1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
Schweiz Afghanistan-Konferenz in Genf Heiko Maas
تصویر: picture-alliance/dpa/S. Di Nolfi

ایران پر زیادہ دباؤ کی پالیسی ٹھیک نہیں، جرمن وزیر خارجہ

19 جنوری 2020

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی امریکی پالیسی پر تنقید کی۔ انہوں نے خطے میں انتہائی کشیدگی سے خبردار کرتے ہوئے تہران سے انسانی حقوق کی پاسداری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

https://www.dw.com/ur/%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D9%BE%D8%B1-%D8%B2%DB%8C%D8%A7%D8%AF%DB%81-%D8%AF%D8%A8%D8%A7%D8%A4-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%D9%84%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%D9%B9%DA%BE%DB%8C%DA%A9-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AC%D8%B1%D9%85%D9%86-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%AE%D8%A7%D8%B1%D8%AC%DB%81/a-52058145

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے روزنامے بلڈ ام زونٹاگ کی اتوار کو شائع ہونے والی اشاعت میں کہا کہ دھمکی آمیز رویے اور عسکری کارروائیوں سے ایرانی قیادت کے طریقہ کار پر کوئی فرق نہیں پڑا،'' ہمیں یہ ذہن میں نہیں لانا چاہیے کہ باہر سے بیٹھ کر ایران میں قیادت کے بدلنے سے وہاں کی صورتحال خود بہ خود بہتر ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر عراق میں یہ تجربہ ناکام ثابت ہوا ہے۔‘‘

ماس کے مطابق اگر ایرانی عوام کے حالات بدلنے کی خواہش ہے تو مذاکراتی عمل کے روکنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا، ''ہمیں ایران سے بات کرنا ہو گی اور ان سے انسانی حقوق پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنا ہو گا۔ دھمکیاں اور عسکری اشتعال انگیزی سے کچھ  بھی حاصل نہیں ہوا۔ ہم مشرق وسطی میں آگ کو بڑھکنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ یورپی یونین اشتعال انگیزی کے بجائے سفارت کاری کی حمایت کرتی ہے۔‘‘

Bundesaußenminister Heiko Maas in Teheran
تصویر: picture-alliance/AA/Iranian Presidency

مل کر آگے بڑھیں

ہائیکو ماس کے بقول امریکا اور یورپ کا اس بارے میں موقف ایک دوسرے سے مختلف ہے، '' امریکا نے جوہری معاہدے سے یکطرفہ الگ ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اختیار کی جبکہ دوسری جانب ہم مذاکرات کے ذریعے مل کر پیش رفت کے خواہاں ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے پر دستخط کنندہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی جوہری معاہدے پر عمل درآمد چاہتے ہیں تا کہ ایران جوہری بم نہیں بنا سکے۔

اس موقع پر جرمن وزیر نے تہران حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں اور فرائض پر عمل درآمد کرتی رہے، جن کا ذکر جوہری معاہدے میں کیا گیا ہے،''یورینیئم کی انتہائی افزودگی کو روکنا ہو گا۔ اسی طرح جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کو ایران میں تمام جوہری تنصیبات تک رسائی دینا ہو گی تاکہ بہتر نگرانی کی جا سکے۔‘‘

امریکا مئی 2018ء میں جوہری معاہدے الگ ہو گیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردی تھیں۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ اس معاہدے کو بچانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

Symbolbild UN-Sicherheitsrat fordert in Iran-Krise Zurückhaltung
تصویر: picture-alliance/dpa/R. Hirschberger

ع ا / ع ح  (ڈی ڈبلیو)

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

پاکستانی فوج سیاست سے دور ہی رہے گی، جنرل باجوہ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں
ہوم پیج پر جائیں