ایرانی سفارت کاروں کو برطانیہ چھوڑنے کا حکم | حالات حاضرہ | DW | 30.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ایرانی سفارت کاروں کو برطانیہ چھوڑنے کا حکم

برطانیہ نے ایرانی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر خارجہ ولیم ہیگ کے مطابق ایرانی سفارت کاروں کو 48 گھنٹوں کے دوران ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔ برطانیہ نے تہران سے اپنا سفارتی عملہ بھی واپس بلا لیا ہے۔

ولیم ہیگ

ولیم ہیگ

ایرانی دارالحکومت تہران میں منگل کے روز ایک مشتعل ہجوم نے برطانوی سفارت خانے پر حملہ کر دیا۔ یہ مظاہرین برطانیہ اور مغربی ممالک کی جانب سے ایران پر تازہ پابندیاں لگانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ یہ پابندیاں ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے جوہری توانائی کے ساتھ ایرانی حکومت کے عدم تعاون کے حوالے سے لگائی گئی ہیں۔ برطانیہ نے اپنے سفارت خانے پر حملے کو سنگین واقعہ قرار دیا ہے۔

ایرانی طالب علموں نے منگل کے روز برطانیہ کے سفارت خانے کے باہر مظاہرے کے دوران پر تشدد کارروائی کرتے ہوئے سفارت خانے کی کھڑکیاں توڑنے کے علاوہ ایک گاڑی کو بھی آگ لگا دی۔ مظاہرین نے اس دوران برطانیہ کا پرچم بھی نذر آتش کیا۔ ایرانی پولیس نے ان مظاہرین کو روکنے کی ناکافی کوشش کی اور اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

ایرانی حکومت نے مظاہرین کی طرف سے برطانوی سفارت خانے پر حملے کو ناقابل قبول طرز عمل قرار دیتے ہوئے اس پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

برطانوی سفارت خانے پر حملے کے تناظر میں برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے ایران کو سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔ اس حملے کے بعد انہوں نے فوری طور پر اپنے ایرانی ہم منصب علی اکبر صالحی سے ٹیلفون پر بات کی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وزارت خانے کے عملے کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔

ولیم ہیگ نے منگل کے روز اس حملے کے حوالے سے ایرانی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا: ’’برطانیہ اس غیر ذمہ دارانہ اقدام کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ یہ ویانا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے جو ہر حال میں سفارتی عملے اور سفارت خانے کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے۔ ہم ایرانی حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ اُس نے اس حوالے سے ضروری اقدامات نہیں اٹھائے جو ہماری ایمبیسی کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جانے چاہیے تھے۔‘‘

برطانیہ نے ایرانی دارالحکومت میں اپنے سفارت خانے کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ برطانوی حکومت نے تہران سے بعض سفارتی عملے اور ان کے خاندان کو واپس بلا لیا ہے۔ وزیرخارجہ ولیم ہیگ کے مطابق ایرانی حکام پر واضح کر دیا گیا ہے کہ وہ سفارت خانے پر حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں۔

اُدھر ناروے نے بھی حفاظتی انتظامات کے پیش نظر تہران میں اپنا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ناروے کی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ہِلڈے شٹائن فَیلڈ Hilde Steinfeld کے مطابق سفارت خانہ بند کرنے کا فیصلہ منگل کو کیا گیا مگر ابھی تک وہاں سے سفارتی عملے کو واپس نہیں بلایا گیا۔

جرمن حکام کے مطابق ایران میں تعینات جرمن سفیر کو صلاح ومشورے کے لیے برلن طلب کر لیا گیا ہے۔ جرمن حکومت کے مطابق برطانوی سفارت خانے کے قریب موجود ایک جرمن اسکول کو بھی مظاہرین نے نشانہ بنایا۔

فرانسیسی حکومت کے مطابق صدر نکولا سارکوزی نے برطانوی سفارت خانے پر حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ علاوہ ازیں فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق پیرس میں ایرانی نمائندے کو طلب کرکے اس حملے پر احتجاج کیا گیا ہے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: حماد کیانی

DW.COM