ایران میں کورونا کی نئی لہر پر تشویش | معاشرہ | DW | 05.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ایران میں کورونا کی نئی لہر پر تشویش

ایران میں حکام نے کیسز اور اموات میں نمایاں اضافے کے بعد لوگوں کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے، لیکن شہریوں کی بڑی تعداد ان ہدایات کو نظر انداز کرتی نظر آرہی ہے۔

ایران کی آبادی آٹھ کروڑ کے قریب ہے۔ خدشات ہیں کہ متاثرین اور اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایران کے آدھی آبادی پینتیس سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، جن کے اکثریت حفاظتی ہدایات اور ماسک پہننے کو بظاہر اہمیت نہیں دیتی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لوگ شادیوں، جنازوں اور دیگر تقریبات میں شرکت کرنے سے اس حد تک گریز نہیں کر رہے جتنا انہیں کرنا چاہییے۔

اتوار کو ایران میں کورونا کے اب تک کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے۔ حکام نے بتایا کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک سو تریسٹھ لوگ انتقال کر گئے۔

حکام کے مطابق اس وقت ملک کے اکتیس صوبوں میں وائرس کی صورتحال پریشان کُن ہے جبکہ سرحدوں کے ساتھ متصل نو صوبوں میں ابھی تک حالات قابو میں ہیں۔

ایران میں اس وقت مکمل لاک ڈاؤن نہیں تاہم مذہبی اور تجارتی مقامات پر پابندیاں عائد ہیں۔ امریکا کی طرف سے پہلے سے عائد تجارتی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت بحران سے دوچار ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اس وقت کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ملک ہے، جہاں کورونا وائرس سے کل اموات ساڑھے گیارہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔

ایران میں مئی میں یہ وبا قدرے قابو میں تھی لیکن اب کیسز میں پھر اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ پچھلے ایک دن میں ڈھائی ہزار نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد دو لاکھ چالیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

 ش ج، ع ت (اے ایف پی، ای پی)