1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستایران

ایرانی صدارتی الیکشن: عوام رائے دہی میں حصہ لیں، خامنہ ای

3 جولائی 2024

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ملکی صدارتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کی جمعہ پانچ جولائی کے روز ہونے والی رائے دہی میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں حصہ لیں۔

https://p.dw.com/p/4hoiz
دونوں صدارتی امیدوار: مسعود پزیشکیان، دائیں، اور سعید جلیلی
دونوں صدارتی امیدوار: مسعود پزیشکیان، دائیں، اور سعید جلیلیتصویر: IRNA Agency

ملکی دارالحکومت تہران سے بدھ کے روز مو‌صولہ رپورٹوں کے مطابق علی خانہ ای نے آج تین جولائی کے روز کہا کہ صدارتی انتخابی عمل کی پہلے مرحلے کی رائے دہی میں ایرانی ووٹروں کی شرکت کا تاریخی حد تک کم تناسب ملکی 'نظام کے خلاف‘ عوامی اقدام نہیں تھا۔

مئی کے مہینے میں صدر ابراہیم رئیسی کی ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد ایران میں رئیسی کے جانشین کے انتخاب کے لیے پہلے مرحلے کی عوامی رائے دہی گزشتہ ہفتے عمل میں آئی تھی، لیکن اس میں کوئی بھی امیدوار واضح برتری حاصل کر کے کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔

اس لیے دوسرے مرحلے کی عوامی رائے دہی میں جمعہ پانچ جولائی کے روز انتخابی مقابلہ پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دونوں امیدواروں کے مابین ہو گا۔ یہ امیدوار اصلاحات پسند مسعود پزیشکیان اور انتہائی قدامت پسند سیاست دان سعید جلیلی ہیں۔

سعید جلیلی ایک سفارت کار بھی ہیں اور ایران عراق جنگ میں حصہ بھی لے چکے ہیں
سعید جلیلی ایک سفارت کار بھی ہیں اور ایران عراق جنگ میں حصہ بھی لے چکے ہیںتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

پہلے مرحلے میں صرف چالیس فیصد ووٹروں کی شرکت

ایران کی مجموعی آبادی میں سے ووٹ دینے کے اہل شہریوں کی کُل تعداد تقریباﹰ 61 ملین ہے، جن میں سے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں صرف 40 فیصد ووٹروں نے حصہ لیا تھا۔ یہ اسلامی جمہوریہ ایران میں 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سے کسی بھی صدارتی الیکشن میں رائے دہندگان کی شرکت کا کم ترین تناسب تھا۔

ایران میں چھ صدارتی انتخابی امیدواروں کے ناموں کی منظوری

اس پس منظر میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے بدھ کے روز سرکاری ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ بات ''قطعی غلط ہے کہ پہلے مرحلے کی صدارتی انتخابی رائے دہی میں جن ووٹروں نے الیکشن میں حصہ نہ لیا، وہ موجودہ ایرانی نظام کے خلاف ہیں۔‘‘

ساتھ ہی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کہا، ''یہ بات تاہم درست ہے کہ صدارتی الیکشن کے پہلے مرحلے کی رائے دہی میں عوامی شرکت کا جو کم تناسب دیکھنے میں آیا، وہ غیر متوقع تھا۔‘‘

مسعود پزیشکیان کی ایک تصویر
مسعود پزیشکیان کو ایک اعتدال پسند سیاسی شخصیت سمجھا جاتا ہےتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

پزیشکیان بمقابلہ جلیلی

پہلے صدارتی انتخابی راؤنڈ میں مسعود پزیشکیان کو 42.4 فیصد ووٹ ملے تھے جبکہ ان کے قریب ترین حریف امیدوار کٹر قدامت پسند سعید جلیلی تھے، جو عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات کرنے والے ایران کے سابق اعلیٰ ترین مندوب ہیں اور جنہیں 38.6 فیصد تائید حاصل ہوئی تھی۔

ہیلی کاپٹر حادثے میں کسی مجرمانہ سرگرمی کا ثبوت نہیں، ایران

اب دوسرے مرحلے کی ووٹنگ میں حتمی مقابلہ انہی دونوں صدارتی امیدواروں کے مابین ہو گا اور ملکی آئین کی رو سے جمعے کے روز ان دونوں میں سے کسی ایک کی کامیابی کے لیے لازمی ہو گا کہ وہ کُل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 50 فیصد سے زیادہ عوامی تائید حاصل کرے۔

م م / ا ا (ڈی پی اے، اے ایف پی)

ایران میں نئے صدر کا انتخاب، حالات تبدیل ہو سکیں گے؟