ایران میں گرفتار جرمن صحافیوں کی رہائی کی کوششیں | حالات حاضرہ | DW | 12.10.2010
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران میں گرفتار جرمن صحافیوں کی رہائی کی کوششیں

ايرانی حکومت نے سنگسار کئے جانے کی سزا پانے والی ايرانی خاتون آشتيانی کے بيٹے سے انٹرويو لينے پر دو جرمن صحافيوں کو گرفتار کرليا ہے۔ جرمن حکومت اُن کی رہائی کے لئے کوشاں ہے۔

فرينکفرٹ ميں ايرانی قونصل خانے کے باہر سزائے موت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ايرانی

فرينکفرٹ ميں ايرانی قونصل خانے کے باہر سزائے موت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ايرانی

جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے تصديق کر دی ہے کہ ايران ميں سنگسار کئے جانے کی سزا ملنے والی ايک عورت کے لڑکے کا انٹرويو لينے پر جن دو صحافيوں کو گرفتار کيا گیا ہے، وہ جرمن ہيں۔

Angela Merkel in Rumänien

چانسلر ميرکل رومانيہ کے دارالحکومت بخارسٹ ميں پريس کانفرنس کے دوران

چانسلر ميرکل نے کہا کہ اُن کی حکومت ان صحافيوں کی رہائی کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنے دورہء رومانيہ کے دوران کہا کہ جرمن حکومت صورتحال پر بہت اچھی طرح سے نظر رکھے ہوئے ہے اور برلن میں وفاقی وزارت خارجہ وہ سب کچھ کر رہی ہے، جو اس کے بس ميں ہے۔

ايرانی حکومت نے ان دونوں صحافيوں کی شہريت بتائے بغير کہا ہے کہ ان دونوں کو اس لئے گرفتار کيا گيا کہ ان کے غير ممالک ميں ایرانی انقلاب کے مخالف ذرائع کے ساتھ روابط ہيں۔ ايرانی عدليہ کے مطابق ان صحافيوں کو، زنا کے الزام ميں سنگسار کئے جانے کی سزا پانے والی سکينہ محمدی آشتيانی کے بيٹے سے ملاقات کے بعد گرفتار کيا گيا۔ آشتيانی کی سزا کو عالمی احتجاج کے بعد تعطل ميں ڈال ديا گيا ہے۔

ايرانی وزارت خارجہ کے ايک ترجمان رامين مہمان پرست نے کہا: ’’ان دونوں صحافيوں کے بيرون ملک انقلاب دشمن نيٹ ورکس کے ساتھ رابطے ہيں۔ جرمنی کے ايک ايسے ہی گروپ نے آشتيانی کے بيٹے سے اُن کی ملاقات کا منصوبہ تيار کيا تھا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ جرمن ہيں۔‘‘

Mohammad Ali Dschafari Kommandeur der iranischen Revolutionsgarden IRAN

ايران کے پاسداران انقلاب کے قائد علی جعفری

ايران ميں غير ملکی ميڈيا کے لئے کام کرنے والے صحافيوں کو تہران سے باہر سفر کرنے يا مظاہروں اور غير سرکاری سياسی واقعات کے بارے ميں رپورٹنگ کے لئے ايرانی حکام سے قبل از وقت اجازت لينا پڑتی ہے۔ ترجمان نے يہ بھی کہا: ’’ہميں يہ يقين نہيں کہ يہ دونوں صحافی ہيں کيونکہ صحافيوں کو ايران ميں داخلے سے پہلے پريس ويزا لينا ہوتا ہے اور يہ دونوں سیاحتی ویزے پر ملک ميں داخل ہوئے۔‘‘

غير ملکی ميڈيا کی رپورٹنگ کے سلسلے ميں ايرانی حکام کی حساسيت کا اندازہ اس واقعے سے بھی ہوتا ہے کہ اسپين کے مشہور اخبار ايل پائس کے ايک سرکاری طور پر مسلمہ صحافی کو دو ہفتوں کے اندر ايران چھوڑ دينے کا حکم ديا گيا ہے۔ اخبار کے مطابق اس کی وجہ وہ انٹرويو معلوم ہوتا ہے، جو اس ہسپانوی صحافی نے وفات پا جانے والے حکومتی ناقد آيت اللہ المنتظری کے بيٹے سے جولائی ميں ليا تھا۔

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس