ایرانی جوہری ڈیل کا مستقبل دوبارہ ٹرمپ کے ہاتھ میں | حالات حاضرہ | DW | 11.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ایرانی جوہری ڈیل کا مستقبل دوبارہ ٹرمپ کے ہاتھ میں

عالمی طاقتوں کے ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں تہران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا مستقبل ایک بار پھر امریکی صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس سلسلے میں مقررہ میعاد ختم ہونے کو ہے اور سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کیا فیصلہ کریں گے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے جمعرات گیارہ جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق عالمی برادری اس وقت اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی جوہری ڈیل کو آئندہ بھی اسی طرح تسلیم کرتے رہیں گے جیسا کہ امریکا نے اب تک کیا ہے یا پھر وہ اس معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں گے، جیسا کہ وہ کئی بار اشارے بھی دے چکے ہیں۔

ایران کے خلاف ٹرمپ کو ناکامی دیکھنا پڑے گی، خامنہ ای

امریکا ایران کا اوّلین دشمن ہے، ایرانی سپریم لیڈر خامنائی

ٹرمپ اکیلے ایرانی جوہری ڈیل ختم کر سکتے ہیں؟ ردعمل اور جائزہ

ایک اہم سوال یہ ہے کہ یہ موضوع اب ایک بار پھر سرخیوں کا موضوع کیوں بننے لگا ہے اور بے یقیبی کی اس صورت حال کی وجہ سے تہران کے ساتھ بین الاقوامی جوہری معاہدے کے حوالے سے کیا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے؟

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ امریکی صدر کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ جمعہ بارہ جنوری کو یہ اعلان کر دیں گے کہ ایرانی جوہری معاہدے کا حصہ رہنا واشنگٹن کے مفادات کے منافی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس اکتوبر میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ اسی طرح کی بات کر چکے ہیں۔

USA PK Präsident Trump über Atomabkommen mit Iran

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ کو ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کا احاطہ کرنے والے 2015ء کے امریکی قانون INARA کے تحت ہر 90 روز بعد ملکی کانگریس کو اپنے موقف سے آگاہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اس معاہدے کے درست ہونے کو تسلیم کرتے ہیں یا اس سے انکاری ہیں۔

اس طرح اگر ٹرمپ یہ کہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ اس معاہدے کا آئندہ بھی احترام کرتے رہنا چاہیے، تو امریکی کانگریس یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ تہران کے خلاف وہ پابندیاں جزوی طور پر دوبارہ عائد کر دی جائیں، جو اس معاہدے کے بعد سے غیر مؤثر ہیں۔

بات یہ ہے کہ اس معاہدے کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے عائد پابندیاں کانگریس کی سطح پر کبھی ختم کی ہی نہیں تھیں۔ پہلے صدر اوباما اور ان کے بعد ٹرمپ اب تک صرف ان پابندیوں پر عمل درآمد کو عبوری طور پر منسوخ کرتے آئے ہیں اور ایسا ہر 90 روز بعد کیا جاتا ہے۔

امریکا نے داخلی معاملے میں مداخلت کی ہے، ایران

’دنیا دیکھ رہی ہے‘، ایران میں مظاہروں پر ٹرمپ کی تنبیہ

اسی لیے اب اگر صدر ٹرمپ نے ان پابندیوں پر عمل درآمد کو عارضی طور پر رکوانے کے لیے دوبارہ کانگریس کو اپنے ایسے کسی فیصلے سے مطلع نہ کیا، تو انہی پابندیوں کی زد میں نئے سرے سے وہ ادارے، بینک اور تاجر بھی آ جائیں گے، جو ایران کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں۔

Wien Treffen zwischen Kerry und Zarif

امریکی صدر اوباما کے دور میں اس معاہدے کے لیے طویل مذاکرات ویانا میں ہوئے تھے

ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ بہت تنقیدی لہجے میں واضح کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کوئی ایسی دستاویز نہیں جو ہر قسم کی خامیوں سے پاک ہو۔ یہ بات انہوں نے اکتوبر میں اس وقت بھی کہی تھی جب انہوں نے کانگریس کو پچھلی مرتبہ نوے روز کے لیے اپنے موقف سے آگاہ کیا تھا۔

جوہری ڈیل امریکی مفاد میں نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی پالیسیوں کے جواب میں ڈیل سے علیحدہ ہو سکتے ہیں، ایران

اب ٹرمپ کے قریب ترین مشیر، جیسے کہ وزیر دفاع جیمز میٹس اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ امریکی صدر کو ایک بار پھر کانگریس کو بتانا چاہیے کہ وہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی عائد کردہ پابندیوں پر عمل درآمد ایک بار پھر مؤخر کر دے۔ لیکن ذاتی طور پر ٹرمپ کیا فیصلہ کریں گے، یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی۔

دوسری طرف امریکا کے قریب ترین یورپی اتحادی اور اس معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک، مثلاﹰ برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی بالواسطہ طور پر امریکی صدر سے یہ مطالبے کر چکے ہیں کہ وہ آئندہ بھی ایرانی جوہری معاہدے کا احترام کرتے رہیں۔

DW.COM

اشتہار