ایران نے خفیہ جوہری مرکز قائم کر رکھا ہے، اسرائیلی دعویٰ | حالات حاضرہ | DW | 28.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران نے خفیہ جوہری مرکز قائم کر رکھا ہے، اسرائیلی دعویٰ

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں الزام عائد کیا ہے کہ ایران نے ایک خفیہ جوہری مرکز قائم کر رکھا ہے۔ ایران نے ان اسرائیلی دعووں کی تردید کی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں بینجمن نیتن یاہو نے نقشے اور تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ تہران کے نواح میں ایک خفیہ جوہری مرکز قائم کیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران حکومت جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے منصوبے کو ترک کرنے پر تیار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ایران نے اب تک جوہری ہتھیاروں کی تیارے کا ہدف ترک نہیں کیا۔‘‘

اب اسرائیل شام پر حملوں سے قبل کئی بار سوچے گا، شامی وزیر

فوجی پریڈ پر حملہ، امریکا اور اسرائیل سے بدلہ لیں گے، ایران

اس سے قبل بھی نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا فلور ایران کے خلاف سخت ترین تنقید کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔ اس بار بھی نتین یاہو نے اقوامِ عالم سے خطاب میں کہا، ’’اسرائیل ایرانی حکومت کو کبھی اجازت نہیں دے گا کہ وہ ہماری تباہی کے لیے جوہری ہتھیار تیار کرے۔ اب بھی نہیں، دس برس میں بھی نہیں۔ کبھی نہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے دفاع کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ایران جو چھپاتا ہے، اسرائیل وہ تلاش کر لیتا ہے۔‘‘

نیتن یاہو نے کہا کہ تہران کے نواح میں ایرانی حکومت نے قالینوں کے ایک کارخانے کی آڑ میں یہ جوہری مرکز قائم کر رکھا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سے مطالبہ کیا کہ اس مرکز کا معائنہ کیا جائے۔

ان اسرائیلی الزامات کو ایران نے ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا ہے۔ اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا، ’’نیتن یاہو کو وضاحت یہ دینا چاہیے کہ اسرائیل، خطے کا واحد ملک، جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، وہ کیسے اس سطح پر آ کر کسی دوسرے ملک پر اس انداز کے الزامات عائد کر سکتا ہے، خصوصاﹰ ایک ایسے ملک پر جس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سے متعدد مرتبہ سند حاصل کر چکا ہے۔‘‘

جواد ظریف کے مطابق، ’’نیتن یاہو کے اس اقدام کا واحد مقصد یہ تھا کہ اسرائیل جو خطے کے لیے خود سب سے بڑا خطرہ ہے اور نتین یاہو خود اپنے ملک کی ایک ایسی تنصیب میں کھڑے ہو چکے ہیں، جہاں جوہری ہتھیار تیار کر کے دیگر ممالک کی بقا کے خطرہ پیدا کرتی ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں نیتن یاہو نے ایرانی خفیہ اہلکاروں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ امریکا اور یورپ میں حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے ایرانی حکومت پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے اپنے عوام کے استحصال کے علاوہ عراق اور شام میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔

ع ت، الف ب الف (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM