ایران، حجاب اتار پھینکنا مزاحمت کا نشان؟ | حالات حاضرہ | DW | 15.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران، حجاب اتار پھینکنا مزاحمت کا نشان؟

ایران میں ایک نوجوان لڑکی ریاست کی جانب سے خواتین کے لیے ’پردے کی پابندی‘ کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے حجاب اور اسکارف کے بغیر تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہی ہے۔

سن 1979 کے 'اسلامی انقلاب‘ کے بعد خواتین کے لیے لباس کے سخت ضوابط متعارف کروائے گئے تھے، جب کہ 'اخلاقی پولیس‘ ایران میں ان ضوابط پر عمل درآمد کی نگرانی کرتی ہے۔ تاہم متعدد ایرانی خواتین اب سوشل میڈیا پر حجاب اور اسکارف کے بغیر تصاویر پوسٹ کر کے ان ضوابط کے خلاف مزاحمت کی ایک علامت بنتی جا رہی ہیں۔

نصف ایرانی عوام حجاب کے قانون کے خلاف، حکومتی رپورٹ

حجاب کی خلاف ورزی، دو درجن سے زائد ایرانی خواتین گرفتار

اس لڑکی نے ریاست کی جانب سے کسی کارروائی کے خدشات کے باعث واٹس ایپ پر کسی نامعلوم مقام سے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھیجے گئے اپنے صوتی پیغام میں کہا، ''میں اعتراف کرتی ہوں کہ یہ بہت خوف ناک کام ہے۔‘‘

اس لڑکی کے خلاف کسی کارروائی کے خدشے کے باعث اس لڑکی کا نام مغفی رکھا گیا ہے۔ اس لڑکی کا تاہم کہنا ہے کہ دن بہ دن حکام کے لیے خواتین پر ان ضوابط کا نفاذ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ''وہ ہمارے پیچھے دوڑ رہے ہیں، مگر وہ ہمیں پکڑ نہیں سکتے۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اب تبدیلی ضروری ہے۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ اس موضوع پر ایرانی معاشرہ تقسیم کا شکار ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب ایران کے خلاف سخت ترین اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ایران کے سماجی ڈھانچے پر واضح اثرات پڑ رہے ہیں، مگر ساتھ ہی ساتھ مہنگائی اور دیگر معاشی وجوہات کی بنا پر حکومت کے خلاف عوامی غصے میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ بات تو واضح نہیں کہ حکام خواتین پر لباس کے ضوابط کا اطلاق کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو پا رہے ہیں یا خواتین پر اس نفاذ کے حوالے سے قدرے نرمی اقتصادی بحران کا نتیجہ ہے یا نہیں، تاہم یہ بات واضح رہے کہ ایرانی خواتین کی جانب سے اس رجحان میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

DW.COM