ایران: پُر تشدد مظاہروں کے بعد اب حکومت کی حمایت میں ریلیاں | حالات حاضرہ | DW | 03.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران: پُر تشدد مظاہروں کے بعد اب حکومت کی حمایت میں ریلیاں

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک بھر میں ایک ہفتے سے جاری پُر تشدد مظاہروں اور بد امنی کے بعد اب حکومت کی حمایت میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے ہوا تھا۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی پر ملک کے مختلف شہروں میں حکومت کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیوں کی فوٹیج دکھائی جا رہی ہے۔ پریس ٹی وی کے مطابق یہ مظاہرے ایران میں بد امنی اور انتشار کا سبب بننے والے ایک ہفتے سے جاری مظاہروں کے خلاف احتجاج کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔

پریس ٹی وی پر دکھائی جانے والی اس فوٹیج میں مظاہروں میں شریک ہزاروں افراد کو ایرانی جھنڈے لہراتے اور ایرانی حکومت کے حق میں نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ احتجاجی ریلیاں گرگان، اھواز ، کرمانشاہ اور دیگر ایرانی شہروں میں نکالی گئیں۔

مظاہرین کے شرکاء کا نعرہ تھا، ’’اے ہمارے رہنما ہم تیار ہیں۔‘‘ بیشتر افراد نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر کے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔

حکومت کے حق میں ریلیوں کا یہ سلسلہ آیت اللہ خامنہ ای کے گزشتہ روز کے اُس بیان کے بعد سے شروع ہوا جس میں انہوں نے ملک میں جاری مظاہروں کا الزام تہران کے ’غیرملکی دشمنوں‘ پر عائد کیا تھا۔

 ایران کے اس اعلیٰ ترین رہنما نے یہ بھی کہا تھا کہ حالیہ کچھ دنوں کے دوران ایران کے دشمن آپس میں متحد ہو گئے ہیں اور انہوں نے رقوم، ہتھیاروں کی فراہمی، اپنی پالیسیوں، انٹیلیجنس اور سکیورٹی کے شعبوں میں اپنی سروسز سمیت تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک منصوبہ تیار کیا، جس کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے مسائل کھڑے کرنا ہے۔

DW.COM

اشتہار