ایران، چین اور روس کی بحری مشقیں | حالات حاضرہ | DW | 21.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران، چین اور روس کی بحری مشقیں

ایران، چین اور روس کی بحری افواج شمالی بحر ہند میں تیسری فوجی مشقوں میں مصروف ہیں۔ یہ بات ایرانی سرکاری میڈیا نے جمعے کے روز بتائی۔

ایرانی بحریہ کے ریئر ایڈمرل مصطفیٰ تاجلدینی نے بتایا کہ ان میرین سکیورٹی بیلٹ 2020 بحری فوجی مشقوں میں ایرانی مسلح افواج اور پاسدارانِ انقلاب شریک ہیں اور یہ سترہ ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے میں جاری ہیں۔

 ایران نے مشقوں کے دوران میزائل داغے

امریکا،اسرائیل کے ساتھ امارات اور بحرین کی پہلی مشترکہ بحری مشق

ان کا کہنا تھا کہ یہاں مختلف ٹیکٹیکل مشقیں انجام دی جا رہی ہیں، جن میں جلتی کشتی کو ریسکیو کرنا، ہائی جیکڈ کشتی کو چھڑانا اور رات میں فضائی اہداف کا نشانہ بنانا شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان مشقوں کا آغاز جمعے کی علیٰ صبح ہوا ہے۔

ان تین ممالک نے بحرہند اور بحیرہ عمان میں مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز سن 2019 میں کیا تھا۔ تاجلدینی کا کہنا تھا، ''ان مشقوں کا مقصد سکیورٹی اور خطے میں اس کی اساس کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ باہمی تعاون کو وسعت دینا ہے، تاکہ عالمی امن، بحری سکیورٹی اور مشترکہ مستقبل کا حامل ایک میرین کمیونٹی کا قیام ہے۔‘‘

گزشتہ برس جون میں اقتدار سنبھالنے والے سخت گیر نظریات کے حامل صدر ابراہیم رئیسی چین اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو گہرا بنانے میں مصروف ہیں۔ ستمبر میں تہران نے شنگھائی تعاون تنظیم میں بھی شمولیت اختیار کر لی تھی۔ شنگھائی تعاون تنظیم وسطی ایشیائی ریاستوں کی ایک سکیورٹی تنظیم ہے، جس کی قیادت روس اور چین کرتے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 02:24

کیا ایران کی قدیم تاریخ معدوم ہوجائے گی؟

ایرانی وزیرخارجہ حسین عامر عبدالہیان گزشتہ ہفتے ہی چین کا دورہ کر کے لوٹے ہیں، جب جمعرات کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ایران اس وقت عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے احیا کی بات چیت میں بھی مصروف ہے۔

ع ت، ع ب (روئٹرز، اے ایف پی)