ایران اور یورپی ممالک کے مابین اقتصادی تعلقات کا ایک نیا باب | حالات حاضرہ | DW | 25.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایران اور یورپی ممالک کے مابین اقتصادی تعلقات کا ایک نیا باب

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی آج پیر کو ایک سرکاری دورے پر یورپی ملک اٹلی پہنچ رہے ہیں۔

ایرانی صدر تہران اور دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے مابین متنازعہ ایٹمی پروگرام سے متعلق طے پانے اور اس کے نتیجے میں ایران پر سے عالمی پابندیاں ہٹنے کے بعد پہلی بار اٹلی کا درہ کر رہے ہیں۔ روحانی کے اس دورے کا مقصد ایران کی اقتصادیات کو مضبوط بنانے کے لیے یورپی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہتری لانا ہے۔ صدر روحانی اسی ہفتے فرانس کا دورہ بھی کریں گے۔ حسن روحانی کا فرانس کا دورہ دراصل گزشتہ برس نومبر کے ماہ میں طے تھا تاہم پیرس میں دہشت گردانہ حملوں کے سبب یہ دورہ ملتوی ہو گیا تھا۔

روحانی کی اٹلی آمد سے تین روز قبل ہی عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہوا ہے جس کے بعد امریکا اور یورپی یونین کے لیے ایران پر سے اقتصادی پابندی ہٹانے کی راہ ہموار ہوئی تاہم اس شرط پر کہ ایران اپنی جوہری سرگرمیاں محدود رکھے۔

گزشتہ روز یعنی اتوار کو تہران کی طرف سے کہا گیا تھا کہ ایرانی حکومت 114 ایئربس طیارے خریدے گی اس طرح ایران پُرانے طیاروں پر مشتمل اپنے فضائی بیڑے کو دوبارہ جاندار اور طاقتور بنانا چاہتا ہے۔ ایران پر سے پابندیاں اُٹھنے کے بعد تہران اور کسی مغربی ملک کے مابین یہ پہلی بڑی کمرشل ڈیل ہوگی۔ اس معاہدے پر دستخط روحانی کے فرانس کے دورے کے دوران فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ایرانی لیڈر نے اس معاہدے کو عالمی منڈیوں میں تہران کی مارکیٹ کی واپسی کا ایک ’’نیا باب‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی ستائش کی ہے۔

Iran Hassan Rouhani und Mohammad Khatami

سابق ایرانی صدر محمد خاتمی اور موجودہ صدر حسن روحانی

پیر کو حسن روحانی اٹلی پہنچ کر پہلے اپنے اطالوی ہم منصب سے ظہرانے پر ملاقات کریں گے اور اُس کے بعد اُن کی ملاقات اطالوی وزیر اعظم ماتیو رینزی کے ساتھ طے ہے۔

ایرانی صدر ویٹیکن کا دورہ بھی کریں گا جہاں وہ پاپائے روم فرانسس سے ملاقات کریں گے۔ 1999ء میں اُس وقت کے ایرانی صدر محمد خاتمی کے ویٹیکن کے دورے کے بعد کسی ایرانی صدر کا ویٹیکن کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ پوپ فرانسس ایرانی صدر سے اُن کے قریبی اتحادی شام کے صدر بشار الاسد پر دباؤ ڈالنے اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے پر زور دیں گے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کے ہمراہ سیاسی اور اقتصادی لیڈروں پر مشتمل قریب 100 رُکنی وفد بھی اٹلی پہنچ رہا ہے۔ اس میں ایران کے تیل، صحت، پرانسپورٹ اور صنعتی امور کے وزراءبھی شامل ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کی ویب سا‌ئٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اٹلی روانگی سے قبل حسن روحانی نے مہر آباد ایئر پورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا،’’ فرانسیسی موٹر ساز ادارے پیچو اور رینو کے ساتھ نہایت اہم معاہدے طے پانے کی توقع ہے۔‘‘

Österreich Wien Atomverhandlungen USA Iran

ویانا میں ہونے والے جوہری مذاکرات

ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے تین روزہ یورپی دورے کے آغاز سے پہلے ایران میں اپنے بیان میں کہا تھا،’’ہم اس دورے کا بہترین مصرف لیتے ہوئے جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد کی فضا سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہتے ہیں تاکہ ایران میں اقتصادی ترقی اورجدیدیت کو فروغ حاصل ہو اور نوجوانوں میں پائی جانے والی بے روزگاری جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے‘‘۔ حسن روحانی کے بقول اُن کے ملک کو سالانہ بنیادوں پر 20 تا 50 بلین ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

2012ء سے اب تک ایران اور اٹلی کے مابین سالانہ تجارتی حجم 7 بلین سے کم ہو کر 1.2 بلین تک پہنچ گیا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار