ایران کے خلاف نیتن یاہو امریکا کے ساتھ تعلقات داو پر بھی لگانے کو تیار | حالات حاضرہ | DW | 02.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران کے خلاف نیتن یاہو امریکا کے ساتھ تعلقات داو پر بھی لگانے کو تیار

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو نا کام بنانا اسرائیل کے لیے کہیں زیادہ اہم ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے ہر ممکن روکیں گے اور اگر اس کی جوہری صلاحیتو ں کوختم کرنے کا معاملہ ہو تو وہ امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو داو پر بھی لگانے کو تیار ہیں۔

نیتن یاہو، جن کا سیاسی مستقبل خود داو پر لگا ہوا ہے اور اقتدار پر برقرار رہنے یا اس سے محروم ہو جانے کے فیصلے میں محض گیارہ دن باقی رہ گئے ہیں، نے کہا کہ اسرائیل کے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایران کا جوہری طاقت بننا ہے۔ کیونکہ اگر ایران جوہری طاقت بن گیا تو اسرائیل کی اب تک کی تمام تر کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔

ایران کے خلاف کچھ بھی کریں گے، نیتن یاہو

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے نئے سربراہ ڈیوڈ بانیا کی تقرری کی تقریب سے منگل کے روزخطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل،ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے پوری طرح تیار ہے خواہ امریکا اور دیگر ممالک سن 2015 کے ایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے میں کامیاب ہی کیوں نہ ہو جائیں۔

نیتن یاہو کا تاہم کہنا تھا”ہمیں امید ہے کہ ایران کے معاملے پر اپنے عظیم دوست امریکا کے ساتھ کسی طرح کا اختلاف نہیں ہوگا۔ ہمیں اپنے وجود کو لاحق خطرے کو روکنا ہے اور ہم اس میں کامیاب او ر غالب ہوں گے۔"

خیال رہے کہ ایران ماضی میں ایرانی جوہری سائنس دانوں پر قاتلانہ حملوں اور اپنے جوہری تنصیبات کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیل پر الزامات عائد کرتا رہا ہے۔

نیتن یاہو کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان سن 2015 کے جوہری معاہدے کو از سرنو بحال کرنے کے لیے ویانا میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن چاہتے ہیں کہ یہ جوہری معاہدہ نئے سرے سے بحال ہوجائے جس سے ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں یک طرفہ طور امریکا کو الگ کرلیا تھا اور اسلامی جمہوریہ پر مزید پابندیاں عائد کردی تھیں۔

اس معاہدے کے تحت ایران کو اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرنے کے عوض میں اقتصادی پابندیوں میں راحت دینے کی بات کہی گئی ہے۔

نیتن یاہو اس معاہدے کے سخت مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاہدے میں ایران سے جن سرگرمیوں سے محدود کرنے کی بات کہی گئی ہے وہ اسے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کے لیے ناکافی ہیں۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور جوہری معاہدے کو کسی بھی ترمیم کے بغیر سابقہ حیثیت میں ہی بحال کیا جائے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے نیتن یاہو کے بیان کی نکتہ چینی کی

 اسرائیل کے وزیر دفاع بینی گینٹز نے نیتن یاہو کے امریکا سے متعلق بیان کی نکتہ چینی کی۔

بینی گینٹز نے ٹوئٹر پر پوسٹ معتدد ٹوئٹس میں کہا کہ اختلافات کے باوجود امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات وسیع اور گہرے ہیں۔ امریکا ہمیشہ اسرائیل کا اہم ترین اتحادی رہاہے اور آج بھی ہے۔ جو بائیڈن انتظامیہ تل ابیب کی حقیقی دوست ہے اور اسرائیل کا امریکا سے بڑھ کر کوئی اور اتحادی نہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے معاملے میں امریکا کے ساتھ اختلافات کو بند کمرے میں حل کرنا چاہیے نہ کہ اس پر کھلے عام بحث کی جائے۔ اس طرح کی باتیں اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز اس ہفتے واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں۔ وہ اپنے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن اور امریکی سلامتی مشیر جیک سولیون سے بھی ملاقات کریں گے اور ایران اور خطے میں سلامتی کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔

 ج ا/ ص ز  (اے پی)

 

DW.COM