ایرانی وزیر خارجہ استنبول میں، علاقائی صورتحال اور اقتصادی تعاون زیر بحث | حالات حاضرہ | DW | 19.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی وزیر خارجہ استنبول میں، علاقائی صورتحال اور اقتصادی تعاون زیر بحث

ایران اور ترکی کے مابین دوطرفہ اقتصادی تعاون کو بہتر بنانے کے لیے سنیچر کے روز ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف ترکی کے شہر استنبول پہنچ گئے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق جواد ظریف ترک حکام کے ساتھ دو طرفہ اقتصادی تعاون اور تجارت کو مضبوط تر بنانے کے علاوہ موجودہ علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کرنے کی غرض سے استنبول پہنچے ہیں۔

استنبول پہنچنے پر ظریف کی ملاقات ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ متوقع ہے اس کے علاوہ ایرانی وزیر خارجہ اپنے ترک ہم منصب مولوت چاؤس آؤلو اور ترک وزیر اعظم احمت داؤد آؤلو سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

دریں اثناء ترکی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے ترکی کے اس دورے کا مقصد موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات کے بارے میں مذاکرات کرنا ہے۔

Türkei Anschlag in Istanbul

ایرانی وزیر خارجہ ایک ایسے وقت پر استنبول میں ہیں جب وہاں ہونے والے بم حملے کے بعد شہر بھر میں سنسنی پھیل گئی ہے

جواد ظریف نے اپنے اس دورے کا اہم ترین ایجنڈا باہمی تجارتی تعلقات کا فروغ بتایا ہے۔ استنبول پہنچنے پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ظریف نے کہا، ’’ایران کی نیوکلیئر ڈیل طے پانے کے بعد ہم ترکی کے ساتھ اقتصادی تعاون کی سطح کو ممکنہ حد تک اوپر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

ایرانی وزیر خارجہ ایک ایسے وقت پر استنبول پہنچے ہیں جب آج ہی یعنی سنیچر 19 مارچ کو سیاحت اور تجارت کے اعتبار سے ترکی کے اس سب سے اہم شہر میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور چھتیس دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ترک وزارت صحت کے مطابق زخمیوں میں سے سات کی حالت نازک ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے گھناؤنا عمل قرار دیا ہے۔

اس سال تہران کی ایٹمی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی شرط پر ایران پر لگی بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے بعد اور دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ پہلے سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد ایران اب عالمی تجارتی نظام میں ایک بار پھر ایک بڑی معیشت بن کر اُبھر رہا ہے۔

Der iranische Außenminister Mohammad Javad Zarif trifft den türkischen Außenminister Ahmet Davutoglu in Istanbul

2013 ء میں بھی جواد ظریف اور احمت داؤد اؤگلو استبول میں ملے تھے


ایران میں گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں اصلاحات پسند سیاستدانوں کی واضح کامیابی بھی تہران حکومت کی بین الاقوامی اقتصادی پالیسیوں میں تبدیلی کا سبب بنی ہے۔ تجارت اور صنعتی امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ اقتصادی پابندیاں ختم ہونے سے ایران کی مغربی دنیا کے ساتھ تجارت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بہت فروغ حاصل ہو گا۔

ایران اور ترکی اس وقت عالمی سطح پر غیر معمولی تشویش کا باعث بنے ہوئے دو بحرانوں، ’شام اور یمن‘‘ کی جنگوں کے بارے میں دو یکسر مختلف حکمت عملی اور پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں تاہم انقرہ اور تہران کا ایک دوسرے پر اقتصادی انحصار اتنا اہم ہے کہ یہ ان دونوں ممالک کے تعلقات کو قائم رکھے ہوئے ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی اور ترک وزیر اعظم احمد داؤت آؤلو کی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا تھا کہ دونوں فرقہ وارانہ کشیدگی اور شام میں فائر بندی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ بھر پور تعاون کریں گے۔

DW.COM