ایران میں امریکا اور برطانیہ کی ویکسین پر پابندی | حالات حاضرہ | DW | 08.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران میں امریکا اور برطانیہ کی ویکسین پر پابندی

ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کورونا وائرس کے خلاف امریکا کی فائزر بائیو این ٹیک اور برطانوی آسٹرا زینیکا ویکسین کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جمعے کے روز ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، ''امریکا اور برطانیہ سے ویکسین کی درآمد پر پابندی ہے۔ میں حکام سے بھی یہ کہہ چکا ہوں اور اب عوامی سطح پر بھی بتا رہا ہوں۔‘‘ ایرانی سپریم لیڈر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب رواں ہفتے آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کا آئل ٹینکر قبضے میں لینے کے بعد امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی بڑھ چکی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اور برطانیہ میں خود کورونا وائرس کے مریض زیادہ ہیں لہذا ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

ایران ویکسین کہاں سے حاصل کرے گا؟

ایرانی سپریم لیڈر کے اس بیان کے ساتھ ہی ان تینوں بڑی ویکسینوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جنہیں اس وقت دنیا میں پذیرائی حاصل ہے اور جنہیں کورونا وائرس کے خلاف موثر قرار دیا جا رہا ہے۔ جرمنی کی بائیو این ٹیک ویکسین امریکی فرم فائزر کے اشتراک سے تیار ہو رہی ہے، موڈیرنا ویکسین امریکا کی کامیابی ہے جبکہ آسٹرا زینیکا ویکسین برطانوی یونیورسٹی آکسفورڈ کے محققین کی تیار کردہ ہے۔ ان میں سے سب سے سستی ویکیسن برطانیہ کی ہے۔

 ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ وہ قابل اعتبار ملک سے ویکسین خریدیں گے تاہم انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں بتایا۔ طبی ماہرین کے مطابق ایران چین اور روس کے قریب ہے اور انہی دو ملکوں میں سے کسی ایک سے خرید سکتا ہے۔

تاہم خامنہ ای نے ان کوششوں کی تعریف کی ہے، جن کے تحت ایران میں ہی ایک ویکسین تیار کی جا رہی ہے۔ ایران کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جو کورونا وائرس سے شدید متاثر ہوئے ہیں اور اس ملک میں ہلاکتوں کی تعداد تقریبا چھپن ہزار بنتی ہے۔

امریکا سے مذاکرات کی جلدی نہیں

ایرانی سپریم لیڈر نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ ایران کے خلاف پابندی ختم کی جانا چاہییں۔  ایرانی سپریم لیڈر کے برعکس صدر حسن روحانی ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ نئے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہیں۔

ا ا / ع ا (روئٹرز، ڈی پی اے)

ویڈیو دیکھیے 03:52

درحقیقت کورونا وائرس دکھتا کیسا ہے؟