ایرانی پراکسی جنگ کے پاکستان اور افغانستان پر ممکنہ اثرات | حالات حاضرہ | DW | 09.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایرانی پراکسی جنگ کے پاکستان اور افغانستان پر ممکنہ اثرات

ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے خطے میں کشیدگی بڑھی ہے۔ افغان اور پاکستانی حکومتوں کی طرف سے واشنگٹن اور تہران سے کشیدگی کو ختم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

امریکا اور ایران کی جنگ خطے میں نہ ختم ہونے والی لڑائی اور تشدد کا سبب بن سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران میں سخت گیر شیعہ حکومت واشنگٹن کا براہ راست مقابلہ کرنے سکت نہیں رکھتی۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں مشرق وسطی کے ساتھ ساتھ افغانستان میں بھی امریکی مفادات کوگزند پہنچنے کا خطرہ ہے۔
مشرق وسطی میں سعودی عرب ایک طویل عرصے سے امریکا کا حلیف ہے۔ ایران اور سعودی عرب پہلے ہی خطے میں پراکسی وار میں مصروف ہیں۔  گزشتہ ایک دہائی کے دوران ایرانی حکومت نے بھی افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔ اور خاص طور پر حال ہی میں طالبان کے ساتھ بات چیت کے نتیجے میں ایران کے افغانستان میں اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ 
روایتی طور پر دیکھا جائے تو طالبان کمانڈروں نے ریاض حکومت کے ساتھ صرف اس وجہ سے اتحاد کیا تھا کیونکہ وہ سعودی شاہی خاندان کی طرح خود بھی سنی وہابی عقائد رکھتے ہیں۔
 پچھلے کچھ سالوں کے دوران اس شدت پسند اسلامی گروپ پر پاکستان اور سعودی عرب دونوں کے اثر و رسوخ میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ لیکن خطے میں ایرانی مداخلت پر دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیچیدہ معاملات کا سامنا ہو سکتا ہے جو پہلے ہی جنگ زدہ ملک سے رخصت ہونے کے لیے طالبان کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں ہے۔  
کیا طالبان ، ایران کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں؟
افغان حکومت نے گزشتہ جمعے کو کہا تھا کہ وہ سلیمانی کی ہلاکت کے بعد خطے میں تشدد میں ممکنہ اضافے پر تشویش کا شکار ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا،’’ہم امید کرتے ہیں کہ فریقین اپنے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔ ہم امریکا اور اپنے بڑے پڑوسی ملک اسلامی جمہوریہ ایران، جس کی ہماری مشترکہ زبان ہے،  ہماری مذہبی، تاریخی اور ثقافتی اقدار  ایک جیسی ہیں، سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تنازعے کو مزید شدید ہونے نہ دیں۔ ہم نے ان دونوں سے خطے میں تنازعات کو روکنے کی بات کی ہے۔‘‘ 
یہ بیان کابل کے اس مخمصے کی غمازی کرتا ہے کہ نہ تو وہ امریکا کو ناراض کرنا چاہتا ہے نہ ہی اسے ایران کے ساتھ افغانستان کی طویل سرحد پر ایک اور پر تشدد تنازعے کی ضرورت ہے۔ اور اب ممکن ہے کہ سلیمانی کا قتل طالبان کے ساتھ امن عمل کو سبوتاژ کرنے کا سبب بنے۔
افغانستان کے متعدد شدت پسند گروپوں میں سلیمانی کے حمایتی موجود ہیں، جو امریکا کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔ ایران اس قابل نہیں ہے کہ وہ براہ راست امریکی اہداف کو نشانہ بنائے۔ یہ کام صرف ایک ہی قوت کر سکتی ہے اور وہ  ہے طالبان۔ ایک ریٹائر افغان جنرل عتیق اللہ امر خیل نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے شام میں صدر بشار الاسد کے حق میں لڑنے کے لیے افغانی شہریوں کو بھرتی کرنے میں سلیمانی کے مبینہ کردار کی بھی بات کی۔  سلامتی امور کے اس ماہر نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال جاری امن عمل  اور افغانستان میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر منفی اثر ڈالے گی۔ 
افغانستان کے قومی خفیہ ادارے این ایس ڈی  کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل کا کہنا تھا کہ سلیمانی ایران کے لیے ایک اثاثہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس خطے کے لیے خطرہ بھی تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ سلیمانی پراکسی جنگوں کے ماہر بھی تھے،’’متعدد علاقائی عسکریت پسند گروپوں کی تشکیل کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔ ان کی موت سے خطے میں تناؤ بڑھے گا۔ اگر افغان حکومت ایک غیر جانبدار پوزیشن برقرار رکھنے میں ناکام رہی تو موجودہ حالات افغانستان کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر دیں گے۔‘‘
پاکستانی فوج کا کردار
پاکستان خطے کا ایک اور اہم کھلاڑی ہے اور دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے، جس نے سن 1996 میں کابل میں طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی شورش پسند گروپوں پر کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ امریکا اور طالبان کے مابین معاہدے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ امریکا جنرل سلیمانی کے قتل کے بعد خطے میں جنم لینے والی نئی صورتحال کے تناظر میں اسلام آباد کی اہمیت سے بھی واقف ہے۔ تبھی اس ہلاکت کے فوری بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو فون کیا تھا۔ افغانستان کے بر عکس پاکستان ایک طاقتور اور تربیت یافتہ فوج کا حامل ملک ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کو امید ہے کہ پاکستانی جرنیل طالبان کو ایران کا ساتھ دینے سے روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔  پاکستان اور ایران کے مابین عدم اعتماد کی وجہ سے باہمی تعلقات کئی سالوں سے تناؤ کا شکار ہیں۔ اسلام آباد اور تہران نے ایک دوسرے پر  علیحدگی پسند گروہوں کی پشت پناہی کا الزام عائد کیاہے۔
کیا پاکستان ایران کے مسئلے پر امریکا کا ساتھ دے گا؟
پاکستان کے سیاستدان میر حاصل بزنجو نے اس موضوع پر ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکا کو ترجیح دینا پاکستان کے لیے ایک انتہائی سخت فیصلہ ہو گا،’’پاکستان میں شیعہ فرقہ کافی بڑی تعداد میں موجود ہے اگر پاکستان نے واشنگٹن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تو ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی۔ ایک ہی وقت میں پاکستان امریکا اور سعودی عرب کا مخالف ہونے کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی معیشت کا ان ہی دونوں مما لک پر انحصار ہے۔‘‘ تجزیہ کار نجم الدین کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے آزادانہ اور خود مختارانہ نقطہ نظر سب سے بہتر ہو گا۔ لیکن یہ خوف اپنی جگہ کہ شاید حکومت اس تنازعے میں غیر جانبدار نہ رہ سکے۔‘‘     
  شامل شمس ( ع ش ⁄ ع ا) 

پاکستان کسی تنازعے میں فریق نہیں بنے گا، عمران خان