ایران نے عرب سربراہی اجلاس کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا | حالات حاضرہ | DW | 31.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران نے عرب سربراہی اجلاس کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا

سعودی عرب علاقائی نقطہ نظر تہران کے خلاف کرنے کی ’مایوس‘ کوشش کے لیے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ شامل ہو گیا ہے، ایران نے یہ کہتے ہوئے عرب سربراہی اجلاس میں اپنے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے عرب ممالک کے سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ خطے میں ایرانی اشتعال انگیزیوں کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔

ایران نے عرب ممالک کے اجلاس کے دوران لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے رد کر دیا ہے۔ ایرانی نیوز ایجنسی IRNA کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے بعض عرب ممالک کے سربراہان کی جانب سے بے بنیاد الزامات کو رد کیا ہے اور کہا ہے: ’’ہم سعودی کوششوں کو امریکا اور صیہونی حکومت کی طرف سے علاقائی رائے کو ایران کے خلاف کرنے کی مایوسانہ کوششوں کے حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘

بین الاقوامی برادی ایران کا سامنا کرنے کے لیے تعاون فراہم کرے، شاہ سلمان  

سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان نے گزشتہ روز ہونے والے خلیجی تعاون کونسل کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری مشترکہ طور پر سعودی حکومت کو تعاون فراہم کرے تا کہ ایران کا سامنا کیا جا سکے۔ سعودی بادشاہ نے یہ بھی کہا کہ متحدہ عرب امارات کی سمندری حدود میں تیل کے  چار ٹینکروں کو نقصان پہنچانے کی کوششں علاقائی صورت حال بگاڑنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔

شاہ سلمان نے یہ بھی کہا کہ یمنی باغیوں کے ذریعے سعودی عرب کی تیل کی پائپ لائن پر حملے سے خلیجی تعاون کونسل کے چھ ملکوں کے سکیورٹی اور دیگر مفادات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب امن کے قیام کی ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔

سعودی عرب میں مسلم ممالک کے تین اہم سربراہی اجلاس

ایک ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ عروج پر ہے سعودی عرب میں عرب اور مسلم ممالک کے تین اہم اجلاس ہو رہے ہیں۔ پہلا سربراہی اجلاس خلیجی تعاون کونسل کے چھ ممالک کا جمعرات 30 مئی کو ہوا۔ اس کے بعد بائیس عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ کا اجلاس بھی ہوا ہے جبکہ تیسری سمٹ مسلم ملکوں کی تنظیم آو آئی سی کی ہے جو آج جمعہ 31 مئی کو مکہ میں ہی ہو رہی ہے۔ او آئی سی کے اس اجلاس میں ستاون مسلمان ممالک کے نمائندے اور رہنما شریک ہو رہے ہیں۔

پاکستانی وزیراعظم عمران خان بھی اس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ جمعرات تیس مئی کو او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا جس میں آج کے سربراہی اجلاس کے ایجنڈے پر گفتگو کی گئی۔

Saudi-Arabien Hadsch in Mekka

مسلمانوں کے لیے مقدس ترین شہر مکہ میں مسلم ممالک کے یہ سربراہی اجلاس ایک ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب ایران کے معاملے پر خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

سعودی عرب میں مسلمانوں کے لیے مقدس ترین شہر مکہ میں مسلم ممالک کے یہ سربراہی اجلاس ایک ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب ایران کے معاملے پر خطے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ امریکا نے ایران سے لاحق نا معلوم خطرات کے پیش نظر نہ صرف اپنا ایک طیارہ بردار بحری بیڑا خلیج فارس میں تعینات کر رکھا ہے بلکہ اپنے جدید بمبار طیارے بی 52 بھی علاقے میں بھیجے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیڑھ ہزار اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا بھی فیصلہ ہو چکا ہے۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ا ب ا / ک م (روئٹرز، اے پی، اے ایف پی)

DW.COM