اگر دیوار برلن نہ گرتی تو ۔۔۔ انگیلا میرکل کا خواب کیا تھا؟ | معاشرہ | DW | 08.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

اگر دیوار برلن نہ گرتی تو ۔۔۔ انگیلا میرکل کا خواب کیا تھا؟

منقسم جرمنی کی سرحد پر تعمیر کردہ دیوار برلن اگر تیس سال قبل نہ گرتی تو انگیلا میرکل اب کیا کر رہی ہوتیں؟ میرکل کا خواب کیا تھا؟ وہ اس وقت شاید امریکا کی سیاحت کر رہی ہوتیں مگر کسی امریکی ساختہ گاڑی میں تو بالکل نہیں۔

جرمن سیاسی جماعت سی ڈی یو کی سربراہ کے طور پر انگیلا میرکل کی دو ہزار چار میں لی گئی ایک تصویر، بائیں طرف، اسی پارٹی کی ایک صوبائی وزیر آنیٹے شاوان

جرمن سیاسی جماعت سی ڈی یو کی سربراہ کے طور پر انگیلا میرکل کی دو ہزار چار میں لی گئی ایک تصویر، بائیں طرف، اسی پارٹی کی ایک صوبائی وزیر آنیٹے شاوان

سرد جنگ کے دور میں ماضی کی دو حریف جرمن ریاستوں، سابقہ مشرقی جرمنی اور سابقہ مغربی جرمنی کے درمیان برلن کے منقسم شہر میں تعمیر کردہ دیوار نو نومبر 1989ء کے روز گرا دی گئی تھی۔

Merkel Galerie Bild2

متحدہ جرمنی کی ایک وفاقی وزیر: انگیلا میرکل انیس سو بانوے میں

اس کے تقریباﹰ صرف 11 ماہ بعد ہی تین اکتوبر 1990ء کو دونوں جرمن ریاستوں کا باقاعدہ اتحاد عمل میں آ گیا تھا اور جرمنی پھر سے ایک متحدہ ملک بن گیا تھا، لیکن دوسری عالمی جنگ سے پہلے کے زمانے کے مقابلے میں ایک وفاقی پارلیمانی جمہوری ریاست۔

دیوار برلن کے انہدام کا تاریخی واقعہ دنیا میں بہت بڑی بڑی تبدیلیوں کی وجہ بنا تھا۔

اب اس دیوار کے خاتمے کے تین عشرے مکمل ہونے کے موقع پر جرمن جریدے ڈئر اشپیگل نے موجودہ چانسلر انگیلا میرکل کا ایک انٹرویو کیا۔ اس انٹرویو میں بہت سے سنجیدہ سیاسی اور سماجی معاملات پر بھی سوال جواب ہوئے، لیکن چند سوالات غیر سیاسی، بڑے منفرد اور بہت دلچسپ بھی تھے۔

ایسے ہی ایک سوال میں اس ہفت روزہ جرمن جریدے کے صحافی نے چانسلر میرکل سے پوچھا، ''اگر دیوار برلن نہ گرتی، تو آج آپ کہاں ہوتیں اور کیا کر رہی ہوتیں؟‘‘

Audioslideshow Helmut Kohl

میرکل انیس سو چورانوے میں اس دور کے جرمن چانسلر کوہل کے ہمراہ

اس پر انگیلا میرکل کا جواب تھا، ''میں جرمن چانسلر کے طور پر اپنی ذمے داریوں سے کہیں بہت دور، ایک مختلف دنیا میں، مشرقی جرمن میں بنی ہوئی کسی ترابانت گاڑی میں امریکا کی کسی بڑی طویل ہائی وے پر ڈرائیونگ کرتے ہوئے برُوس اسپرنگسٹین کے گیت سن رہی ہوتی، لیکن میرے استعمال میں امریکا کی بنی ہوئی کوئی گاڑی تو بالکل بھی نہ ہوتی۔‘‘

پھر ڈئر اشپیگل نامی جرمن نیوز میگزین کے صحافی نے انگیلا میرکل سے یہ بھی پوچھا، ''اگر جرمنی منقسم ہی رہتا، تو انگیلا کا مستقبل کیا ہوتا؟‘‘

اس پر انگیلا میرکل نے بڑی خوش دلی سے مذاق کرتے ہوئے کہا، ''اور جو کچھ بھی ہوتا، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ پھر میری آپ سے اس وقت یوں ملاقات نہ ہو رہی ہوتی۔‘‘

ایک اور ملتے جلتے سوال کے جواب میں چانسلر میرکل نے کہا کہ اگر ماضی ویسا نہ ہوتا جیسا وہ تیس سال قبل ہو گیا تھا، تو پھر وہ اپنے 'خوابوں کو حقیقت کا روپ‘ دیتیں۔ انہوں نے کہا، ''میں چاہتی تھی کہ بیرون ملک اپنے پہلے طویل سیاحتی دورے کے لیے امریکا جاؤں۔‘‘

انہوں نے اپنی اس پسند کی وضاحت یوں کی، ''میں امریکا کی جغرافیائی وسعت، ثقافت اور تنوع کی وجہ سے وہاں طویل سیاحت کے لیے جانا چاہتی تھی، اس لیے بھی کہ مثلاﹰ روکی ماؤنٹینز دیکھوں  اور ہائی ویز پر گاڑی چلاتے ہوئے مشہور امریکی گلوکار برُوس اسپرنگسٹین کے گیت سنوں۔‘‘

سابقہ مشرقی جرمن ریاست (جی ڈی آر) میں جوان ہونے والی اور اس وقت 65 سالہ انگیلا میرکل کی گاڑیوں کے حوالے سے بھی اپنی ہی خاص پسند ہے۔ کیا وہ امریکا کے اپنے طویل سیاحتی دورے کے لیے امریکا ہی میں بنی ہوئی کسی گاڑی کا انتخاب کرتیں؟

اس پر چانسلر میرکل نے مسکرا کر انکار کرتے ہوئے اور مذاقاﹰ منت سماجت کے سے لہجے میں کہا، ''نہیں نہیں، میں چھوٹی کاریں زیادہ پسند کرتی ہوں اور (سابقہ مشرقی جرمنی کی بنی ہوئی) کسی ترابانت سے زیادہ بہتر کوئی دوسری گاڑی بھلا کون سی ہو سکتی تھی؟‘‘

م م / ش ح (اے پی، روئٹرز)

DW.COM