہا ہے۔ کشمیر کا المیہ تو اس سے بہت ہی بڑا ہے۔

اینس پوہل: آپ کی رائے میں ایسا کیوں ہو رہا ہے؟

عمران خان: بدقسمتی سے مغربی ممالک کے لیے ان کے تجارتی مفادات زیادہ اہم ہیں۔ بھارت ایک بڑی منڈی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آٹھ ملین کشمیریوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اور جو کچھ بھارت میں مجموعی طور پر اقلیتوں کے ساتھ بھی، اس پر بین الاقوامی برادری کے رویے میں قدرے سرد مہری پائی جاتی ہے۔ بھارت کا شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) واضح طور پر اقلیتوں کے خلاف ہے، خاص طور پر بھارت کے 200 ملین مسلمانوں کے خلاف۔ ان تمام امور پر دنیا کے خاموش رہنے کی وجہ زیادہ تر تجارتی مفادات ہیں۔

اس کے علاوہ اسٹریٹیجک حوالے سے بھارت کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ چین کی موازن قوت بنے، تو اس لیے بھی ان دونوں تنازعات کے بارے میں عالمی رویے بالکل مختلف ہیں۔

انیس پوہل: مسٹر خان، اس بارے میں جرمنی اور یورپی یونین کیا کر سکتے ہیں؟

عمران خان: میری رائے میں جرمنی بہت بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔ جرمنی یورپ کا مضبوط ترین ملک ہے اور یورپی یونین کا بہت بڑا رکن ملک بھی۔ جب میں نے چانسلر میرکل سے بات کی تھی، تو میں نے انہیں ان امور کی وضاحت کی تھی، یہ کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے۔ اور انہوں نے دراصل اس بارے میں ایک بیان بھی دیا تھا، جب وہ بھارت کے دورے پر تھیں۔

اینس پوہل: افغان امن مذاکرات کی موجودہ صورت حال کیا ہے؟

عمران خان: میرے خیال میں ایک فائر بندی کی طرف پیش رفت جاری ہے۔ صدر اشرف غنی کے دوبارہ انتخاب کے بعد افغانستان میں نئی حکومت اقتدار میں آ چکی ہے۔ ہم امید کر رہے ہیں کہ امریکا اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے۔

افغانستان میں قیام امن سے وسطی ایشیا میں تجارت کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ تب افغانستان ہمارے لیے بھی ایک اقتصادی راہداری بن جائے گا۔ جب افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا، تو اس کا فائدہ ہمارے اس صوبے خیبر پختونخوا کے عوام کو بھی پہنچے گا، جس کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔

اینس پوہل: آپ ظاہر ہے کہ امریکا کی مدد کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے افغان طالبان کے ساتھ موجودہ رابطے کتنے قریبی ہیں؟

عمران خان: پاکستان نے ان امن مذاکرات میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ طالبان نے کچھ لوگوں کو یرغمال بنا رکھا تھا اور پاکستان کی مدد سے دو مغربی یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو گئی۔ اس لیے، ہمارا جتنا بھی اثر و رسوخ ہے، ہم اپنی پوری کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اینس پوہل: آپ کشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق کی صورت حال پر بہت تنقید کرتے ہیں، لیکن جب چین اور ایغور مسلمانوں کی بات ہوتی ہے، تو آپ اتنے بلند آواز نہیں ہوتے۔ ایسا کیوں ہے؟ میں دیکھ رہی ہوں، کہ آپ خود کو مسلم دنیا کے مختلف ممالک کے مابین پل کے طور پر پیش کرنا پسند کرتے ہیں، تو پھر آپ ایغور باشندوں پر جبر کے حوالے سے چین کے بارے میں زیادہ کھل کر بات کیوں نہیں کرتے؟

عمران خان: زیادہ تر دو وجوہات کی بنا پر۔ پہلی یہ کہ جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے، اس کا موازنہ اس کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا جو کہا جاتا ہے کہ چین میں ایغور باشندوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ چین ہمیشہ ہی ہمارا بہت قریبی دوست رہا ہے۔ چین نے ان انتہائی مشکل حالات میں بھی ہماری بہت مدد کی، جب میری حکومت کو گزشتہ حکومت سے ورثے میں ایک پورا اقتصادی بحران ملا تھا۔ اس لیے ہم چین کے ساتھ مختلف امور پر نجی سطح پر تو بات کرتے ہیں لیکن عوامی سطح پر نہیں، کیونکہ یہ حساس معاملات ہیں۔

اینس پوہل: دو آخری سوال، آپ برطانیہ کی لیڈی ڈیانا کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ آپ ان کے چھوٹے بیٹے پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل کے اس فیصلے کے بارے میں کیا کہیں گے جس کے تحت وہ برٹش رائل فیملی میں اپنے شاہی کردار سے دستبردار ہو جائیں گے؟

عمران خان: مجھے پاکستان میں اتنے زیادہ مسائل پر توجہ دینا ہوتی ہے کہ مجھے یہ کوئی بہت بڑا موضوع لگا ہی نہیں۔ دیکھا جائے، تو یہ ان کی اپنی زندگی ہے۔ اگر وہ اپنی زندگی اس طرح گزارنا چاہتے ہیں، تو کسی کو بھی اس میں کوئی مداخلت بھلا کیوں کرنا چاہیے؟

اینس پوہل: کیا آپ کے خیال میں ڈیانا اس شاہی جوڑے کے فیصلے کو سمجھ سکتیں؟

عمران خان: میرا خیال ہے، ہاں۔ ویسے میں نے اس بات پر زیادہ غور نہیں کیا۔ اگر کوئی نوجوان جوڑا اس طرح اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہے، تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے۔

اینس پوہل: بہت شکریہ، مسٹر پرائم منسٹر

ڈی ڈبلیو کی چیف ایڈیٹر اینس پوہل نے عمران خان کے ساتھ یہ انٹرویو اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس میں کیا۔

شامل شمس، اسلام آباد (م م / ع ا)

DW.COM