ایران میں سالانہ چھ کروڑ لٹر شراب پی جاتی ہے، سرکاری رپورٹ | معاشرہ | DW | 03.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ایران میں سالانہ چھ کروڑ لٹر شراب پی جاتی ہے، سرکاری رپورٹ

اسلامی جمہوریہ ایران میں سالانہ بنیادوں پر چھ کروڑ لٹر شراب پی جاتی ہے۔ یہ بات ایک سرکاری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بتائی ہے اور ایران میں الکوحل استعمال کرنے پر قانوناﹰ پابندی عائد ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران میں شراب نوشی پر عائد پابندی کے باوجود اس اکثریتی طور پر شیعہ اسلامی ملک میں ہر سال 60 ملین (چھ کروڑ) لٹر شراب پی جاتی ہے۔

تہران میں ملکی وزارت برائے محنت اور سماجی امور کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق شراب نوشی پر مختلف سزائیں سنائے جانے کے باوجود ملک میں الکوحل کے استعمال پر مکمل طور پر پابندی عائد نہیں کی جا سکی۔

مروجہ قوانین کے تحت ایران میں شراب کی فروخت، اسے خریدنے، پینے اور کسی بھی شکل میں اس کا کاروبار کرنے پر پابندی عائد ہے۔

اس ایرانی وزارت کے ایک کمیٹی کے مطابق سزاؤں کے ڈر سے ایران میں شراب نہ تو کھلے عام دوکانوں پر فروخت کی جاتی ہے اور نہ ہی عوامی محفلوں میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم نجی محفلوں میں شراب نوشی ایک عام سی بات تصور کی جاتی ہے۔

وزارت برائے محنت اور سماجی امور کی طرف سے قائم کردہ ایک کمیٹی کے سربراہ روزبہہ کردونی نے مقامی نیوز ایجنسی ISNA سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں شراب نوشی میں اضافے کو ایک ’پیچیدہ پیشرفت‘ قرار دیا ہے۔

Bildergalerie Iran Straßen in Teheran

ایران میں شراب نہ تو کھلے عام دوکانوں پر فروخت کی جاتی ہے اور نہ ہی عوامی محفلوں میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے

ایران میں شراب بیچنے اور پینے پر بھاری جرمانوں کے علاوہ کوڑے مارنے کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔ لیکن اس تازہ رپورٹ میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ ان سزاؤں کے باوجود ملک میں شراب نوشی کا رجحان کم نہیں ہوا۔

ڈی پی اے نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران میں الکوحل کی بلیک مارکیٹ میں ہر قسم کی غیر ملکی شراب دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ اس اسلامی جمہوریہ میں لوگ گھروں میں وائن اور الکوحل والے دیگر مشروبات بھی تیار کرتے ہیں۔

اشتہار