اگر چین نے حملہ کیا تو امریکا تائیوان کا دفاع کرے گا، جو بائیڈن | حالات حاضرہ | DW | 22.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اگر چین نے حملہ کیا تو امریکا تائیوان کا دفاع کرے گا، جو بائیڈن

ایک ایسے وقت جب چین خطے پر خود کو مسلط کر نے کی کوشش میں ہے امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکا جزیرے کی حفاظت کے لیے پر عزم ہے۔ یہ بیان بظاہر سرکاری پروٹوکول کے برعکس نظر آتا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے 21 اکتوبر جمعرات کے روز کہا کہ بیجنگ کی جانب سے جزیرہ تائیوان پر بڑھتے ہوئے فوجی اور سیاسی دباؤ کے تناظر میں، امریکا تائیوان کے دفاع کا ''عزم'' رکھتا ہے۔ چین اور تائیوان سے متعلق امریکا کی جو پالیسی رہی ہے اس تناظر میں بظاہر یہ بیان سرکاری پرٹوکول کے بر عکس ہے۔ 

صدر جو بائیڈن نے سی این این کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ٹاؤن ہال تقریب میں کہا کہ امریکا تائیوان کے دفاع کے لیے آئے گا، جس نے چین کی خود مختاری کو قبول کرنے کے لیے بیجنگ کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی اور سیاسی دباؤ کی شکایت کی ہے۔

اپنے قوانین کے تحت واشنگٹن تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے ذرائع فراہم کرنے کا پابند تو ہے، تاہم وہ اس حوالے سے طویل عرصے سے اس ''مبہم اسٹریٹیجک'' پالیسی پر عمل پیرا ہے کہ آیا وہ چینی حملے کی صورت میں فوجی مداخلت کرے گا یا نہیں۔

تائیوان پالیسی پر اختلافات

رواں برس اگست میں جب امریکی صدر نے اپنے ایک بیان سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ اگر چین تائیوان پر حملہ کرتا ہے تو امریکا اس کا دفاع کرے گا، اس کے فوری بعد ایک اعلی عہدیدار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تائیوان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی ساکھ کا دفاع کرنے کی کوشش میں کہا، ''چین، روس اور باقی دنیا کو بھی معلوم ہے کہ دنیا کی تاریخ میں، ہم سب سے طاقت ور فوجی قوت ہیں۔''

ان کا مزید کہنا تھا، ''آپ کو جس چیز کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ آیا وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوں گے یا نہیں،

 جو کہ انہیں ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کرے جس کے سبب وہ سنگین غلطی کر سکیں۔''

انہوں نے کہا، ''ہم چین کے ساتھ سرد جنگ کے قائل نہیں ہیں۔ ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ چین یہ بات سمجھ لے کہ ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور یہ کہ ہم اپنے خیالات بھی تبدیل کرنے والے نہیں ہیں۔'' 

 ص ز/ ج ا (اے پی، ڈی پی اے)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات