ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل سليمانی امریکی حملے میں ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 03.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل سليمانی امریکی حملے میں ہلاک

امریکا کے ایک فضائی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہو گئے ہيں۔ اس پيش رفت سے مشرق وسطیٰ کے خطے ميں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پينٹاگون نے ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جنرل سلیمانی جمعے تين جنوری کی صبح بغداد میں ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔ ایران کے سرکاری ٹيلی وژن نیٹ ورک نے بھی پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کا حوالہ ديتے ہوئے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

امریکا نے جنرل سلیمانی کی ہلاکت کو 'دفاعی اقدام‘ قرار دیا ہے۔ پينٹاگون کی طرف سے اس بارے ميں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، ”اس حملے کا مقصد مستقبل میں ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کو روکنا ہے۔" بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قاسم سلیمانی کے خلاف کارروائی امريکا کے دفاع میں کی گئی ہے تاکہ بیرونِ ملک موجود امریکی اہلکاروں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

عراقی فورس حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس اور جنرل قاسم سليمانی

عراقی فورس حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس اور جنرل قاسم سليمانی

دريں اثناء حملے میں عراقی فورس حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کے ہلاک ہونے کی بھی خبريں ہيں۔

حشد الشعبی جسے عراقی ملیشیا 'پاپولر موبلائزیشن فورس‘ (پی ایم ایف) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے جمعے کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ”عراقی رضاکار فورس حشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس اور قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی امریکی فضائی حملے میں اس وقت مارے گئے جب بغداد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے روڈ پر ان کی کار کو نشانہ بنايا گيا۔" پی ایم ایف نے حلمے کے فوری بعد جاری کردہ ابتدائی بيان ميں صرف يہ بتايا تھا کہ بغداد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی طرف جانے والی شاہراہ پر گاڑیوں پر ہوئے ايک فضائی حملے میں اس کے پانچ اراکین اور دو 'مہمان‘ ہلا ک ہو گئے۔ تاہم بعد ازاں ہلاک شدگان کی شناخت بھی واضح کر دی گئی۔ پی ایم ایف نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ملیشیا کے پروٹوکول افسر اور رابطہ عامہ کے سربراہ محمد رضا الجبیری بھی شامل ہیں۔

عراقی فوج کے سکيورٹی میڈیا سیل کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ يہ حملہ بغداد کے ہوائی اڈے کے کارگو ہال کے نزدیک ہوا۔ میڈیا سیل نے آگ کی لپيٹ ميں گاڑیوں کی تصاوير بھی جاری کر دی ہیں۔

خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

ایرانی پاسداران انقلاب کے القدس فورس کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل سلیمانی ایران کے انتہائی طاقت ور افراد میں سے ایک تھے۔

 ان کی قدس فورس صرف سپريم ليڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو جوابدہ ہے اور سليمانی کو ملک میں ایک ہیرو تصور کیا جاتا ہے۔ وہ عراق، لبنان، شام اور یمن میں علاقائی فوجی پالیسی کے ذمہ دار تھے۔ جنرل سليمانی سن 1998 سے پاسدارنِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ تھے۔ اس سے قبل انہوں نے سن 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں بھی نام کمایا۔

جنرل سلیمانی اور المہندس کی ہلاکت کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیوں کہ ایران براہ راست یا بالواسطہ طور پر جوابی کارروائی کے لیے مجبور ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی حملے کو”انتہائی خطرناک اور فاش غلطی" قرار دیا۔ انہوں نے اپنی ایک ٹوئيٹ میں کہا کہ امریکا کو اپنی مہم جوئی کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ دریں اثنا امریکی سينیٹر اور ڈیموکریٹک لیڈر کرس مرفی نے متنبہ کیا ہے کہ جنرل سلیمانی کی ہلاکت سے 'بڑے پیمانے پر علاقائی جنگ‘ چھڑ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت ايک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب عراق میں امریکا کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور حال ہی میں مشتعل ہجوم نے امریکی سفارت خانے پر بھی حملہ کر ديا تھا۔

ج ا / ع س (اے پی، روئٹرز، ڈی پی اے، اے ایف پی)