ایران اور طالبان کے درمیان سرحدی جھڑپ ′غلط فہمی′ کے سبب | حالات حاضرہ | DW | 02.12.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایران اور طالبان کے درمیان سرحدی جھڑپ 'غلط فہمی' کے سبب

افغان ایران سرحد کے قریب ایرانی فوج اور طالبان فورسز میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ فریقین نے اسے "غلط فہمی" کا نتیجہ قرار دیا۔ جھڑپیں رک گئی ہیں، حالات پرسکون ہیں اور کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔

(علامتی تصویر)

(علامتی تصویر)

ایران کی خبر رساں ایجنسی' تسنیم' کے مطابق "افغان صوبے نمروز کے قریب بدھ کے روز سہ پہر کو ایرانی سرحدی محافظوں اور طالبان کے درمیان غلط فہمی کے سبب جھڑپ ہوگئی۔" یہ جھڑپ سرحدی ضلع کُنگ میں ہوئی۔ ایجنسی نے مزید کہا کہ طالبان کے ذریعہ ایران کی دو فوجی چوکیو ں پر قبضہ کرلینے کی خبریں جھوٹی ہیں۔

بعض دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق ان جھڑپوں میں ایران کی جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال کیا گیا جبکہ طالبان نے جواب میں امریکی ہموی گاڑیوں کا استعمال کیا۔ ان جھڑپوں کی چند ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔

خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق افغان سرحد کے ساتھ منسلک ایرانی علاقے میں ایک دیوار ہے جو اسمگلنگ روکنے کے لیے کھڑی کی گئی ہے۔ بعض ایرانی کسان اس دیوار کو پار کرگئے تھے تاہم وہ ایرانی سرحد کے اندر ہی تھے۔ لیکن اس غلط فہمی میں کہ ان لوگوں نے سرحد کی خلاف ورزی کی ہے طالبان فورسز نے فائرنگ شروع کردی۔

تسنیم کے مطابق بدھ کی شام کو جھڑپ رک گئی ہے اور ایرانی حکام طالبان کے ساتھ صورت حال کے حوالے سے بات چیت کررہے ہیں۔

جھڑپ غلط فہمی کے سبب

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادے نے بدھ کی شام کو ایک بیان جاری کرکے کہا کہ سرحد پر رہنے والوں کے درمیان" غلط فہمی کے سبب " جھڑپ ہوگئی تھی۔ انہو ں نے بیان میں طالبان کا نام نہیں لیا۔

انہوں نے مزید کہا، "مسئلے کو حل کر لیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کے سرحدی محافظین کے درمیان رابطے کے بعد فائرنگ رک گئی ہے۔"

دوسری طرف افغانستان کے ٹیلی ویژن چینل طلوع نیوز نے طالبان کے نائب ترجمان بلال کریمی کے حوالے سے واقعے کی تصدیق کی ہے تاہم اس نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

طلوع نیوز نے ایک ٹویٹ میں کہا، "انہوں (کریمی) نے کہا ہے کہ جھڑپیں رک گئی ہیں لیکن جھڑپ شروع ہونے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیں۔"

حالات پوری طرح قابو میں

خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ طالبان نے ایرانی چوکیوں پر قبضہ کرلیا تھا تاہم کہا کہ سرحدی فورسز کا ملک کی سرحدوں پر اب مکمل کنٹرول ہے۔ دوسری طرف نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ کا سبب اسمگلروں کی کارستانی ہوسکتی ہے۔ تاہم کسی کی ہلاکت نہیں ہوئی ہے اور اب حالات پوری طرح پرسکون ہیں۔

سیستان اور بلوچستان کے گورنرکے نائب سیکورٹی افسر محمد مراشی نے ایران کی سرکاری ٹیلی ویژن چینل کو بتایا کہ جھڑپیں شدید نہیں تھیں، کسی طرح کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ہے اور جھڑپیں اب ختم ہوگئی ہیں۔

ایران اور طالبان کے تعلقات

ایران نے گوکہ طالبان حکومت کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا ہے تاہم حکومت ایران اور طالبان کے درمیان بالعموم اچھے تعلقات ہیں۔ افغانستان کے لیے ایران کے خصوصی نمائندے حسن کاظمی قمی نے نومبر کے وسط میں ایک ایرانی وفد کے ساتھ کابل میں طالبان رہنماوں سے ملاقات کی تھی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

اکتوبرمیں ایران نے تہران میں پڑوسی ملکوں اور روس کے ساتھ ایک میٹنگ کی میزبانی کی تھی۔ حالانکہ اس میں طالبان کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اکتوبر کے اواخر میں ہی تہران نے افغانستان کے ساتھ ملحق چھ ملکوں کی ایک میٹنگ میں طالبان سے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ "دوستانہ" رویہ اپنانے کی اپیل کی تھی۔

 لیکن دونوں ملکوں کے مابین سرحد پر کشیدگی بہر حال موجود ہے۔ دونوں ملکوں کی سرحد پر اسمگلر خاصے سرگرم ہیں اور ہزاروں پناہ گزین روزانہ سرحد پار کر رہے ہیں۔

ج ا/  ص ز (اے ایف پی، روئٹرز)

DW.COM